مجھے اندازہ ہے کہ میرے حلقۂ احباب میں ڈاکٹر صاحبان کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔۔!!!
میں مانتا ہوں کہ کئی ڈاکٹروں سے ذاتی طور پر میرے اچھے تعلقات بھی ہیں۔۔۔!!!!
میں یقین کیساتھ لکھنے لگا ہوں کہ تمام ڈاکٹرز کو مورد الزام ٹھرانا بھی ناانصافی ہے۔۔۔!!!
اگرچہ تعداد میں کم ہی سہی لیکن ڈاکٹر طبقہ میں چند مجاہدِ انسانیت مسیحا بھی پائے جاتے ہیں۔۔۔!!
لیکن حق لکھنے کی جگہ پر انگلی کرنا سب سے بڑی نا انصافی ہوگی۔۔۔!!!
مجھے لکھنا پڑ رہا ہے کہ صدیقہ کے معصوم چہرے نے میرے جذبات پر تھپڑوں کی بارش کردی ہے۔
آج نہ میں ڈاکٹروں کے کالے دھندوں پہ لکھونگا نہ دواساز کمپنیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ پر اور نہ دواؤں کی قیمتوں پر بلکہ آج مجھے ایک رویے پر لکھنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں بدھ کے روز درد کے آگے شکست خوردہ صدیقہ ریزہ ریزہ خوابوں کیساتھ موت کے منہ میں چلی گئی۔
عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر گردی کے نشے میں دھت ڈاکٹر صاحبان ہڑتال پر تھے ہسپتال سُنسان پڑے تھے اگرچہ جہاں جہاں پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتال ہیں اور روپیہ بنانے کی ذاتی مشینیں لگائی گئی ہیں وہاں پر صاحب ثروت لوگوں کو سہولیات بطریق احسن صد فیصد بلا ناغہ میّسر تھیں۔۔!!!!
اب اُن بد بختوں کا کیا کیا جائے جو ربڑ کے پھٹے جوتوں پر تازہ ٹانکے لگواکر دور دراز علاقوں سے مریض کو چارپائی پر باندھ کر اس امید کیساتھ سرکاری ہسپتال پہنچتے ہیں کہ تبدیلی سرکار نے عوام کو ہسپتال کی نئی عمارت مہیا کردی ہے جہاں پر غریبوں کو مفت علاج کیساتھ ساتھ مفت دوائیاں بھی فراھم کردی جاتی ہیں۔۔۔!!!
ہے کوئی حل ؟
کسے وکیل کرے کس سے منصفی چاہے؟؟؟؟
بارہ سالہ صدیقہ دو دن سے ہسپتال میں ایڑیاں رگڑتے رگڑتے انتہائی کرب ناک و اذیت ناک درد سے لڑتے لڑتے زندہ باد و مردہ باد کے گونجتے نعروں کے شور میں جان سے چلی گئی۔۔۔!!
بلکہ سچ کہوں تو ماردی گئی۔۔!!!!
صدیقہ کا معصوم چہرہ دلِ صاحبِ اولاد سے یہ جواب مانگ رہی ہے کہ صدیقہ نے کس جرم کی سزا پائی ؟؟؟
اس سوال کا جواب معاشرہ کے ہر فرد نے دینا ہوگا کہ جب سیاسی نمائندگان ہڑتال کے دوران اپنی سیاہ ست چمکانے کیلئے ہسپتال آئے تھے تو کیا واقعی انہیں فکر شریف لاحق تھی کہ صدیقہ ایڑیاں رگڑ رہی ہے؟؟؟ یا سیاہ ست گردی کے چکر میں فوٹو سیشن اور میڈیا سیشن کرانے آئے تھے۔۔۔؟؟؟؟
ان نمائندگان نے جب بیچ سڑک احتجاج برائے احتجاج کا سٹیج لگوایا تھا اور ہجوم کو مخاطب کرکے داد وصولی کا روائتی اسٹنٹ مار رہے تھے تو وہاں پر ہجموم میں کھڑے افراد کے بدبودار منہ سے نکلنے والے زندہ باد ، مردہ باد کے نعرے کیا واقعی صدیقہ جیسے معصوموں کے حقوق طلبی کیلئے تھے۔۔۔؟؟؟
ڈاکٹرز کی طرف سے احتجاج کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مسیحا کہلائے جانے والے ان ڈاکٹروں میں سے ایک فرد کی عزت پر کسی دوسرے سرکاری ڈیپارٹمنٹ کے ایک فرد نے سڑک کنارے ضرب لگائی تھی لہٰذا احتجاج کے ذریعے اوقات دکھانا لازمی تھا۔
ایک دفعہ پھر وضاحت کئے دیتا ہوں کہ دونوں سرکاری شخصیات کی تلخ کلامی یا “تُو تُو میں میں” کا واقع سڑک کنارے ٹریفک جام کے تنازعہ پر آیا تھا جبکہ ہڑتال سرکاری ہسپتال کے فرائض سے کی گئی وجہ واضح ہے کہ تنخواہ اور دیگر سرکاری مراعات سے ہرتال والے دن کی کٹوتی نہیں کی جاتی۔۔۔!!!
دوسری بات ہسپتال میں عموماً وہ لوگ علاج کرانے جاتے ہیں جن سے مالی فائدے کا امکان بہت کم ہوتا ہے مطلب غیر ضروری کمیشن یافتہ لیبارٹری ٹیسٹ اور ایکسرے پر پیسے لگانے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر۔۔!!!
نتیجتاً بھاڑ میں جائے صدیقہ جیسے مسکین و غریب معصوموں کی آہ و پکار اور بھاڑ میں جائے درد کے آگے شکستہ لاشوں پر نوحہ کناں والدین اور لواحقین۔۔۔!!!
ان کیلئے سرکاری ہسپتال میں “ڈاکٹر گردی” کے طاقت کا مظاہرہ ضروری تھا ۔۔۔!!!
کیونکہ وطن عزیز میں سیاست نے اُلٹی طرف سے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ہر شہری کو سیاست سیاست کھیلنے کا شوق ہوا چلا ہے ہر قسم کے بے معنی تقریر پر بھی تالیوں اور داد وصولی کے سُریلے مدُھر لے میں ایسے مست ہیں کہ تکلیف کنندہ کے جذبات سے کھیلنا ایک روایت بن چکی ہے اور تمام سرکاری و غیر سرکاری شعبہ جات میں بھونڈی سیاست نے اپنی جڑیں مظبوط کر رکھی ہے۔
حالانکہ میرے ناقص علم کے مطابق شعبہ طب جیسے ذمہ دار ادارے کے اندر سیاسی سرگرمیوں اور تنظیم سازی کے لئے ممبرز کے حصول کا داؤ پیچ شعبہ طب کے فطرت کے عین منافی اور قطعی بر خلاف ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ڈاکٹر ایک ایسے منصب کا نام تصور کیا جاتا ہے کہ معالج کسی بھی قسم کے حالات میں اپنے تمام تر صلاحیتوں کو انسانی جانوں کے بچاؤ میں لگانے کا پابند ہوگا۔
اب ایسا بھی نہیں کہ مہذب دنیا میں احتجاج نہیں ہوتے۔۔!!
بھئی احتجاج ہر شہری کا ریاستی حق ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے احتجاج کے راستے اپنا پیغام ذمہ داران تک پہنچایا جائے۔
اور احتجاج کوئی بُرا عمل نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پُرامن احتجاج زندہ قوموں کی نشانی ہے لیکن شعبہ طب جیسے ذمہ دار ادارے کے سروسز کو عام عوام کیلئے معطل کرنا احتجاج نہیں بلکہ “ڈاکٹر گردی” ہے مہذب دنیا کے ہسپتالوں میں عملہ کی طرف سے فرائض منصبی کو معطل کرکے احتجاج نہیں کئے جاتے بلکہ دوران ڈیوٹی ہاتھ پر کالی پٹی باندھ کر احتجاج کئے جاتے ہیں ۔۔۔!!!
مگر۔۔۔!!!
ھم جـــو انسانــــوں کــــی تہذیب لئے پھــــــرتے ہیں۔!!!
ھم سا وحشی کی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں۔۔!!
اب صدیقہ کی لاش گود میں لئے انسانیت سوالیہ نظروں کیساتھ درندوں کی کھڑکی پر منتظر کھڑی ہے۔۔!!!!
انسانیت نے سوال اٹھایا ہے اور انسانیت سوال کا جواب مانگ رہی ہے کہ ۔۔۔!!!
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ۔۔۔؟؟؟؟؟
کوئی ہے جو اس تلاش میں مدد کرے ۔۔۔؟؟؟؟
از قلم : آصف شہزاد (مینگورہ سوات)
1,022 total views, no views today


