نواز شریف صاحب کے ’’ہینڈ پکڈ‘‘وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں ایک تحریری بیان دیا ہے کہ سرکاری ملازمین اور پنشن پانے والے بوڑھے عوام آنے والے بجٹ سے کوئی اُمید نہ باندھیں، کیوں کہ تن خواہوں اور پنشن میں اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
کیا ہم بوڑھے پنشنیئرز ڈار صاحب سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ آپ کب سے خدا بن گئے ہیں؟ روزی دینے والا اور زیادہ و کم کرنے والا تو کوئی اور ہے، جو معبودِ خلائق ہے اور ملک و رازق ہے۔
کیا یہ بیان دیتے وقت آپ اپنے خود میں تھے کہ آپ کو ذرا بھی خوف خدا نہ رہا۔ ابھی تو بجٹ آنے میں دو مہینے باقی ہیں۔ انسان کو اگلی سانس کا علم بھی نہیں ہوتا اور آپ اتنی دور کی کوڑی لارہے ہیں۔ دو مہینے میں کچھ بھی تو ہوسکتا ہے۔ ڈرو اس وقت سے جب آپ کے آقائے ولی نعمت اپنے خدام، باورچیوں اور کنیزوں کے پورے لشکر کے ساتھ روتے ہوئے جدہ چلے گئے تھے اور وہاں پر شاہی ٹکڑوں کے محتاج ہوگئے تھے۔ اس ساری ’’ٹیک اوور‘‘ میں کتنا وقت لگا تھا۔ آدھ گھنٹہ یا اس سے بھی کم۔ آپ کے خزانے میں پارلیمنٹرین کے ’’دست خوشی‘‘ کے لیے اربوں روپے تو موجود ہیں، لیکن سرکاری ملازمین کی دل جوئی کے لیے ہزار بارہ سو روپیہ نہیں ہے۔
آپ جیسے نا اہل وزیروں اور مشیروں کی موجودگی میں نواز شریف صاحب کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں۔ مجبوروں کی بد دعاؤں کو حقیر مت سمجھو، ان کی بد دعاؤں سے بڑے بڑے برج الٹ کر زمین بوس ہوسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو کیوں غلط فہمی ہوگئی ہے کہ اس بار وہ نہیں ہوگا، جو پہلے دوبار کے اقتدار میں آپ کے ساتھ ہوا تھا۔ اور آپ پھر یوسف بے کارواں بن جائیں گے۔
برسبیل تذکرہ، کسی گاؤں میں ایک غریب سا اور نہایت سادہ شخص تھا۔ گاؤں کے لوگ اُسے نام کے بجائے ’’خر‘‘ کہہ کرپکارتے تھے۔ ایک دن اُس کی بیوی نے اُسے کہا: ’’نیک بخت، کسی دن ہمت کرکے گاؤں کے جرگہ سے کہو کہ وہ تمھیں کوئی اور اچھا سا نام دیں۔ یہ ’’خر‘‘ بھی کوئی نام ہے‘‘۔ وہ بے وقوف جرگے کے ارکان سے فرداً فرداً ملا اور اُن سے اپنے نام کی تبدیلی کے لیے درخواست کی۔ جرگے کے ممبران نے اُس کو یقین دلایا کہ ہم اس بارے میں غور کرکے تیرے لیے کسی مناسب نام رکھنے کا فیصلہ کریں گے۔ چند روز بعد جرگے نے اُسے بلا کر کہا کہ ہم نے کافی غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ آج سے آپ کا نام ’’کُچے‘‘ ہوگا۔ یاد رہے کہ کُچے، گدھے کے چھوٹے بچے کو کہتے ہیں۔ وہ شخص خوشی خوشی، اینٹھتا ہوا بڑے فخریہ انداز میں گھر آگیا۔ گھر کے صحن میں اُس کے بیوی بچے متوقع فیصلہ جاننے کے لیے جمع ہوگئے تھے۔ اُس نے اعلان کیا کہ ’’جرگہ‘‘ نے اُس کا نام تبدیل کرکے ’’کُچے‘‘ رکھ لیا ہے۔ اُس کی بیوی نے ناک بھوں چڑھا کر کہا: ’’خوار شے! تم کس بات پر اس قدر اینٹھتے ہو۔ سال بھر بعد تم پھر گدھے بن جاؤگے۔‘‘
کہیں اسحاق ڈار صاحب کا اس طرح کے بیان سے یہ مقصد تو نہیں کہ سرکاری ملازمین سڑکوں پر نکل آئیں اور امن عامہ کی صورت حال میں بگاڑ پیدا ہو۔ کچھ گرما گرمی اور کچھ گرفتاریاں ہوں۔ پھر برائے نام سی مراعات کا اعلان کرکے احتجاج کرنے والوں کی اشک شوئی کی جائے۔ اور اگلے بجٹ تک ان کا منھ بند کیا جائے اور اگر واقعی وہ اپنے بیان پر مصر ہو اور اُن کا وہی ارادہ ہو، جو اس تحریری اعلان میں ظاہر کیا گیا ہے، تو یقیناًیہ کوئی اچھی صورت حال نہیں۔ یہ نواز حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں۔
ایک طرف تو وزیراعظم کو اپنی ذاتی حیثیت میں اربوں ڈالر کی امداد مل رہی ہے، تاکہ وہ ملک کی بگڑتی ہوئی اکانومی کو سنبھالا دے سکے۔
دوسری طرف امریکی امداد میں مسلسل کٹوتی ہو رہی ہے۔ اس طرح اسحا ق ڈار صاحب، آئی ایم ایف کے احکامات کا غلام بن کر عوام کی چمڑی اُدھیڑنے میں لگا ہوا ہے۔ بجلی کے نرخ بڑھائے جا رہے ہیں۔
اُدھر آئی ایم ایف ’’ہل من مزید‘‘ کا نعرہ لگا رہا ہے کہ ’’نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز‘‘ بجلی کی سبسڈی بند کرو۔ تیل کی سبسڈی بند کرو۔ کھاد کی سبسڈی بند کرو اور اس سارے گھمبیر صورت حال میں وطن عزیز کے دشمن، مختلف گروہوں کی صورت میں، تباہی و بربادی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ غارت گری روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے اور لسانی بنیادوں پر پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی تحریکیں، بیرونی قوتوں کی شہ پر اُٹھ رہی ہیں۔ آئے دن نئے نئے مطالبات آرہے ہیں۔ اور تو اور جو تنظیمیں کالعدم قرار دی گئی تھیں، وہ پھر سے فعال ہوگئی ہیں اور حکومتی رٹ کا منھ چڑ ا رہی ہیں۔ ملک میں مذہب کے نام پر انسانی خون بہانے کے اہتمام ہورہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں انسان نہیں رہتے بلکہ مختلف فرقوں کی مخلوق رہتی ہے، جو ایک دوسرے کے خون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہاں کچھ لوگ خون پی پی کر ’’ویمپائرز‘‘ بن چکے ہیں۔ ایسی نازک صورت حال میں ڈار صاحب سے گزارش ہے کہ آپ اپنی طاقت کا اور اقتصادیات کے علم کا زور غریب سرکاری ملازمین اور بوڑھے پنشنرز پر صرف نہ کریں۔
تاریخ میں اسحاق نامہ کے علاوہ ’’ضحاک‘‘ نام کا ایک سخت گیر حکم ران بھی تو گزرا ہے، جس کے دونوں کندھوں پر سانپ اُگ آئے تھے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,173 total views, no views today


