مثل مشہور ہے کہ ’’جان ہے تو جہان ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ جسم کو مختلف بیماریوں اور عوارض سے بچانے اور جسم کو صحت مند اور جان کو بر قرار رکھنے کی خاطر کوششیں اور علاج زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔ مختلف ادوار اور مختلف علاقوں میں بیماریوں کے تدارک اور علاج معالجہ کی خاطر مختلف طریقے اور ادویہ کا استعمال کیاجاتا رہا ہے، جن میں سے ایک جدید دور کا ایلوپیتھک یا مغربی طریقہ علاج ہے۔ سوات میں یہ طریقۂ علاج 1895ء میں انگریزوں کا ملاکنڈ و چکدرہ میں فوجی قلعوں کی تعمیر اور ملاکنڈ میں لیڈ ی منٹوسوات اسپتال کے قیام کے ساتھ متعارف ہوا۔ تاہم بالائی وادئ سوات یا موجودہ ضلع سوات کے علاقے میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور روایتی طریقۂ علاج ہی جاری رہا۔
ریاست سوات کے قیام اور با چا صاحب کو اس کا حکم ران بنائے جانے کے بعد جب باچا صاحب کی پوزیشن بحیثیت حکم ران مستحکم ہوئی، تو آپ نے صحت کے شعبے پر بھی توجہ مرکوز کی۔ اس بابت لوگوں کو صحت کی جدید سہولیات بہم پہنچانے کی خاطر 1927 ء میں سیدو شریف میں پہلی باقاعدہ ڈسپنسری یا اسپتال قائم کیا گیا ۔ بعد ازاں ریاست سوات ہی کے دور میں کئی ایک اسپتال اور ڈسپنسریاں ریاست کے علاقوں میں قائم کی گئیں۔ اس طرح ایک رپورٹ کے مطابق 1968ء میں ریاست میں کل سولہ اسپتال اور پینتالیس ڈسپنسریاں تھیں، جہاں داخل و خارج مریضوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم تھیں۔ جب کہ داخل مریضوں کو چائے و کھانا بھی مفت ہی فراہم کیا جاتا تھا۔ ان میں بڑے اسپتال، سیدو شریف اسپتال اورسینٹرل سٹیٹ اسپتال تھے جو کہ سیدو اسپتال اور سنٹرل اسپتال کے ناموں سے مشہور تھے۔
1969ء میں ریاست سوات کے ادغام کے بعد ان دو اسپتالوں کے انچارج ڈاکٹر نجیب اللہ صاحب (ایف آر سی پی) کی کوششوں کے نتیجے میں انھیں سیدو گروپ آف ہاسپٹلز کی خصوصی حیثیت ملی، جس کی وجہ سے یہاں ڈ سٹرک ہیڈ کوار ٹر اسپتالوں کے مقابلے میں صحت کی بہتر سہولیات اور زیادہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ یاا سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی ممکن ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے شعبہ جات کی طرح محکمہ صحت اور ان اسپتالوں میں بھی ریاست سوات والی صورت حال اور سہولیات کا سلسلہ ختم ہونے لگا۔ جب کہ دوسری طرف آبادی کے بے تحاشا بڑھنے، خاص کر دیگر علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگوں کی سوات نقل مکانی اور یہاں آباد ہونے کی وجہ سے ان اسپتالو ں پر بوجھ بڑھنے لگا اور اتنی بڑی آبادی کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی ناممکن ہو گئی۔
اس دوران میں سیدو شریف میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں آیا۔ ظاہر ی بات ہے کہ میڈیکل کالج کے لیے درکار لوازمات میں سے ایک اعلیٰ تعلیم یا فتہ و تربیت یافتہ تدریسی عملے اور دوسرا ایک تدریسی اسپتال کا ہو نا بھی تھا۔ اس طرح سیدو میڈیکل کالج کے ساتھ تدریسی اسپتال کی تعمیر بھی نا گزیر تھی، جس کے لیے ابتدائی طور پہ سیدو شریف اسپتال میں ایک بڑے بلاک کی تعمیر کا کام ایم ایم اے دور حکومت میں شروع ہوا، تاہم اے این پی دور حکومت میں اس کام میں سست روی (وجہ جو بھی ہو) کی وجہ سے یہ کام بروقت مکمل نہ ہو سکا اور یہ عمارت ابھی تک زیر تعمیر ہے۔
اس پس منظر میں 26 مارچ 2014 ء کو امجد علی سحابؔ کا کالم ’’ساڑھے چودہ کروڑ کا دھچکا‘‘، ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ پہ شائع شدہ، ایک نئی بات کوسامنے لے آیا جو کہ زیر تعمیرتدریسی اسپتال کی تعمیر کے بروقت مکمل نہ ہونے کے سبب دل کے مریضوں کی خاطر یہاں کے لیے منظور شدہ (Cath Lab) Angiography Machine ، جس کے لیے درکار رقم مالی سال 2013-14 ء کے بجٹ میں مختص ہوئی تھی، کی خریداری اور تنصیب کے کام کا کٹائی میں پڑ جانا یا رک جانا ہے۔ اس کی بہ ظاہر وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چوں کہ نئی عمارت کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی ہے اور چوں کہ اس تکمیل کے بغیر اس مشین کی تنصیب نہیں ہوسکتی، لہٰذا اس کے خرید کو ہی ٹالا جائے۔
چوں کہ سحابؔ نے اپنے کالم میں راقم کو بھی اس ضمن میں لکھنے کے لیے کہا تھا، لہٰذا اس بابت لکھنے سے قبل صورت حال کو خود سمجھنا لازمی تھا۔ اس بابت راقم نے 31 مارچ 2014ء کو سیدو شریف میں تدریسی اسپتال کی زیر تعمیر عمارت کا دورہ کیا اور اس کے بعد مذکورہ انجیو گرافی مشین کی تنصیب کے لیے درکار لوازمات اور رواں مالی سال میں اس کے خریدنے اور یا نہ خریدنے کے ضمن میں معلومات کی حصول کی کوشش کی۔
زیر تعمیر عمارت کے معائنے کے وقت یہ بات عیاں ہوئی کہ تعمیراتی کام انتہائی سست روی سے جاری ہے۔ لہٰذا ایک تو اس عمارت کی تکمیل کے سارے مراحل ، اگر کام اس رفتا ر سے جاری ہو، مئی و جون 2014 ء تک ممکن نظر نہیں آتا، لیکن اگر یہ جون تک مکمل بھی ہو جائے، تو قاعدے و ضابطے کے تحت سی این ڈبلیو کا اس کو منظور کیے جانے اور محکمہ صحت کو اس حوالگی میں کافی وقت لگے گا۔ لہٰذا اس صورت حال میں مذکورہ مشین کی خرید اور تنصیب واقعی خطرے میں ہے۔ جب کہ باوثوق ذریعے کے مطابق سیکرٹری محکمہ صحت نے بھی کہا ہے کہ چوں کہ اسپتال کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی ہے، لہٰذا رواں مالی سال میں مذکورہ مشین کی خرید کے لیے رقم فراہم نہیں کی جاسکتی۔
تاہم اس ضمن میں حاصل کردہ معلومات کے تناظر میں اس بابت چند ایک اور آپشن بھی موجود ہیں، جن میں سے کسی بھی ایک کو اپناتے ہوئے رواں مالی سال میں انجیو گرافی کی مذکورہ مشین کو خریدا جا سکتا ہے اور اس کے لیے مختص کی ہوئی رقم کو منجمد کرنے اور یا اس کے سوخت( لیپس) ہونے کی نوبت کو ختم کیاجا سکتا ہے۔
پہلا آپشن یہ ہے کہ مذکورہ مشین کو خرید کر اسے سیدو شریف اسپتال کی پرانی عمارت میں نصب کیا جائے۔ لیکن اس بابت کہا جاتا ہے کہ چوں کہ نئی زیر تعمیر عمارت کی تکمیل کے بعد سیدو شریف اسپتال کی پرانی عمارات کو ڈھایا جائے گا، لہٰذا اس وجہ سے اس کی تنصیب وہاں ممکن نہیں۔ اس لیے کہ پرانی عمارات کو ڈھانے سے قبل اس مشین کووہاں سے نکال کر نئی عمارت میں پھر سے نصب کیا جانا پڑے گا۔ اگرچہ تنصیب کا یہ دوہرا عمل اتنامشکل یا ناممکنات میں سے نہیں، پھر بھی اگر یہ نا قابل عمل تصور کیا جاتا ہو، توبھی اس بہانے یا وجہ سے مذکورہ مشین کی خرید کو روکنے یا اس کے لیے مختص کی ہوئی رقم کو منجمد کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس لیے کہ دو دوسرے آپشن پھر بھی موجود ہیں۔
ان دو آپشنوں میں سے ایک یہ کہ چو ں کہ مذکورہ مشین کو نئی عمارت کے ایک خاص حصے یا کمرے یا مخصوص جگہ میں نصب کیاجائے گا، لہٰذا اس متعلقہ جگہ پر تعمیراتی کام ہنگامی بنیادوں پر کراکے اسے جلد ہی مکمل کیا جا سکتا ہے اور اس میں مذکورہ مشین کو نصب کیا جاسکتا ہے۔ اور اس آپشن کو ناممکن خیال کیے جانے کی صورت میں اس مشین کو خرید کرکمپنی سے آئی ہوئی بند حالت میں کسی گودام یا کمرے میں رکھا جائے اور جب زیر تعمیر عمارت مکمل ہو جائے اور محکمہ صحت کو سپر د کی جائے، تو اس کے بعد اسے نصب کیا جائے۔ لہٰذا رواں مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ مشین کے لیے مختص کی ہوئی رقم کے منجمد کرنے یا سوخت (لیپس) کرنے اور یا مذ کورہ مشین کو نہ خریدنے کی کوئی بھی معقول وجہ اور جواز نہیں۔
مشین مذکورہ کے اس مسئلے سے متعلق معلومات کے حصول کی کوشش کے وقت بعض دوسرے امور و مسائل بھی سا منے آئے جو کہ سوات میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ لہٰذا ان کا ذ کر بھی ضروری ہے۔ شائد کہ اس حوالے سے بھی محکمۂ صحت، متعلقہ حکام اور ارباب اختیار کچھ کر پائیں۔
ان امور و مسائل میں سرفہرست سیدو گروپ آف ہاسپٹلز میں کیجولٹی اور ایمر جنسی سے متعلقہ امور ہیں۔ چوں کہ فی الوقت کیجولٹی نہ تو پورے اور صحیح طور درکار لوازمات اور ساز و سامان سے لیس (ایکویپٹ) ہے اور نہ یہاں ایمرجنسی میڈیسن یا ایکویپمنٹس میں تربیت یافتہ عملہ (ٹرینڈ اسٹاف) میسر ہے۔ لہٰذا مذکورہ کیجولٹی کو صحیح اور پوری طرح درکار لوازمات اور سازوسامان سے لیس کرنا اور بہتر تربیت یافتہ ایمرجنسی میڈیسن اسٹاف کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر کرنالازمی ہے۔
کیجولٹی میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر ای سی جی کو ٹھیک طور پڑھ(ریڈ) نہیں سکتے۔ اس کا حل یہ ہے کہ کیجولٹی میں لے گئیں ای سی جیز کو ای سی جیز کے ماہر کو بھیجا جائے اور وہ ان کو ریڈ کرلیں جو کہ آسانی سے اس طرح ہو سکتا ہے کہ ان ای سی جیز کو ایک اچھے مشین سے اسکین کرکے ای میل کے ذریعے متعلقہ ماہر کوبھیجا جائے، جو اسی وقت ہی اسے مشاہدہ کرکے کیجولٹی میں موجود عملہ کو اس بابت درکار ہدایات دیں۔ ا س طرح ای سی جی کے ذریعے مرض کی شدت کی صحیح تشخیص کرکے بروقت صحیح علاج ہی تجویز اور فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ ای سی جی کی غلط تشخیص کی وجہ سے مریض نقصان اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
دل کے دورہ میں گھر سے انجکشن تک کا وقت (Door to needle time) بہت اہم اورنازک ہو تا ہے۔ یہ جتنا بھی کم ہو، نتیجہ اتنا ہی بہتر ہو تا ہے۔ جتنے ہی کم وقت میںیہ انجیکٹ ہو جائے اتنا ہی بہتر نتیجہ دیتا ہے۔ ڈی سی شاک (ڈائریکٹ کرنٹ شاک) کے آپریٹس Defebrillator کا کیجولٹی میں ہونا لازمی ہے۔ اس سہولت کی کیجولٹی میں موجود ہونے کی صورت میں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
علاوہ ازیں سوات میں ایچ سی وی او ایچ بی وی یعنی کالا یر قان عام ہے۔ ان کے جو مریض گھمبیر ، پیچیدہ اور خطرناک صورت میں کیجولٹی آتے ہیں، ان کو بہت زیادہ قے آتا ہے۔ تاہم سیدو گروپ آف ہاسپٹلز کی کیجولٹی بلکہ ان دو اسپتالوں میں کسی اور جگہ بھی اس بابت کوئی انتظام نہیں۔ اس کے لیے ایمرجنسی انڈا سکوپی لازمی ہے، تاکہ آنے والے خون کو بند کیا جائے۔ جب کہ مذکورہ کیجولٹی میں نہ تواس کا کوئی ماہر (ایکسپرٹ) ہے اور نہ سہولت ہی موجود ہے۔ کیجولٹی میں دمہ کے دورہ (asthma attack) کے لیے نیبو لائزر کا ہونا بھی لازمی ہو تا ہے۔
کیجولٹی کا انچارج کم از کم اسپیشلسٹ ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہے۔ عام ڈاکٹر کیجولٹی کا انچارج نہیں ہو سکتا۔ کیجولٹی میں ریزیڈنٹ کنسلٹنٹ بھی ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میںیہ نظام رائج ہے کہ ریزیڈنٹ کنسلٹنٹ جیسا کہ ایک سرجن، گائنی کالوجسٹ، میڈیکل اسپیشلسٹ، پیڈز کا ماہر وغیرہ ہر وقت کیجولٹی میں موجود ہوتا ہے۔ بے شک اس بابت کیجولٹی ڈاکٹر وں کو مراعات( انسینٹیوز) بھی دینے چاہئیں۔ مثلاً ان کی تنخواہ کم از کم ڈبل ہونی چاہیے۔ تاہم چوں کہ سیدو گروپ آف ہاسپٹلز میں ان فیلڈز کے اسپیشلسٹ کا فی تعداد میں موجود ہیں، لہٰذا ہر فیلڈ کے ایک ماہر کا روٹین میں باری باری کیجولٹی میں ڈیوٹی دینا نا ممکن نہیں اور یہ انتظام آسانی سے ہو سکتا ہے۔
کیجولٹی سے ٹیسٹوں کو اسپتال سے باہر کی لیبارٹریوں میں بھیجنے کے بہ جائے کیجولٹی ہی میں اپنی لیبارٹری کا ہونا ضروری ہے۔ بے شک کہ لوگوں سے ان ٹیسٹوں کی فیس لی جائے، لیکن ٹیسٹو ں کی سہولت کیجولٹی ہی میں دست یاب ہو۔
واضح رہے کہ عوام بھی کیجولٹی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً غیر ضروری یا عام مریض بھی کیجولٹی آتے ہیں، جس کی وجہ سے کیجولٹی پر کام کا بوجھ حد سے بڑھ جاتا ہے۔ اس بابت کیجولٹی میں آنے والے مریضوں کی اسکریننگ ہو سکتی ہے کہ جو شدید یا خطر ناک حد تک بیمار ہو، اسے سبقت دی جائے اور دوسروں کو بعد میں درجہ بہ درجہ ڈیل کیا جائے۔ اور صاحب استطاعت لوگوں کو کیجولٹی میں کچھ نہ کچھ فیس یا چارجز دینے چاہئیں، اس لیے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مفت معیاری طبی سہولیات کی فراہمی قابل عمل نہیں۔ علاوہ ازیں مریض کے ساتھ تیمار داروں کی بڑی تعداد آتی ہے جو کہ اسپتال کی سہولیات جیسا کہ ٹائلٹ وغیرہ پر بوجھ بن جاتے ہیں ۔
ان اسپتالوں میں ایک خاص میڈیکو لیگل ایکسپرٹ بھی ہونا چاہیے، جو کہ اس فیلڈ میں ٹرینڈ افسر ہو۔ اس طرح ایسے کیسوں میں دوسرے ڈاکٹروں کا وقت بھی ضائع نہیں ہوگا اور کیس صحیح طریقہ سے نمٹیں گے بھی۔
سیدو گروپ آف ہاسپٹلز میں میڈیکل آڈٹ کا کوئی تصور نہیں۔ کیجولٹی یا اسپتال یا وارڈمیں واقع شدہ اموات کی انکوائری یا آڈٹ ہونا چاہیے، یعنی کہ متعلقہ فیلڈز کے ڈاکٹر وں کی ٹیم بیٹھ کر ایسے کیسوں کی تحقیقات کرے کہ یہ کیوں واقع ہوئے؟ تاکہ جتنا بھی ہو سکے اور ممکن ہو ، اس طرح کی ان اموات جو کہ لاپرواہی یا غلط یا بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہو، کا آئندہ کے لیے تدارک کیا جاسکے۔
1,224 total views, no views today


