وفاقی وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی پی ٹی ائی کے چئیرمین عمران خان اور ان کے وزراء سے اختلافات کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کی پوری قوم پر بجلی چوری کے الزامات لگارہے ہیں جوکہ وزیر موصوف کو بحیثیت سیاسی راہنما زیب نہیں دیتا، وزیر موصوف پختونخوا کے عوام پر الزامات لگاتے ہوئے سچ اور جھوٹ کا بھی کوئی پرواہ نہیں کررہے حالانکہ جھوٹ بولنے کیلئے ایسا طرز اپنانا چاہیئے تاکہ اس پر اگر تمام لوگ نہیں تو کم از کم پچاس فیصد تو اعتماد کرسکیں مگر عابد شیر علی ان باتوں کا بھی خیال نہیں رکھتے اور بقول سیاسی پنڈت کہ سیاست اور جنگ میں سب کچھ جائیز ہے ، جنگ کے بارے میں اگر یہ مقولہ استعمال کیا جائے تو کسی نہ کسی حد تک اسے درست قرار دیا جاسکتا ہے مگر سیاست میں کوئی منطق اسے درست قرار نہیں دے سکتے کیونکہ سیاست کا مقصد تو قوم و ملک کی تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت ہے اگرسیاست میں بھی سب کچھ کو جائیز قرار دیا جائے تو پھر یہ سیاست نہیں کوئی اور چیز بن جائیگی ۔عابد شیر علی کی طرف سے گزشتہ کئی عرصہ سے پورے پختون قوم کے خلاف ہرزہ سرائی کے علاوہ گزشتہ روز وفاقی وزیر نے ایک مرتبہ پھر اپنی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے ایک اور جھوٹ بولا ہے ، اسلام اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ ’’خیبر پختونخوا میں 98 فیصد لاسز ہے ‘‘ اب یہ بات کوئی کس طرح تسلیم کریں گے کہ اگر کے پی کے میں 98 فیصد لاسز ہوتی ہے تو پھر یہاں کے لاکھوں کروڑوں لوگ جب ماہانہ اربوں روپے بل ادا کرتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں ؟ کیا پیسکو والوں نے تو کہیں دو نمبر بل تو تیار نہیں کئے ؟ کہ لوگوں کی ادا شدہ رقوم پیسکو کو جانے کے بجائے کہیں اورمنتقل ہورہی ہیں ۔پتہ نہیں کہ موصوف نے 98 فیصدلاسز کی اعداد و شمار کس حوالے سے پیش کی ہے ، کہیں ایسا تو انہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخو ا پرویز خٹک ، سینئر وزیر سیراج الحق، اور وزیر اطلاعات شاہ فرمان جو عابد شیر علی کے بارے میں کہہ رہے ہیںیعنی کہ ’’ان کا دماغ درست نہیں ‘‘ درست تو نہیں ؟ کیونکہ اب تک تو ہم اسے غصہ سے ان تمام صاحبان کی طرف سے سخت رد عمل قرار دے رہے تھے ۔ مگر ان کی اعداد و شمار پیش کرنے کی حالات تو ہمیں کچھ اور صدا دینے لگی ہے ۔ میرے خیال میں عابد شیر علی الٹے سیدھے بیانات دے کر شیخ رشید بننے کی کوشش کررہے ہیں مگر شیخ رشید تو پھر بھی ایسی باتیں کردیتے ہیں کہ اسے ماننا پڑتا ہے اب حال ہی میں انہوں نے جو صرف ایک جملہ کہا ہے اس میں کتنی حقیقت ہے ۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ ’’ شیر کریانہ کی دکان میں گھس گیا ہے ‘‘ اب یہ ایک ایسی بات ہے کہ اس پر اگر سو فیصد نہیں تو 98 فیصد لوگ ضرور یقین کریں گے کیونکہ کریانہ کی دکان میں جاکر ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس میں موجود پرانے تمام اشیاء کو واقعی ’’شیر‘‘ نے ہڑپ کرکے کریانہ فروش نے بلیک پر کسی دوسری ملک سے آٹا،گھی ، چینی، دال اور دیگر سودا لاکر اب اسے ایمپورٹیڈ اشیاء کے دام پر فروخت کررہے ہیں اس سے پہلے شیر نے گوشت، مرغیوں اور مچھلیوں کو بھی ہڑپ کرکے ان کے قیمتوں میں از حد اضافہ ہوچکا ہے ، عابد شیر علی نے اپنے پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کو شاہ ’’نافرمان‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے جو کہ ان کی حالت کی ایک اور ثبوت ہے کیونکہ شاہ فرمان کو اگر شاہ کا ’’فرمانبردار‘‘ کہا جاتا تو اس پر یقین کیا جاسکتا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے شاہ (عمران خان) کی فرمانبرداری میں عابد شیر علی سے ٹکر لیا ہے ،مگر لگتا ہے کہ عابد شیر علی سمیت مسلم لیگ ن کے دیگر قائدین کو پختونخوا کے بارے میں صرف ’’نا ‘‘ کے لفظ رٹہ لگ چکا ہے ، کیونکہ ہم جب ان سے مطالبہ کرتے ہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ بند کرو تو وہ جواب دیتے ہیں ’’نا ‘‘ جب ہم بجلی بل ادا کرتے ہیں تو وہ بجائے شکریہ ادا کرنے کے کہہ دیتے ہیں کہ ’’نا‘‘اپ بجلی چرو ہے اپ بل ادا نہیں کرتے ، صوبائی حکومت کی طرف سے جب انہیں بجلی حوالے کرنے کا کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں ’’ نا‘‘ انہیں کہا جاتا ہے کہ صوبہ میں امن کی بحالی کیلئے طالبان سے مذاکرات کرو ، جواب ملتا ہے ’’ نا‘‘ اس وجہ سے وفاقی وزراء اور وزیر اعظم تک کے پی کے کے بارے میں ’’نا‘‘ ‘‘نا ‘‘ کے عادی ہوگئے ہیں ، خیال کیا جاتا کہ گزشتہ روز جب وزیر اعظم سوات کے دورہ پر آرہے تھے تو انہیں اپنے مشیروں نے ضرور کہہ دیا ہوگا کہ کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کو بھی اس دورے میں شمولیت کی دعوت دی جائے مگر وزیر اعظم نے کہہ دیا ہوگا کہ ’’ نا‘‘ کیونکہ اس سے پہلے بھی وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو تین مرتبہ ملاقات کرنے کیلئے درخواستیں ارسال کردی ہے مگر خدشہ ہے کہ ان تمام پر ’’نا‘‘ لکھا گیا ہے۔ مگر وفاق کو پی ٹی ائی سے اختلافات میں پورے کے پی کے کو ’’نا‘‘ ’’نا‘‘ کہنے سے اجتناب کرنا چاہیئے ورنہ کے پی کے کے عوام وفاق کو اور خصوصاً عابد شیر علی کو ’’نانا‘‘ کے نام سے پکاریں گے جو کہ ان کیلئے اس جوان عمری میں ’’نانا‘‘ بن کر اچھا نہیں لگے گا۔ پی ٹی ائی کے ساتھ تو وفاقی حکومت کا بلکہ مسلم لیگ ن کا اختلاف ہے مگر عابد شیر علی کے بیانات کا تو سینئر منسٹر سیراج الحق نے بھی نوٹس لیکر گزشتہ دنوں ان کے ابائی حلقہ فیصل آباد (پنجاب) میں جلسہ سے خطاب کرکے واپڈا کی طرف سے جاری کردہ اعداد شمار پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ واپڈا کو سب سے زیادہ لاسز سندھ میں 105 بلین، دوسرے نمبر پر پنجاب میں 85 بلین خیبر پختونخوا میں 48 اور بلوچستان میں 35 بلین ہے تو اس میں 98 فیصد کا الزام ’’چی معنی دارد ؟‘‘ جس پر وزیر اعظم نواز شریف کو خود بھی عابد شیر علی سے وضاحت طلب کرنا چاہیئے کہ اگر کے پی کے میں واقعی 98 فیصد لاسز ہے تو پھر یہاں واپڈا کی طرف سے متعین شدہ عملہ کیا کرتی ہیں؟ حکومت کے پاس تو ہر قسم کے وسائل موجود ہے پھر وہ ان لوگوں کی نشاندہی کیوں نہیں کرتی جو بچلی چور ہے یا واپڈا عملہ کو اٹھا کر ان سے تاوان وصول کرتے ہیں ۔ کیا عابد شیر علی صاحب بتا سکتے ہیں کہ واپڈا عملہ نے خیبر پختونخوا مٰں کس تھانہ کے حدود میں بجلی چور کے خلاف ایف ائی آر درج کرانے کیلئے رابطہ کیا ہے اور وہاں سے واپڈا عملہ کو انکار کیا جاچکا ہو؟ کیا نانا یہ بتاسکتے کہ خیبر پختونخوا کے کسی علاقے میں واپڈا والوں کو تاوان کیلئے اغوا ء کرکے تاوان وصول کیا گیا ہوں اور صوبائی حکومت یا متعلقہ تھانہ والوں نے رپورٹ درج کرانے سے انکار کیا ہو؟ اگر نہیں ہے تو پھر خدارا پختون قوم کو اپنی سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کریں حق کو حق کہہ کر اپنا سیاسی قد کاٹنے کے بجائے اسے بڑھانے کیلئے عملی جدوجہد کریں، حقیقت میں صوبائی حکومت وفاقی حکومت کی اور وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے قوم و ملک کے مفاد کیلئے سوچھیں ، ورنہ الیکشن پھر بھی ائیگا ۔
956 total views, no views today


