سوات میں تبلیغی اجتماعات موسم اور ٹرانسپورٹ کے مسائل نہایت توجہ طلب اور ہنگامی اقدامات کے متقاضی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ کہ نہ تبلیغی قیادت کو ان مسائل کے حل سے کوئی دل چسپی ہے اور نہ سرکاری مشینری کوئی قدم اٹھاتی نظر آتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کی بہ دولت آئندہ موسم کے بارے میں معلومات ’’انٹر نیٹ‘‘ پر ہر وقت دست یاب ہوتی ہیں اور ایک بچہ بھی اس جدید سہولت سے مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتاہے، تو حیرت کی بات یہ ہے کہ انگریزی لٹریچر کے ماہر مولانا عبدالوہاب صاحب اور’’ڈاکٹر ‘‘ طارق جمیل جیسے اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں جدید تعلیم یافتہ کیوں اتنے بڑے اجتماعات کے انتظامات کو تباہ وبرباد ہونے دیتے ہیں؟ ضعیف، توانا اور بچوں کو تکالیف کا شکار ہوتا دیکھتے ہیں؟اگر یہ تربیت کا حصہ ہے، تو پھر سخت سردی برداشت کرنے کے لیے جنوری اور فروری میں مری یا کالام کا انتخاب بہتر ہوگا۔ اس طرح سخت گرمی برداشت کرنے کے لیے جولائی اور اگست میں ملتان، سبی یا جیکب آباد کا انتخاب بہتر ہوگا، اس حوالے سے تبلیغی قیادت سے مؤدبانہ التماس ہے کہ آئندہ اجتماع کے مقام، وقت کے تعین کے ساتھ ساتھ شرکاء کو ذہناً مقام اور وقت کی ’’حکمت‘‘ ضرور بتائیں۔
دوسرا مسئلہ جو اجتماع کے وقت ہوتا ہے، وہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہے، لیکن ٹرانسپورٹ کا مسئلہ صرف تبلیغی اجتماع کی وجہ سے نہیں بلکہ عیدین، سیاسی جلسوں اور جلوسوں کے وقت بھی یہ مسئلہ گھمبیر شکل اختیار کرتا ہے اور انتظامیہ کا ہر فرد شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا کر وقت ٹال دیتا ہے کہ چلو آئندہ سال میری تو ریٹائرمنٹ ہے یا تبدیلی کے لیے کیس آخری مراحل میں ہے، یہ ذہنی ریٹائرڈ یعنی ذہنی معذور یا تبدیلی کے منتظر خوش فہم، مفاد پرست انتظامی ذمے داران کان کھول کر سن لیں کہ ’’سوات‘‘ پاکستان میں ادغام سے پہلے ایک خود مختار ریاست اورایک مثالی حکم ران کا طرز حکم رانی دیکھ چکا ہے۔ اس لیے جب جدید وسائل اور قدیم وسائل کا مقابلہ چشم تصور سے کرتے ہیں، تو صرف اور صرف یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ’’ذاتی مفادات‘‘ کے حصول کے لیے سوات میں رہتے ہیں جب کہ ’’قومی مفادات‘‘ کا حصول حاشیہ خیال میں بھی نہیں، مثلاً ریاستی دور حکم رانی میں ضرورت محسوس کی گئی، تو سہراب چوک سے گرین چوک تک مینگورہ شہر کے گنجان ترین محلہ کے مکانات گرا کر نیوروڈ راتوں رات بنادی گئی ۔
اگر قومی اور عوامی مفادات کی خاطر ٹرانسپورٹ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہے، تو لنڈاکی سے فضاگٹ تک دریائے سوات کے کنارے کنارے موٹر و ے جیسا کافی چوڑا روڈ بنایا جاسکتا ہے۔ اس روڈ کے دونوں اطراف موٹر وے کی طرح باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں، ورکشاپس اور مکانات کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے، مقامی دیہاتوں تک رسائی کے لیے سروس روڈ بنائے جائیں۔ اس طرح ایک طرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگا، تو دوسری طرف دریائے سوات کی وجہ سے سیلابی کٹاؤ کا تدارک بھی ہوجائے گا۔۔۔ لیکن یہ مسئلہ انتظامیہ اور ٹھیکے داروں کی کمائی کے لیے نہیں بلکہ عوام کی مشکلات دور کرنے کے جذبہ سے شروع کیا جانا چاہیے۔
اس کام کا ماڈل آزاد کشمیر میں کوہالہ سے مظفر آباد تک دریائے جہلم تک بننے والا روڈ ہونا چاہیے جہاں تینتیس کلومیٹر روڈ دریائے جہلم کے کنارے بیس تا تیس میٹر اونچا پشتہ بناکر بنایا جاچکا ہے۔ یقیناًیہ منصوبہ وسائل طلب اور وقت طلب ہے۔ لہٰذا عارضی طورپر ایسے مواقعوں کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔
سرکاری انتظامیہ، ٹرانسپورٹرز اور ایم این ایز و ایم پی ایز کے باہمی مشورہ سے دریائے سوات کے آر پار ٹریفک کے لیے عارضی طورپر یک طرفہ کیا جاسکتا ہے، جس طرح سیلاب کے موقع پر کالام تا مینگورہ ہیلی کاپٹر سروس کا انتظام کیا گیا تھا، اس طرح کا انتظام عارضی طورپر عوام کے لیے گنجلک مقامات پر ایسے مواقع پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور پشاور، اسلام آباد سے بہ راہ راست مناسب کرایہ پر مخصوص مقامات مثلاً اجتماع گاہ، جلسہ گاہ اور تفریح گاہوں یعنی کالام وملم جبہ تک بھی کیاجاسکتا ہے۔
بہتر ہوگا کہ نجی ائر سروس مثلاً ائر بلیو، شاہین ائر اور انڈس ائر کی طرح یہ کام شروع کیا جائے۔ اس طرح حکومت کو ریونیو بھی ملے گا اور عوام کو سہولت بھی ملے گی۔ جس سے شائد اس بار تبلیغی اجتماع کی مشکلات کو سامنے رکھ کرآئندہ اجتماع کے لیے کوئی نہ کوئی سہولت ضرور فراہم کی جائے گی۔۔۔
کاش! کوئی ذمے دار اپنی ذمے داری محسوس کرسکے۔
1,252 total views, no views today


