پا کستا ن کے اند ر مذ ہبی سیا ست اتنی ہی پر ا نی ہے جتنی خو د پاکستا ن کی تا ر یخ ،ابتدا ء ہی میں سے متحدہ ہند و ستا ن کے وقت سے اما م الہند مو لا نا ابو لکلام ازا داور جمعیت علما ء ہند کے امیر مو لا نا سید حسین احمد مد نی نے قیام پا کستا ن کی مخا لفت کر کے تمام صو بو ں کو مکمل با اختیا ر بنا نے اور کر نسی ،آر می سمیت چند ایک د یگر قو می ادار ے وفا ق کے پا س ر کھنے کی تجو یز دی تھی تا ہم اس دورا ن علما ء دیو بند کی دیگر اکا بر ین مو لا نا اشر ف علی تھا نو ی نے قیا م پا کستا ن میں قا ئد اعظم اور دیگر لیگی قاید ین کا بھر پو ر سا تھ دیا اور یو ں ابتدا ء ہی سے آئین پا کستا ن میں قرار دار مقا صد کی صور ت میں ایک اہم آئینی بنیا د فرا ہم کی گئی ،قیا م پا کستا ن کے فور ی بعد جمیعت علما ء اسلا م کے اس وقت کے امیر مو لا نا شبیر احمد عثما نی نے پہلی مر تبہ پا کستا ن کا پر چم لہرایا ، 1973کے آئین کی تیا ر ی ،قا دیا نیو ں کو اقلیت قرار د ینے اور بعد ازا ں تحر یک نظام مصطفی ﷺ میں جے یو آئی کے اکا بر ین مو لانا مفتی محمود ،مو لا نا غلام ہزا ر وی ،مو لا نا عبدا لحق اور ان کے مو لانا عبدا للہ در خواستی کا فعال کر دار تا ر یخ کا حیصہ ہے ۔
جب سے جے یو ائی کی قیا د ت مولانا فضل الر حمٰن کے ہا تھو ں آئی ہے تو کئی ایک امو ر پر لو گو ں کے شد ید اختلا ف کے با و جود مو لا نا ایک لبر ل اور لچکدا ر مذ ہبی را ہنما کے طو ر پر متعا ر ف ہوئے ہو ئے ، اس وقت تک جبکہ جے یو آئی مو جو دہ وفا قی حکو مت کا حیصہ ہے ،تاہم آٹھ ما ہ گز ر نے کے با و جو د جے یو آئی کا کردار وفا قی حکو مت میں نہ ہو نے کے برا بر ہے جمعیت کے حلقو ں میں یہ با ت بہت ذ یا د ہ محسو س کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) کے حر یف پی ٹی آئی کی بھر پو ر مخا لفت اور نواز شر یف حکو مت کا تما م ہر محا ذو ں پر بھر پو ر سا تھ دینے کے با و جو د وفا قی حکو مت اُن کو دا نہ نہیں ڈا ل رہی ،روا یتی طو ر پر اگر دیکھا جا ئے تو معلو م ہو گا کہ جے یو آئی کا جھکا و ایک مر حلہ کے علا وہ ہمیشہ پی پی کی جا نب ر ہا ،اور اس دورا ن جبکہ صدر مملکت آصف علی ز ر دار ی تھے اس وقت جمعیت کو اسلا می نظریا تی کو نسل سمیت سا ئینس و ٹیکنا لو جی ،سیا حت ،ہا وسنگ کی اہم و زا ر تیں اور قو می کشمیر کمیٹی کی چےئر مین شپ دی گئی اس با ر جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے کو سیا سی طو ر پر کمز و ر کر نے اور روا یتی لچکدا ر روئیے کا مظا ہر ہ کر تے ہو ئے مو جو دہ وفا قی حکو مت کا سا تھ دیا ،تا ہم اس وقت اطلا عات یہ ہے کہ تین ما ہ تک جے یوآئی کو وفا قی حکو مت میں وزار تیں تو دی گئی تا ہم ان کو تا حال محکمے الا ٹ نہیں کیے گے ،طا لبا ن کے سا تھ مذا کرا تی عمل میں جے یو آئی کو با ئی پاس ر کھا گیا جبکہ تیسرا اور اخری مر حلہ تحفظ پا کستا ن بل کا سا منے لا نا اور اس حو الے سے جے یوآئی کو شامل نہ کر نا بتا یا جا تا ہے ،و فا قی حکو مت اور جے یو آئی کے در میان یہ اتحا د صر ف نا م تک محدو و ر ہا اور یو ں مو لا نا فضل الر حمٰن جو کہ پو ر ے ملک میں مذ ہب اور مذ ہبی حلقو ں کی نما یند گی کے سب سے بڑ ے دعو ی دار ہے اُن کی جما عت کو دیوا ر سے لگا یا گیا جس کے بعد جے یو آئی نے بھی راست اقدا م اُٹھا نے اور حکو مت کو ٹف ٹا یم د ینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔تا د م تحر یر جے یو آئی نے تحفظ پا کستا ن بل سینٹ میں پیش ہو نے کے کے بعد سینٹ میں اپو ز یشن جما عتو ں کا سا تھ دیا ہے جبکہ کرا چی میں خا لد محمو د سو مر و کی قیا د ت میں ایک بڑی ر یلی نکا ل کر بھر پو ر قو ت کا مظا ہر ہ کیا ۔
جے یو آئی کے مر کزی قا یمقا م امیر و سا بق سینٹر مو لا نا گل نصیب نے را بطہ کر نے پر را قم کو بتا یا کہ کہ مر کز ی حکو مت سے علیحدگی اور وزارتو ں
سے استعفٰی دینے کا فیصلہ حتمی ہے ،تحفظ پا کستا ن بل کی صور ت میں شہر یو ں کی بنیا د ی انسا نی حقو ق کو سلب کر نا اور مدا ر س و مسا جد کے خلا ف سا ز شیں کسی صو ر ت قا بل قبو ل نہیں ،جے یو آئی نے ملک و دین کی و سیع تر مفاد میں مر کزی حکو مت کی اتحا دی بننے کا فیصلہ کیا تھا تا ہم مر کز ی حکو مت نے طا لبا ن کے سا تھ حا لیہ مذ اکرا ت ،تحفظ پا کستا ن بل سمیت کسی بھی اہم مسئلہ پر اتحا دی کا د ر جہ نہیں دیا جس کی و جہ سے کا ر کنو ں میں بے چینی بڑ ھ رہے تھی ۔انہو ں نے کہا کہ اسلا می نظریا تی کو نسل کی سفا ر شا ت کو پار لیمنٹ سے منظور کروا نے کی بجا ئے اس آئینی ادار ے کی خا تمے کی قرار داد پاس ہو نے کے بعد سندھ اسمبلی کو فو ر ی طور پر تحلیل کیا جا ئے ۔انہو ں نے کہا کہ وومن پر و ٹیکشن اور تحفظ پا کستان بل ملک میں مغر بی کلچر متعار ف کرا نے کی کو ششو ں کا حیصہ ہے جس کا بھر پو ر طر یقہ سے راستہ رو کا جا ئیگا ۔
مو لا نا گل نصیب خان نے کہا کہ حکو مت مذا کرا ت کی آڑ میں بھر پو ر عسکر ی کا راوا ئی کی تیا ر ی کر رہی ہیں اس لے جے یو آئی نے فو جی اپر یشن کا سبب بنے وا لے مذا کرا تی عمل سے بر و قت علیحد گی اختیا ر کر لی۔
ایک سوا ل کے جوا ب میں مو لا نا گل نصیب نے کہا کہ مر کزی اور صو با ئی حکو متیں عوا م کے مسا ئل حل کر نے میں مکمل طور پر نا کا م ہو چکی ہے ،خیبر پختو ن خو اہ میں 18ار کا ن کی فا رو ڈ بلا ک کے بعد و زیر اعلی ایوا ن سے اعتماد کا ووٹ لے خیبر پختو ن خوا ہ کی صو با ئی حکومت امن امان کے قیا م سمیت تمام محا ذوں پر بری طر ح ناکا م ہو چکی ہے اور جلد ہی اپنے اعمال کے بدو لت اس حکو مت کا خا تمہ قر یب ہے ،انہو ں نے دعوی کیا کہ حلقہ پی کے 86سوات سے جے یو آئی کے امیدوار علی شاہ ایڈو کیٹ حا لیہ ضمنی انتخا با ت میں بھا ری اکثر یت سے کا میا بی حا صل کر ئیگا ۔
مو لا نا گل نصیب کی با تیں اپنی جگہ درست تا ہم اس وقت جے یو�آئی کے مر کزی امیر مو لانا فضل الر حمٰن دو ہفتے کے دور ہ بر طا نیہ پر روا نہ ہو چکے ہے جبکہ و زیر اعظم دورہ چین سے وا پس آچکے ہے ۔مو لانا کی غیر مو جو دگی میں جے یو آئی کے مر کز ی سیکڑ ی اطلا عا ت مو لا نا امجد خان نے استعفوں کی خبر کی تر د ید جبکہ مو لا نا کے تر جما ن جا ن اچکز ئی نے اس کی تا ئید کر تے ہو ئے کہا ہے کہ دو نوں محکمہ و زرا ء کے استعفٰے بجھوا دئے ہے ۔اند رو نی حلقو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ایسے و قت میں جبکہ حکو مت کو سینٹ میں تحفظ پا کستا ن ار ڈی نینس کے حوا لے سے مو لا نا کی حما یت در کا ر ہے مو لا نا نے اس بل کی شد ید مخا لفت کر کے حکو مت سے اپنی با ت منوا نے کے پو ز یشن میں آچکے ہیں اور اب اگر با ت ہو گی تو مو لاناکی شرا یط کو سامنے ر کھ دو با رہ اتحا د ی بننے کا فیصلہ کیا جا ئیگا ۔
مو لا نا اور اس کی سیا ست پا کستا ن میں مذ ہبی حلقو ں کے گر د گھو متی ہے ملک میں قیا م امن کے لے مو لا نا نے طا لبا ن سے مذ ا کرا ت کے لے قبا ئلی جر گہ تشکیل دیا جس کو اے پی سی کی حما یت حا صل تھی تا ہم مذا کرا تی عمل کے دورا ن مو لا نا اور اس کی جما عت کو مکمل طور پر نظر ااندا کر کے پر و فسیر ابر اہیم اور مولانا سمیع لحق کوآگے لا یا گیا اور اس قبا ئلی رجر گہ کی حیثیت صر ف نا م نہا د سی رہ گئی ہے ،مو لا نا اس حوا لے سے حکو متی روئیے سے خا صی شا کی نظر آئے اور یہی رو ے بھی مو لا نا کی ر و ٹنے کا سبب بنا ۔جے یو آئی نے طا لبا ن کمیٹی سے اپنا رکن مفتی کفا یت کو نکا ل کر اس با ت چیت کے عمل کو عسکر ی کا را وا ئی سے پہلے رسمی کا را وا ئی قرا ر دیا اور کہا کہ فو جی اپر یشن کا فیصلہ ہو چکا باقی صر ف رسمی ہو چکا ہے ۔
اسلامی نظریا تی کو نسل کی سربرا ہی گز شتہ سا ت سا لو ں سے جے یو آئی کے مو لانا محمد خا ن شیرا نی کے پا س ہے اور اسی کو نسل کے خا تمہ کے حوا لے سے قرا رداد سند ھ اسمبلی سے پاس ہو نے پر مو لا نا کا فی بر ہم ہے
جمیعت کے اند ر و نی ذرا یع کا یہ بھی کہنا ہے مو لا نافضل الر حمٰن وفا قی حکومت کو ٹف ٹا یم د ینے کے لے ایم کیو ایم کے سر برا ہ الطا ف حسین کے سا تھ را بطو ں اور احتجا جی تحر یک منظم کر نے کے حو الے سے بات ہو گی ۔غرض تین ما ہ تک وزیر بے محکمے رہنا ،طا لبا ن حکومت مذ ا کرا ت میں جے یو آئی کو نظر اندا ز کر نا ،تحفظ پا کستا ن ار ڈی نینس اور اسلا می نظر یا تی کو نسل کے حا لیہ فیصلہ کے بعد اس کے خا تمہ کے حوا لے سے با ز گشت جے یو آئی کے حکومتی صفو ں سے با ہر نکلنے کا سبب بنا ء ۔مو لا نا اس رو ئیے پر بھی نواز شر یف سے نا را ض ہے کہ صو بہ خیبر پختو ن میں ابھر تی قو ت پی ٹی آئی کا راستہ روکنے یا اس حکو مت کا خا تمہ کر نے میں میں و فا قی حکو مت کا رو یہ سر د مہر ی پر مبنی رہا ،جے یو آئی حکو مت میں ر ہتی ہے یا اپو ز یشن بنچو ں پر بیٹھنے کا فیصلہ کر تے ہے اس حو الے سے وقت کا تعین کا فی معنی خیز ہے اور بہا نہ تحفظ پا کستا ن ار ڈی نینس بنا ء ہے ۔وفا قی حکومت کو مولا نا کی صو ر ت میں ایک قا بل اعتما د اتحا دی کی ضر و ر ت ہے یا و ہ حز ب اختلا ف کی صفو ں سے اپنی صدا ء بلند کر تے اس کا فیصلہ آئیندہ چند روز میں ہیو جا ئیگا ۔
1,396 total views, no views today


