گزشتہ کی طرح اس بار بھی سال کے آخر میں گورنمنٹ ہائی اسکول ننگولئی سوات میں سال کے آخری بزم ادب کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا جس میں بچوں اور بڑوں نے بڑی تن دہی سے حصہ لیا۔ ہم نے پہلے بھی کہا ہوا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے حوالے سے یہ بات عام ہے کہ یہاں پر کچھ نہیں ہوتا، لیکن ہم کہے دیتے ہیں کہ جنگل شیروں سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے اس سال بھی 2013ء میں اسکول ہٰذا میں یہ چوتھا پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جسے مہمانان گرامی نے بہت سراہا اور بعض مہمانوں نے اپنی طرف سے بچوں کو نقد انعامات سے بھی نوازا۔
مذکورہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا تھا۔ اس کے بعد راقم الحروف نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی تھی۔ راقم الحروف نے کہا کہ ایسے مثبت پروگرام منعقد کرنے کا مقصد طلبہ کی ذہنی، جسمانی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا ہے اور ایسے پروگراموں کے ذریعے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھار کر سامنے لانا مقصود ہے۔ یہ بھی کہا کہ سرکاری اسکولوں میں ہر ذہن و صلاحیت کے بچے موجود ہوتے ہیں۔ صرف ان کو تراشنا چاہیے اور تراشنے کے بعد وہ خود بہ خود ہیروں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
راقم الحروف کی باتوں کے بعد پروگرام آگے کی طرف لے جایا گیا، جس میں مختلف بچوں نے اپنی مدھر آوازوں سے جادو جگایا۔ ترانے، ملی نغمے، گیت وغیرہ پیش کیے گئے، بلکہ بعض بچوں نے اپنے اپنے فنون میں خاکے، ٹیبلو اور مختلف قسم کے دیگر آئیٹم پیش کیے اور حاضرین سے بہت خوب داد وصول کیا۔
پروگرام میں بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین صاحب نے اپنی طرف سے طلبہ کو ڈھیر سارے انعامات سے نوازا اور انھوں نے اپنی تقریر میں پروگرام کو بہت ہی سراہا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ سرکاری اسکولوں میں ایسے مثبت پروگرام بہت ہی کم نظر آتے ہیں، لیکن یہاں پر ایسے کئی قسم کے پروگرام منعقد کراکے اس ادارے کے طلبہ و اساتذہ نے آج ہمارے دل جیت لیے۔ ہم ایسے پروگراموں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس پروگرام کی مدد سے ہم یہ گزارش کرتے ہیں کہ ایسے پروگرام ہر سرکاری اسکول میں منعقد کیے جائیں۔ اس لیے کہ ایسے مثبت پروگراموں سے طلبہ کی ذہنی آب یاری ہوتی ہے۔ پروگرام میں Parents Teachers Council (PTC) کے چیئرمین اور ممبران نے بھی شرکت کی۔ علاوہ ازیں علاقے کے اور معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ پی ٹی سی کے چیئرمین نے پروگرام کو بہت ہی سراہا اور انعقاد پر داد دی۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ طلبہ میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں، جنھیں پروان چڑھانے کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرنا چاہیے۔ اس طرح بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما اسی ترتیب و تنظیم سے ممکن ہوتی ہے۔ پروگرام میں علاقے کے ایک معزز مہمان جناب نذیر احمد صاحب نے بچوں کو اپنی طرف سے بھی انعامات سے نوازا اور ساتھ ساتھ بعض اساتذہ کرام کو بھی حسن کارکردگی پر انعام دیا۔ انھوں نے بھی جذبۂ خیر سگالی کے طور پر اسکول انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور ایسے پروگرام جاری و ساری رکھنے کی گزارش کی۔ پروگرام کے آخر میں اسکول کے پرنسپل صاحب نے اختتامیہ کلمات پیش کیے۔ انھوں نے فرمایا کہ بچے کل کے معمار ہیں۔ یہ ہمارے کل کا اثاثہ ہیں۔ بشرط یہ کہ ان کی بہترین تربیت کی جائے، انھیں نوازا جائے اور ان کی صحیح خطوط پر تربیت کی جائے۔ انھوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور انھیں اپنے قیمتی وقت سے تھوڑا وقت نکالنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ پرنسپل صاحب نے پروگرام کو دل و جان سے سراہا اور اپنی طرف سے انعامات بھی دیے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ تمام اسکول کے بچوں سے گزارش ہے کہ وہ چھٹیوں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں۔
آخر میں راقم الحروف نے کلاس نہم و دہم کے بچوں کو تاکید کی کہ وہ ان چھٹیوں میں اپنے ایک ایک لمحے کی قدر کریں۔ اس لیے کہ ان کے بورڈ کے امتحانات شروع ہورہے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی لمحے کو ضائع کیے بغیر بڑی پھرتی سے امتحان کی تیاری کریں۔ تاکہ آنے والے امتحان میں بہتر کارکردگی پیش کر سکیں۔ پروگرام کا اختتام مولوی بشرین صاحب کی دعا سے کیا گیا اور تمام شرکاء کی ضیافت کی گئی۔
1,290 total views, no views today


