گزشتہ روز ایک پرانی کتاب پڑھنے کے لیے نکالی، جس میں ایک خط ملا جو رحمت شاہ آفریدی نے جیل سے 18فروری 2001ء کو لکھا تھا۔ یہ ایک طرح سے تاریخی خط ہے، جسے روزنامہ چاند کے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
جناب محترم فضل محمود روخان صاحب
السلام علیکم! آپ کا پر خلوص محبت نامہ کل ہی مجھے ملا، میں آپ کے پر خلوص محبت نامے کا بہت بہت مشکور و ممنون ہوں۔ میں چھے ہفتے اسپتال گزارنے کے بعد دس فروری کو دوبارہ جیل آیا ہوں۔ جناب روخان صاحب، میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کے خط کا جواب پشتو کے بجائے اردو میں دے رہا ہوں، کیوں کہ میں پشتو پڑھ تو سکتا ہوں، لیکن لکھتے ہوئے دشواری محسوس کرتا ہوں۔ کیوں کہ میں نے حصول تعلیم کا زیادہ عرصہ پنجاب میں گزارا ہے۔ ویسے بھی آپ جیسے صاحب علم کو پشتو میں لکھتے ہوئے ڈر محسوس ہوتا ہے۔ امید ہے کہ آپ درگزر فرمائیں گے۔
محترم روخان صاحب، اس سے پہلے بھی آپ نے مجھے خط اور ایک خوب صورت کتاب بھجوائی تھی۔ امید ہے کہ میرے شکریے کا خط آپ کو مل چکا ہوگا۔ میں ایک بار پھر اُس کے لیے مشکور و ممنون ہوں۔ جناب روخان صاحب، آپ نے فرنٹیئر پوسٹ کے سانحہ کے لیے جس دُکھ اور درد کا اظہار کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا آپ کو اجر عظیم دے، آمین ثم آمین۔ جناب روخان صاحب! مجھے افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ میرے پریس کو جلایا گیا یا مجھے مالی نقصان پہنچا۔ مجھے تو گلہ اپنے صوبے کے علماء اور پڑھے لکھے لوگوں سے یہ ہے کہ انھوں نے بجائے سازشیوں کا پتہ چلانے میں میری مدد کرنے کے، الٹا سازشیوں کا مکمل ساتھ دیا اور ایسے لوگ بھی اسلام کے اور حضور پاکؐ کے عاشق بن گئے، جن کے پیٹ میں، جسم پر اور اُن کو پورے خاندان میں سوائے حرام اور سیاسی رشوت کے کچھ بھی نہیں ہے۔
جناب روخان صاحب! آپ خود اندازہ کریں اور بالکل غیر جانب دار بن کر سوچیں کہ اللہ نہ کرے (نعوذ بااللہ) اگر اس طرح کا خط کسی نے چھاپنا ہو، تو وہ اپنے اخبار میں چھاپے گا؟ کیا اگر یہ ذلیل حرکت کسی خبیث نے کرنی ہو، تو وہ پمفلٹ کی شکل میں لاکھوں کی تعداد میں بغیر کسی نام کے یہ سب کچھ چھاپ نہیں سکتا؟ کیا ان علماء نے، جن کو بڑا عشق ہے اللہ اور حضور اکرمﷺ سے، یہ معزز حضرات صفائی کا موقع دینا حرام سمجھتے تھے؟ اور جس اخبار نے فرنٹیئر پوسٹ کے خط کا اردو میں ترجمہ کرکے اور پشاور میں پانچ پانچ روپے کے پمفلٹ چھاپ کر فروخت کیے ہیں، وہ خبیث اور ابلیس کے ساتھی نہیں ہیں؟ اور مجھے یہ لوگ یہ گندہ اور غلیظ الزام لگا کر بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ مجھے اپنے اللہ پر سو فی صد یقین ہے کہ جس جس نے بھی فرنٹیئر پوسٹ میں یہ ذلیل اور گھٹیا غیر اسلامی خط شائع کروانے میں کردار ادا کیا ہے، وہ بہت جلد انشاء اللہ و تعالیٰ رسوائے زمانہ ہوں گے۔ جناب روخان صاحب، مجھے جیل میں ڈالنے سے یہ ابلیس کی اولاد اپنے عزائم پورے کرنے میں کامیاب نہ ہوئی، تو انھوں نے یہ ابلیس کی چال چلی، کیوں کہ میرا پروگرام تھا کہ 2001ء میں کم سے کم دو صوبوں سے مزید فرنٹیئر پوسٹ اور میدان کا اجراء کروں گا اور اس کی خبر یہودیوں کو اور اُن کے ایجنٹوں کو ہوچکی تھی۔ اس لیے انھوں نے یہ گھناؤنی ذلیل حرکت کی۔ بہ قول شاعر
کھٹک رہا ہوں نظر میں بھرے زمانے کی
سزا ملی مجھے یہ آئینہ دکھانے کی
اور
اس سے پہلے کہ مجھے دار پہ کھینچا جائے
میرے چہرے پہ میرا جرم بھی لکھا جائے
جناب روخان صاحب! میں ان حرام خوروں کی طرح زبانی دعوے نہیں کرتا ہوں، میں ہر چیز یعنی بچے، مال اور جان اللہ پاک اور نبی پاکؐ کے نام پر قربان کرنا باعث فخر سمجھتا ہوں۔ مجھے ان سیاسی مداریوں سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں، میں اور میرے اخبارات کا کردار اس ملک و قوم کی عزت و ناموس کے لیے ہے۔ اور انشاء اللہ اپنی پختون ماں کو دنیا والوں کے سامنے اور نہ دنیا بنانے والے کے سامنے ہی شرمندہ کروں گا۔ انشاء اللہ میں پختون ہوں، مجھے اپنے پختون ہونے پر فخر ہے۔ کوئی بھی پختون اسلام اور حضور پاکؐ کے بارے میں غلط تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انشاء اللہ و تعالیٰ میں اُن ابلیس کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لوں گا۔ مجھے اپنے اللہ رب العزت پر پکا ایمان ہے کہ وہ مجھے ضرور سرخرو کرے گا اور ان یہودیوں کے دلالوں کا منھ ضرور کالا ہوگا۔
مجھے خبر تھی کہاں بولنا ہے اور یہ لوگ
سمجھ رہے تھے میں خاموش ہونے والوں ہوں
جناب محترم روخان صاحب! میں پھر سے آپ کی محبت اور خلوص کا شکر گزار ہوں، میری طرف سے آپ کو اور آپ کے تمام اہل خانہ کو سلام دعا۔
وقت مقتل سے میری لاش اُٹھالایا تھا
لوگوں میں اپنی گواہی میں خدا لایا تھا
اب یہ موسم میری پہچان طلب کرتے ہیں
میں جب آیا تھا یہاں تازہ ہوا لایا تھا
از رحمت شاہ آفریدی
930 total views, no views today


