تحریر:ڈاکٹر کفایت اللہ
ڈینگی بخار ایک خاص قسم کے وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جسکے چار اقسام ہیں۔یہ وائرس انسانی جسم میں مچھر کے ذریعے منتقل ہوجاتا ہے۔جسے ایڈس ایجپٹائی Ades agypti کہتے ہیں۔ایڈس ایجپٹائی مادہ مچھر جب کسی ڈینگی بخار کے مریض کو کاٹتی ہے تو ڈینگی وائرس مریض کے خون سے مچھر میں منتقل ہو جاتا ہے۔یاد رہے کہ ھر قسم کا مچھر ڈینگی وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں کر سکتاَ ۔صرف ایڈس ایجپٹائی اور ایڈس ایلبو پکٹس کے مادہ مچھر ہی وائرس منتقل کر سکتی ہیں۔جب ڈینگی وائرس انسانی جسم میں منتقل ہو جاتا ہے تو چار سے سات دنوں بعد ڈینگی بخار کے علامات شروع ہو جاتے ہیں۔ان علامات میں بخار ،سردرد،ہڈیوں اور جوڑوں کا درد،جسم پر سرخ رنگ کے ہلکے دبے اور خون میں سفید خلیوںplatelets کی کمی شامل ہیں۔اگر یہی علامات کسی مریض میں ظاہر ہو جائے تو کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے سے لیبارٹری ٹسٹ اور علاج کرانا چائیے۔ڈینگی مچھر عام طور پر صبح اور شام کے وقت حملہ کرتا ہے،لیکن اگر دن کے وقت یا رات کو بھی مناسب ٹمپریچر اور روشنی مہیا ہو جائے تو یہ کسی بھی وقت کا ٹ سکتا ہے۔مادہ ڈینگی مچھر دو سے تین ہفتوں تک زندہ رہتی ہے اور ایک مادہ انہی دنوں میں تین سو انڈے دے سکتی ہیں۔عام طور پر ڈینگی مچھر صاف کھڑے ہوئے پانی میں انڈے دینا پسند کرتی ہیں۔ڈینگی مچھر کے انڈے عام آنکھ سے بمشکل نظر آتے ہیں۔اگر انڈے کو مناسب ٹمپریچر مل جا ئے تو ایک ہفتے سے دس دن تک یہ مچھر میں تبدیل ہو جا تا ہے۔یہ مچھر عام مچھر سے سائز میں ذرا چھوٹا ہو تا ہے۔اسکے دوپر اور چھ ٹانگیں ہوتی ہے۔ٹانگوں اور جسم پر سفید رنگ کے دبے ہوتے ہیں۔اسکے علاوہ سر کے ذرا پیچھے ایک یا دو سفید لائینیں ہوتی ہیں۔جس سے ڈینگی مچھر کی پہچان ہوتی ہے۔ڈینگی مچھر سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ گھروں کے اندر جہاں پر مچھر کے افزائش ممکن ہے انکو فورا ختم کیا جائے۔ان جگہوں میں عام طور پر گھر کی ٹنکی،پرانے ٹائر جس میں پا نی کھڑا ہو،پرندوں اور جانوروں کیلئے رکھے گئے برتنوں میں پانی،روم کولر میں ڈالا ہوا پانی،ائیر کنڈیشن سے گرتا ہوا پانی،نلکے سے رستا پانی،پودوں کے گملے اور فوارے،فریج کے ٹرے،خالی بوتلیں اور پلاسٹک کے ضائع شدہ شاپرز شامل ہیں۔گھر کے ٹنکی کا اوورفلو پائپ کا کھلا چھوڑنا مچھر کو ٹینکی کے اندر جانے کا بہترین راستہ مہیا کرتا ہے۔over flow پائپ کے ساتھ نسبتآ تھوڑا لمبا پائپ لگانا یا one side volve لگانا مچھر کا راستہ بند کردیتا ہے۔اگر گھر کے اندر انہی جگہوں کا کاتمہ کیا جائے اور جہان پر پانی جمع کرنے کی ضرورت ہو تو اس میں روزانہ پانی تبدیل کیا جائے تو ڈینگی مچھر کو انڈے ڈالنے کیلئے مناسب جگہ نہیں ملی گی اور اسطرح اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچایا جا سکتا ہے۔جرابے اور پورے استینوں والے کپڑوں کا استعمال بھی مچھروں کے کاٹنے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسکے علاوہ گھروں کے اندر اور باہر کھڑے پانی کو ختم کرنے اور مچھر مار سپرے کرنے سے انکے انڈے اور لاروے ختم کئے جا سکتے ہیں۔گھر میں مچھر مار سپرے اور بدن پر مچھر مار لوشن لگانا لازمی ہیں۔تاکہ اس تکلیف دہ بیماری سے آپ اور اپکے بچے کافی حد تک محفوظ ذندگی گزار سکیں۔۔۔۔۔۔
1,222 total views, no views today


