تحریر/نیلم ابرار چٹان
بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جو بھی ہم بچوں کو سکھاتے ہیں ،وہ با آسانی سے سیکھ جاتے ہیں ۔ زمین پر بسنے والے ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ بچوں کا خیال رکھے۔ان بچوں کا حق ہے کہ ہم انہیں خوش اور صحت مند رکھیں اور موجودہ دور کی درندگیوں کو دیکھتے ہوئے ان کی حفاظت کریں ۔تعلیم حاصل کرنا بچوں کا بنیادی حق ہے ۔گھر سے بلاخوف وخطر باہر آنا جان اور کھیلنا کودنا ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے ،لیکن اس بے حس معاشرے میں موجود کچھ درندے ہمارے ان معصوم پرندوں کے پر کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں ۔یہ حیوان نماانسان دوسروں کے بچوں کی زندگی سے کھیلتے ہوئے اپنے بچوں کا خیال تک نہیں ذہن میں نہیں لاتے کہ اگر یہ میرا اپنا بچہ ہوتا ، تو کیا تب بھی میں اس طرح درندگی کا مظاہرہ کرتا؟ ان سفاک لوگوں نے معاشرے میں جینے کا حق چھین لیا ہے ۔
ایک زمانہ تھا کہ معاشرے میں ایسے درندے بہت کم ہوا کرتے تھے ۔ہم اپنے بچوں کو بلاخوف وخطرسکول ،مدرسہ اور ٹیوشن کے لئے بھیج دیا کرتے تھے ۔انہیں باہر گراونڈ میں کھیلنے کے لئے جھجک جانے دیتے تھے اور بچے صحیح سلامت واپس گھر بھی لوٹتے تھے ،مگر اب کی بات اور ہے ۔ ان ایسا وقت آیا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کے پیچھے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے ۔بچے پانچ منٹ دیر کردیں ،تو ہماری سانس جیسے رک جاتی ہے کہ خدا نخواستہ کچھ غلط نہ ہوا ہو۔
قارئین کرام !اگست 2015کا دردناک اور انسانیت سوز واقعہ ہے ، جب پنجاب کے علاقے قصور میں تقریبا دو سو اسی کے قریب بچوں کی عزتین تار تار کی گئیں ۔جسم کے ساتھ ساتھ ان کی روح کے ساتھ کھیلا گیا ۔ان کو نشہ آور ادویات پلائی گئیں ،حتی کہ یہ بچے قریب المرگ ہوگئے تھے ۔اس واقعہ میں پچیس افراد ملوث تھے ۔اسی طرح سوات کے مصروف ترین شہر مینگورہ میں 12مئی 2016کو قصور جیساواقعہ منظر عام پر آیا ،جس میں سترہ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ۔واقعہ سے متاثرہ ایک بچے کی کہانیاس بے حس معاشرے کی عکاسی کرتی ہے ۔مذکورہ افسوس ناک واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد وہ بچہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا ۔ وہ اپنی تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگیا تھا ۔اس بچے کے ذہن سے وہ تلخ یادیں نکالنے کے لئے ہمیں دو ماہ کا وقت لگا ۔اس کو سکول میں داخل کرایا اور ایک غیر سرکاری ادارے کو مذکورہ بچے کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے لئے قائل کیا ۔
اس طرح اب حال ہی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے ،کم ہے ، جس میں ایک سولہ سال لڑکی کو برہنہ کرکے پورے علاقے میں ایک گھنٹے تک گھمایا گیا ۔وہ اس وقت لوگوں کی منت سماجت کرتے رہی ،رحم کی بھیک مانگتی رہی لیکن کسی نے اسے چادر تک نہیں دی ۔ لوگ چپ چاپ دیکھتے رہے ،لیکن ان درندوں میں سے کسی کے دل میں رحم نہیں آیا ۔میں جب جب ایسا ظلم دیکھتی ہوں ،تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔دل کرتا ہے کہ ان درندوں کو سخت سے سخت سزا دوں ،لیکن کہ افسوس کہ یہاں پورا قانون ہی کمزور اور بے بس دکھائی دیتا ہے ۔اسی وجہ سے یہ درندے سزا سے بچ کر دوبارہ اپنی درندگی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔
وطن عزیز میں وقتا فوقتا ایسے سیکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں مگر ان کی روک تھام کے لئے کسی قسم کا کوئی قانون اب تک نہیں بنا ہے ۔اگر کوئی قانون موجو دبھی ہے ،تو وہ سیاسی لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔ایسے درندوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔اگر پولیس اس طرح کے کیسز کو اچھے طریقے سے تیارکرکے عدالتوں میں بھیج بھی دیتی ہے ،تو یہ درندے اپنی چال چل کر عدالتوں سے بھی نکل آتے ہیں ۔اگر پارلیمنٹ میں ایک ایسا بل پاس کیا جائے کہ اس طرح کے کیسز میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی ،باقاعدہ سخت سزا رائج کی جائے اور دو تین درندوں کو سزا دی بھی جائے ،تو یقین جانیں آئندہ کے لئے کوئی اس قسم کی غلاظت کا کرنا تو درکنار ،سوچ بھی نہیں سکے گا ۔
حال ہی میں ممبر قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے ۔بل میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے شخص کو کم ازکم چودہ سال جیل اور دس لاکھ جرمانہ دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔یہ بل کمیٹی نے پاس کرایا تو ہے ،مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ بھی دیگر بلوں کے طرح “کمیٹی”سے باہر اگے نہیں بڑھ سکے گا ۔مگر پھر بھی امید کرتے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ مزید بے حسی سے کام نہیں لیں گے اور اس سے بھی سخت سزا کا قانون سامنے لائیں گے اگر میرے اختیار میں ہوتا ،تو میں ایسے درندوں کے لئے کم ازکم دو مرتبہ سزائے موت تجویز کرتی ۔
آخر میں ،میں عوام سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کو روشن مستقبل ،خوش حال زندگی اور پرامن ماحول کو میسر کرنے کے لئے جدوجہد کریں ۔کیونکہ یہی بچے ہمارے پیارے وطن پاکستان کا روشن مستقبل ہیں ۔اور ہم اپنے مستقبل کو ان درندوں کے ہاتھوں کسی بھی صورت تباہ نہیں ہونے دیں گے ۔
2,184 total views, no views today



