تحریر شاہ خالد
ہسپتال میں چیخ و پُکار سُن کر دمیں اُسی طرف چلا گیا جہاں ایک جواں سال لڑکا درد کے مارے بُری طرح چیخ رہا تھا۔ہسپتال کے ایمرجنسی میں میڈیکل ڈاکٹر کے معائنے کے بعد تجویز کردہ انجکشنز اور ٹیسٹ کروائیے گئے تو ڈاکٹر نے بتایاکے یہ “Appendicitis” کا درد ہے اور جلدازجلد سرجری(آپریشن)ضروری ہے۔ایمرجینسی میں میڈیکل ڈاکٹر نے جواں سال مریض کو سیدوگروپ آف ٹیچنگ ہسپتال ریفر کردیاکیونکہ آپریشن کرنے کیلئے ایک سرجن ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ پوچھنے پرپتہ چلا کہ سرجن ڈاکٹر اس ہسپتال میں کم وبیش ایک سال سے ہے ہی نہیں۔
یہ ہسپتال سوات کے علاقہ”خوازہ خیلہ”کا تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال ہے جوکہ پیچلے ایک سال سے سرجن ڈاکٹر سے محروم ہے۔تحصیل کی سطح پر ہسپتال توانتہائی ضروری ہے کہ سپشلیسٹ ڈاکٹرز, سرجن ڈاکٹر ,پیرامیڈیکل سٹاف ہروقت ہسپتال میں موجود ہوں کیونکہ سرجیکل ایمرجینسی,میڈیکل ایمرجینسی کسی بھی علاقے سے کسی بھی وقت آسکتی ہے۔
عوامی رائے کے مطابق لگ بھگ ایک سال قبل جب اس ہسپتال میں سرجن ڈاکٹر ہوا کرتا تھا توغریب عوام کو آپریشن کے لئے علاقے سے دورسیدوہسپتال یا پرائیویٹ سرجیکل سینٹرزکا ر’خ نہیں کرناپڑتاتھا۔اور غریب عوام اپنے علاقے میں رہ کر اس سہولت سے فائدہ ا’ٹھاتے تھے۔
آجکل کے دور میں امیرطبقے کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کے علاقے کے ہسپتال میں کس چیزکافقدان ہے کیونکہ وہ یہ سہولیات کہی سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔بات ہے غریب عوام کی ۔جوبچا رے کرے بھی توکیا…؟؟؟ دن بھرمحنت مزدوری کرکے بیوی,بچوں کا پیٹ مشکل سے پالنا اوراوپرسے کوئی بیماری آجائے اور ہسپتال میں سہولیات کا فقدان ہوتوبے بسی کے عالم میں علاقے سے دورہسپتالوں کار’خ کرلیتے ہیں یا رشتہ داروں کی مددلیکرپرائیویٹ ہسپتالوںیاسرجیکل سینٹرزسے بمشکل بلکہ اپنی جان جوکوں میں ڈالکریہ سہولیات حاصل کرلیتے ہیں۔
اس ہسپتال میں جب سرجن ڈاکٹرہواکرتاتھاتوآپریشن کے مخصوص دنوں میں پندرہ کے قریب چھوٹے بڑے آپریشن ہواکرتے تھے جوکہ تحصیل کی سطح پر بڑی بات ہیں۔جیسے ہی علاقے کے ہسپتال سے سرجن ڈاکٹر ٹرانسفرہوا اور اس کی جگہ کوئی اور سرجن آنے کی اُمیدہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے ختم ہوگئی توغریب عوام کے پے درپے مسائل میں ایک اور اضافہ ہوگیااور غریب عوام میں بے چینی پھیل گئی۔
2008کے عام انتخابات میں علاقے کے عوام نے جب سیاسی شخصیت کواپنانمائندہ مقررکرلیاتوہسپتال میں روز روز نئی آبادی شروع ہوئی توعوام کوامیدیں پوری ہوتی نظرآئی اورہرکوئی ہسپتال کی کامیابی کی باتیں کرنے لگا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آبادی آج بھی صرف آبادی ہی ہے نہ کوئی مشینری, نہ متعلقہ ڈاکٹرز, نہ پیرامیڈیکل سٹاف ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ہسپتال کیلئے وارڈز نہیں بلکہ خالی گودام بنائے گئے ہیں۔
2013کے عام انتخابات میں جب علاقے سے دوسرے سیاسی پارٹی کانمائندہ کامیاب ہوا تو پچھلے حکومت میں بنائے گئے وارڈز کو متعلقہ مشینری, سپشلسٹ ڈاکٹرزاو ر پیرامیڈیکل سٹاف مہیّا کرنا تو دور ہسپتال سے سرجن ڈاکٹر بھی غائب ہوا اور سیاستدانِ وقت نے یہ زحمت تک نہیں کی کہ ہسپتال میں کن سہولیات کا فقدان ہے اور عوام کو صحت کے حوالے سے کن مشکلات سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے..؟؟ منتخب سیاسی شخصیت کم و بیش سات ماہ حکومت کرنے کے بعد جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیو جہ سے نا اہل قرار پائے ۔اور الیکشن کمیشن نے 24 اپریل 2014 کو علاقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔
اس علاقے میں سیاست چمکانے والے اور بھی ہیں جنہیں صرف الیکشن کے تیاریوں کے دوران دیکھے جا سکتے ہیں کامیاب ہوئے تو سیاستدان اور ناکام ہوئے تو تنقید اور باقی عوام کی خدمت وہ تو اللّہ اللّہ خیر صلّہ۔
علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال میں سرجن ڈاکٹر نہیں ہیں یہ سوال آج تک نہ ہسپتال انتظامیہ نے اُٹھایا ہے 249 نہ علاقے کے سیاسی اور با اثر شخصیات نے زحمت کی ہے249 نہ غریب عوام نے ہمّت کی ہے اور نہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ والوں نے آج تک دوسرا سرجن ڈاکٹر بھیجاہے۔ْ آخر اس علاقے کے غریب عوام سے کونسی سنگین گناہ سرزد ہوئی ہے جسکی سزا اُنہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھ رہی ہے۔سیاسی اور با اثر شخصیات کو ضرورت نہیں249غریب کی کوئی بات نہیں سُنتا اور اِداروں کا یہ حال ہیں۔اسکا مطلب تو صاف ظاہر ہے کہ ظُلم کی چکّی میں پِسے گا تو صرف غریب۔
ایک بار پھر علاقے کے عوام نے ڈاکٹر حیدرعلی خان کو اپریل 2014کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب بنا دیا ہے۔ اب حکومتِ وقت کے نمائندہ کو یہ بات بار بار دہرانا کے علاقے کے ہسپتال میں سرجن ڈاکٹر نہیں ہیں یا کسی اور سہولت کا فقدان ہے تو اچّھا نہیں لگے گا کیونکہ حیدر علی خان خود ایک ڈاکٹر ہے اور میڈیکل فیلڈسے وابسطہ ہے جو بہتر جانتا ہے کے تحصیل کی سطح پر ہسپتال ہو تو کیا ضروری ہے اور صحت کے مسائل پر کتنا توجّہ دینا چاہئے..؟؟؟
918 total views, no views today


