سوات ( سوات نیوز ڈاٹ کام ) 1917 سے2017 تک جشن صدسالہ سابق ریاست سوات کے ھوالے تقریب ، سوت انٹلیکچول فورم کے زیر اہتمام منعقد ہوا ، تقریب یں عدنان اورنگزیب مہمان خصوصی تھے جبکہ سوات کے عمائدین اور سیاقائدین نے بھر پور شرکت کرکے میاں گل عبدالودود باچاصاحب ، والی سوات میاں جہانزیب اور اور آخری ولی عہد میاں گل اورنگزیب کو خراج عقید ت پیش کی ،تقریب کے صدر فضل رحمن خان تھے جبکہ اعزاز مہمانان محمد پرویش شاہین اور حمزہ علی شاہ باچہ تھے،اس موقع مقررین نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ والی سوات اور سابق ریاست سوات میں تمام فیصلے ہجروں میں ہوتے تھے ، سوات کی تعمیر و ترقی اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی سمیت اور لوگوں کو زمینوں کا مالکانہ حقوق ان کئے دہلیز پر دیئے ، اے این پی کے مرکزی رہنما واجد علی خان ،سابق ایم پی اے محمد امین ، رفیع الملک کامران خان ، خورشید کاکا جی ، خلیل الرحمن ایم فل سکالر ، پروفیسر قاضی عبیداللہ خان ، عثمان اولسیار ،انجینئر شوکت شرار، عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ ، حق نواز خان ، پیر اکبر بلند ، شمس الاقبال شمس ، حنیف قیص ، بخت محمد بخت ، علی خان امید ، سوات انٹلیکچول فور م کے چیئرمین فضل محمود روخان ، سعید اللہ خادم ، عبدالکبیر خان اور دیگر بھی خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ 1917 سے 2017 تک سابق ریاست سوات کے سوسال پورے ہونے پر ہمیں اب بھی فخر ہے ، عدنان اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے سوات کے عوام کودونوں ہاتھوں سے سلام پیش کرتا ہوں جنوہں نے ہر گھڑی اور ہر موقع پر ہمیں عزت اور احترام دیا ہے ، اہوں نے کہا عبدالودود باچاصاحب کے جیب بہت تھے تاہم پیسے ان کے پاس نہیں تھے ، 1917میں رفیع الملک کے داد نے ریاست کو 20ہزار روپے دئیے اور پھرد ور اندیشی سے واپس کئے تھے ، انہوں نے کہا کہ سید و بابا کے ساتھ 22کرامات تھے ، تاہم ان کی دنیاوی کرامات یہ تھے کہ ان کا دین اسلام ، قرآن سے ہمدردی رہی تھی ، انہوں نے انگریز سامراج کے خلاف تلوار اٹھا کر جنگ لڑی ، اس وقت ان کے فوج نہیں تھی بلکہ کرامات اسا سے ظاہر ہوتے تھے ، والی صاحب نے 1926میں ایم اے پاس کیا ، انہوں نے پوری دنیا میں جاکر سات کی خوبصورتی کیلئے بہت کچھ لائے ، انہوں نے کہا کہ بادشاہ صاحب نے والی سوات جہانزیب کیلئے فوج بنائی اور اسکی بنیاد رکھی ، اس بات پر بادشاہ صاحب والی سوات سے مطمئن ہوگئے تھے ، انہوں نے کہا کہ سوات ریاست کے دوران چترال کو ماہانہ دس دس ہزار روپے دیئے جاتے تھے ، والی سوات نے ریاست کے ادغام کے ساتھ ہی پورے ملاکنڈ ڈویژن میں عوام کے مفاد میں سکول ، روڈ ، ہسپتال اور دیگر ادارے قائم کئے جس سے آج بھی لوگ مستفید ہورہے ہیں ، پاکستان کے قیام میں اس وقت ریاست سوات کی جانب سے 20ہزار روپے دیئے گئے 1949سے 1969تک سوات میں سو نے کا دور رہا ہے ۔
1,672 total views, no views today



