مینگورہ، سوات میں رمضان کے مبارک مہینے کے دوران تمام کاروباریوں نے من پسنداورمن مانے نرخ مقررکرکے روزہ داروں کو لوٹنا شروع کردیا ہے،اس حوالے سے سروے کیاگیاجس کے دوران مینگورہ شہر،سیدوشریف اورآس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے نعمان خان،گل زادہ،رشیداحمد،غفورخان،غنی استاذ،رحیم خان ،شیرعلی خان،خورشیدجان،امین گل خان،روزی گل اوردیگرلوگوں نے اس بات پر شدیدافسوس کا اظہار کیاکہ رحمتوں اوربرکتوں کے مہینے میں بھی زائدوناجائزمنافع خوری کا سلسلہ بلاخوف وخطر جار ی ہے،
ان کا کہناتھاکہ سوات میں عام دنوں میں بھی گرانفروش کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر ماہ رمضان میں اس میں کافی تیزی آجاتی ہے،اس وقت بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیائے خوردونوش اوردیگراشیائے ضروریہ کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیں ،دالیں،چاول،چھولے،سبزیاں،گوشت،قیمہ،چٹنیاں،پکوڑے، سموسے،دودھ ،دہی،روٹی،مشروبات اوردیگراشیاء کے خوساختہ نرخوں کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جوان دینے لگی ہے، اس کے علاوہ یہ کاروباری لوگ صفائی ستھرائی کا بھی ذرہ بھر خیال نہیں رکھتے اسی طرح یہہاں پر ناقص اورمضرصحت اشیائے ضروریہ کا کاروبار بھی عروج پر ہے ،ان اشیاء کا استعمال بیک وقت کئی قسم کے خطرناک امراض کا سبب بن رہا ہے ،لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اہل سوات کی بدقسمتی ہے کہ انہیں کھانے پینے کیلئے معیاری چیزیں میسر نہیں بلکہ انہیں غیر معیاری اشیاء بھی من پسندنرخوں پر مل رہی ہیں یعنی ایک طرح سے یہ لوگ پیسے دے کر امراض خرید رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ حکام کی جانب سے نرخوں کو اعتدال پررکھنے اورناقص اشیاء کے کاروباریوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کے دعوے غلط ثابت ہوگئے کیونکہ تاحال کسی بھی گرانفروش یا غذاء کے نام پر زہر فروخت کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے،حکام کی اسی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ ناجائزمنافع خوربلاخوف وخطر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام مینگورہ شہر او ر سیدوشریف سمیت ضلع بھرمیں زائدوناجائز منافع خوروں اورناقص ومضرصحت اشیاء کاکاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائیں تاکہ وہ سکھ کی سانس لے سکیں۔
404 total views, no views today


