میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکم رانوں سے التجا کرتا ہوں کہ خدارا، باقی ماندہ سواتیوں کو طالبان بننے پر مجبور نہ کریں۔ ہم اہل سوات آج سے پچیس سال پہلے تک طالب تھے نہ مطلوب۔ لیکن ہمارے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکم رانوں کے طرز عمل نے ہمارے چند نوجوانوں کو پہلے طالب اور بعد میں ہمارے سوات اور پورے ملک کی تباہی کا سبب بننے پر مجبور کیا۔ آج تک کسی نے وجہ جانی اور نہ جاننے کی کوشش ہی کی کہ سوات جیسے پر امن لوگ اس عمل پر کیوں مجبور ہوئے؟ 1969ء تک سوات کے امن کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ والئی سوات نے سوات میں ایک ایسا مضبوط انفراسٹرکچر بنا کر حکومت پاکستان کو دیا تھا کہ بیس سال تک ہمیں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ نظر آئی، نہ ہمارے پل ہی سیلاب کی نذر ہوئے۔ تعلیمی نظام کی کوئی کمی نظر آئی نہ کوئی مسئلہ ایسا سامنے آیا کہ ہم خود کو محروم سمجھتے۔ لیکن محض بیس سال یعنی 1990ء کے بعد ہمیں شدت سے محسوس ہوا کہ ہمیں پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا جا رہا ہے۔ ہماری سڑکیں کھنڈرات بنتی گئیں۔ ہمارا تعلیمی نظام تباہ ہوتا گیا۔ ہمارے اسپتال خستہ حال ہوتے گئے اور امن وامان کا تو جنازہ ہی نکال دیا گیا۔ نئے حکومتی طرز عمل سے ہمیں محرومیت کا احساس ہونے لگا۔ اس طرح اپنی محرومیت کے ازالہ کے لیے کسی رہنما کی تلاش میں ہمیں ایک شخص ’’صوفی محمد‘‘ کے نام سے ملا جس نے شریعت محمدیؐ کا نعرہ لگایا۔ کون ایسا مسلمان ہوگا جو شریعت محمدیؐ پر جان نچھاور نہ کرتا ہوگا۔ سو ہم اہل سوات اپنی محرومی اور حکومتی طرز عمل کی وجہ سے اس کے ساتھ ہولیے۔ ہمیں اپنی محرومیت کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مل گیا۔ چار پانچ سال تک ہم صوفی محمد کو نجات کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ اس کے جیل جانے کے دو تین سال بعد اس کے داماد فضل اللہ نے اٹھ کر وہی نعرہ بلند کیا اور ہم لوگ اُس کے ساتھ چل پڑے۔ حالاں کہ ہم سب کو معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور اُس کا نعرہ کیا ہے۔ لیکن ہم چوں کہ محرومیت کے شکار تھے، اس لیے حکومتی رویہ کی وجہ سے حکومت سے نفرت کا اظہار اس طرح سے کر رہے تھے۔ ہمارے حکمرانوں کو آج بھی یہ احساس نہیں کہ یہ پرامن لوگ اس طرح کے طرز عمل پر کیوں مجبور ہوئے۔
آج ہم پہلے سے زیادہ محرومیت کا شکار ہیں اور ہمارا حکمران طبقہ خواب خرگوش میں کے مزے لوٹ رہا ہے۔ آج بھی ہمارے حکم رانوں کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی، کسی کو بھی سوات کے مسائل کا احساس تک نہیں۔ نہ وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے مسائل جان سکیں۔ ہمارے ساتھ ٹھیک ٹھاک ایک ’’مقبوضہ ریاست‘‘ کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ آج ہمارا وہ سوات تعلیمی لحاظ سے صوبہ کے دیگر اضلاع سے یکسر پیچھے رہ گیا ہے جو 1970ء میں ٹاپ پر تھا۔ ہمارے اسپتال پورے ڈویژن میں بہترین ہوا کرتے تھے جب کہ آج اسپتال کی بلڈنگ جس کی تعمیر ایم ایم اے کے دور حکومت میں شروع ہوئی تھی، اس پر عرصہ چھے سال سے کام بند پڑا ہے۔ اے این پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں اس پر توجہ دی گئی اور نہ اب تحریک انصاف کی تبدیلی ہی ہمارے کسی کام آ رہی ہے۔ ہماری سنٹرل جیل نو سال سے کھنڈر کا نظارہ پیش کر رہی ہے۔ ہمارے قیدی آج دیریا بونیر کی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں، اور اپنی جیل کی تعمیر کا کسی کو خیال ہی نہیں آتا۔ اس طرح ہمارے پل جو طالبان نے اڑائے تھے یا پھر سیلاب کی نذر ہوئے تھے، آج تک کسی نے ان کی تعمیر پر توجہ نہ دی۔ معلوم نہیں کہ ہمارے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ، سوات کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کبھی 3Ds کا فارمولا بنتا ہے تو کبھی 3Bsکا۔ لیکن زمین پر کوئی کام ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ہمارے وزیراعلیٰ صاحب کی حکومت بنے چار سو دن سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے، لیکن وزیراعلیٰ صاحب کو ایک لمحے کے لیے بھی سوات یاد نہیں آیا۔
اس طرح ہمارے وزیراعظم صاحب تیسری بار وزیر اعظم بنے ہیں، لیکن اُس کو ماسوائے الیکشن کے دنوں کے، سوات یاد ہی نہیں رہتا۔ ہم تو ہر طرف سے نا اُمید ہوچکے ہیں۔ ہم نے ہر پارٹی کو الیکشن میں سوات کی سات صوبائی سیٹیں اور دو وفاقی سیٹیں طشتری میں رکھ کر دی ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں سوائے مایوسی اور پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ملا۔ آخر کیوں وزیراعظم صاحب اور عمران خان صاحب ہم سواتیوں کو زبردستی طالبان بنانا چاہتے ہیں اور یہاں پر پھر وہی دہشت گردی اور آپریشن کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں؟
میں اپنے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے التجا کرتا ہوں کہ ہمیں دیوار سے مت لگائیں۔ ورنہ نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ بہ قول شاعر
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
عمران خان صاحب، آپ تو ایک صوبے کی حکومت سنبھال نہ سکے۔ اس طرح کا سنہری موقع پھر شاید آپ کے ہاتھ نہ آسکے گا۔ اب بھی موقع ہے اس صوبہ پر توجہ دیں۔ ورنہ اگر اب نہیں، تو پھر کبھی نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ دوسرے ’’اصغر خان‘‘ بن جائیں۔
908 total views, no views today


