سوات میں ’’طالبان‘‘ کی عملی کارروائیاں 2006ء کے بعد شروع ہوئیں۔ اُس وقت فضل اللہ کے جو ساتھی ہوا کرتے تھے، وہ اپنے آپ کو مجاہدین کہلواتے تھے اور جو عام لوگ اُس میں شامل تھے، وہ اپنے سربراہ کے اصل عزائم سے بالکل بے خبر تھے۔ محض اپنے گناہوں کے کفارہ کے لیے اسلام کے نام پر اس گروہ میں شامل ہوئے تھے۔
قارئین کرام! ہمارے لوگوں کا بھی عجیب مزاج ہے۔ اگر کوئی ان کے سامنے کسی کی تعریف کرے، تو بلا سوچے سمجھے اُس گرویدہ ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ’’سیالئی‘‘ میں آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ، انھیں ایام میں سیالکوٹ سے ایک لڑکا کو لایا گیا تھا۔ اس کے حوالے سے بڑے منظم طریقے سے سارے علاقے میں مشہور کرایا گیا تھا کہ یہ بغیر آپریشن کے گردے سے پتھری نکالتا ہے اور دوسرے سنگین امراض کا علاج بھی کرتا ہے۔ پھر کیا تھا ایک میلہ منگلور کے مقام پر سج گیا۔ کیا مرد کیا عورت بس مقامی روایات کو پاؤں تلے روندھتے ہوئے کھلے میدان میں ایک ساتھ پڑے رہتے۔ اس کے بعد مانیار میں ایک ’’ملا‘‘ کو راغب کیا گیا۔ اس کے حوالے سے مشہور کیا گیا کہ یہ پانی دم کرتا ہے اور پوری ٹینکی میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا دم شدہ پانی گویا ’’اکسیر‘‘ کا کام کرتا ہے۔ پھر کیا تھا لوگ لپک لپک کر اپنی بوتلیں بھرتے۔ اس مقابلہ میں مرد و زن کی کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی۔ حقیقتاً پانی میں ’’سٹیرائیڈ‘‘ دوا ملائی جاتی تھی جس سے مختلف امراض میں ویسے ہی افاقہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بٹ خیلہ کے ایک ’’پیر صاحب‘‘ کو استعمال کرنے کی ٹھانی گئی لیکن اُس بندۂ خدا نے اس قسم کے کھیلوں کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا۔ ان مختلف حربوں سے سوات کے لوگوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا گیا اور بالآخر ملا فضل اللہ کو پلانٹ کیا گیا۔ اپنی پرانی روش اور نفسیات سے مجبور لوگ وہاں بھی اولاً ایک ہم وار میدان بنانے اور ثانیاً مدرسہ بنانے میں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے لگے۔ یہاں ایک دل چسپ بات یہ تھی کہ ایسے نوجوانوں کی کھیپ تیار ہوئی جن کے والدین، بڑے بھائی یا خاندان کے دیگر لوگ امریکہ، یوروپ اور گلف ممالک میں روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر تھے اور جو ہر ماہ باقاعدہ گھر والوں کو پر آسائش زندگی گزارنے کے لیے رقوم بھیجتے تھے۔ ان میں سے بیش تر کی اولاد کو کافی رقم جیب خرچ کے لیے میسر تھی۔ گھر کا سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ان جیسے زیادہ تر نوجوانوں کا بیش تر وقت آوارہ گردی میں صرف ہوتا ہے اور تقریباً سب کے ساتھ موٹر سائیکل کی سواری اب بھی ہوا کرتی ہے۔ یہ جوان امام ڈھیرئ جاتے تھے۔ وہ محض اپنی انا کی تسکین اور شوق کی خاطر فضل اللہ کے ہم رکاب ہوئے۔ پھر جب لال مسجد کا واقعہ ہوا اور ٹی ٹی پی کی بنیاد رکھی گئی، تو فضل اللہ نے ٹی ٹی پی سوات کی بنیاد رکھی اور بعد میں یہ ’’طالبان‘‘ بن گئے۔ذکر شدہ نوجوان صرف اپنی انا کی تسکین اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ’’سیالی‘‘ میں فضل اللہ کے حامی بن گئے، جن کا دہشت گردی کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ راہ حق آپریشن کے دوران میں انھوں نے اپنے بڑھائے ہوئے بال کاٹے اور لمبی لمبی داڑھیاں یا تو مونڈھ لیں یا پھر انھیں چھدری داڑھی کی شکل میں رکھ چھوڑا۔
ان میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو سوات کے پاکستان میں ادغام کے بعد مختلف قوانین کے تجربات کی چکی میں پسا ہوا تھا۔ ان کی اکثریت پولیس کے ستائے ہوئے لوگوں کی تھی، جن کو صرف چھوٹا موٹا چاقو رکھنے کی پاداش میں بھی پابند سلاسل کیا جاتا تھا۔ جب کہ بااثر لوگ غیر قانونی اسلحہ کی اپنی جھوٹی شان اور رعب و دبدبہ قائم رکھنے کے لیے کھلی عام نمائش کیا کرتے تھے۔ اس طرح بااثر لوگوں کے مفادات کو مقدم جانتے ہوئے چھوٹے لوگوں کو تھانوں میں بلواکر ’’ٹارچر‘‘ کیا جاتا تھا یا معمولی جرم کی پاداش میں چھوٹے لوگوں کو پولیس کے بھاری مطالبات پورے کرنا پڑتے تھے۔ اس طرح سول بیوروکریسی جو مدعی بھی تھی اور جج بھی، کے مظالم کا شکار ہوتے۔ یہی مجسٹریٹ بغیر کسی جرم کے چالان کرکے چھوٹے لوگوں کو جیل بھیجتے یا بھاری جرمانے وصول کیا کرتے تھے۔ یہی مجسٹریٹ جو اصل میں سول سرونٹ یعنی عوام کی خدمت گار ہوتے تھے، ڈکٹیٹر بن کر حکمران بنے بیٹھے تھے اور کسی کو جواب دہ نہ تھے۔ وہ ترقیاتی فنڈ کاغذی منصوبوں سے ہڑپ کر جاتے۔ ساتھ ساتھ معمولی نوکریوں پر بھی سوات کے باہر کے علاقوں کے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا۔ اس عمل سے یہاں کے بے روزگار نوجوان خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے تھے۔ گویا وہ کسی مناسب موقعہ کی تلاش میں تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کا احساس محرومی بڑھتا رہا۔ وہ اس فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیے کسی رہنما کی تلاش میں تھے۔ افسوس کہ ہمارے قومی اور سیاسی رہنماؤں نے اس کا ادراک نہیں کیا اور جب فضل اللہ کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے لایا گیا، تو گرم لوہے پر صرف وار کرنے کی دیر تھی۔ پھر پلک جھپکتے میں یہی محروم لوگ اُن کے گردجمع ہونا شروع ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ابتداء میں سیکڑوں کی تعداد میں ’’پر اسرار‘‘ لوگ بھی اُن کے ہم نوا تھے۔ جس سے اس کا رعب و دبدبہ برقرار تھا اور ایک سماں بندھا رہتا۔ لوہا تو ویسے بھی گرم تھا بس اس کو سانچے میں ڈالنا باقی تھا۔ شہادت کی عظمت اورجنت کے حصول کے لیے من گھڑت قصے سنائے جانے لگے۔ احساس محرومی کے شکار اور اپنی تلخ زندگی سے بے زارنوجوان حتیٰ کہ عمر رسیدہ لوگ تک خودکش بمبار بن گئے۔ ان جیسے نوجوانوں کو تیار کرنے اور نمل اور پیوچار پہنچانے والے کو ابتدائی طور پانچ ہزار ڈالر ملتے تھے اور خودکش حملہ کے بعد خود کش کو تیار کرنے والے کو ہزاروں ڈالر ادا کیے جاتے تھے۔ اول اول جب یہ لوگ منظم ہورہے تھے، تو ابتداء میں انھوں نے اچھے کام بھی کیے۔ منشیات فروشوں، جرائم پیشہ اور اُجرتی قاتلوں کو سزائیں دیں۔ با اثر لوگوں کے ہاتھ سے عام عوام کے گزرنے کے لیے بند راستے کھلوائے۔ نیز آمد و رفت کے لیے نئے راستے بھی تعمیر کیے۔ لوگوں کے باہمی تنازعات کا جلد اور دیرپا حل نکالا جس سے ریاستی نظام سے مایوس لوگ جوق در جوق ان کی طرف چل پڑے، لیکن اس گروہ کو بنانے کا مقصد تو ہرگز لوگوں کی فلاح و بہبود نہ تھا۔ یہ تو صرف لوگوں کا دل جیتنے کے مختلف حربے تھے۔ (جاری ہے)
824 total views, no views today


