پچھلے سطور میں بھی یہی لکھ چکا ہوں کہ ایک بیٹی یا بیٹے کی پہچان اس کے والدین سے ہوتی ہے لیکن کچھ گرے ہوئے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ بیٹی ان کی پہچان بن جاتی ہے۔
گزشتہ روز یعنی پندرہ جولائی کے روزنامہ مشرق کے بیک پیج پر تین کالمی تصویر چھپی جس کا کیپشن کچھ یوں تھا: ’’ابوجا، نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن عالمی شہرت یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی سے مصافحہ کر رہے ہیں۔‘‘
ملالہ ایک سیاہ فام غیر مسلم سے ہاتھ ملائے کھڑی ہے اور اس کے والد محترم گلے میں ملالہ کی تصویر کا کارڈ پہنے بے غیرتی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی ہنسنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ تصویر سے صاف ظاہر ہے۔
ضیاء ’’صاحب‘‘ آج مجھے تم پر بڑا ترس آ رہا ہے کہ دولت و شہرت اور باہر جانے کی لالچ نے آج تمھیں ایک ایسے دوراہے پہ لاکر کھڑا کیا ہے کہ تمھیں شرم بھی محسوس ہو رہی ہے اور اسے چھپانے کے لیے مصنوعی ہنسی بھی ہنستے ہو۔ کیوں کہ آپ چاہے کتنا بھی لبرل ازم کا لبادہ اوڑھیں مگر رگوں میں تو پھر بھی ایک پختون خون دوڑ رہا ہے نا۔ ایک پختون کی غیرت یہ کبھی گوارا نہیں کرتی کہ اس کی بہو بیٹی کسی غیر مرد کے ساتھ ہاتھ ملائے، کیوں کہ اس کے بعد پینگیں بڑھتی ہیں اور پھر وہ کچھ ہوتا ہے جس سے ہر غیرت مند باپ پناہ مانگتا ہے۔ لیکن خیر، اب جو ہوا اس پر پچھتانا کیا۔ یہ سب آپ ہی کا تو کیا دھرا ہے، جس کا آپ روزانہ خواب دیکھتے تھے اور اس مقام تک پہنچنے کے لیے تعویز گنڈے اور وظائف تک لینے سے نہیں کتراتے تھے۔اس خواب کی تعبیر ایسے ہی تو نکلنا تھی۔ جس دولت اور شہرت کے لیے آپ نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا ہے، اس کا خمیازہ تو اب بھگتنا ہی پڑے گا۔
ضیاء صاحب! وہ دن دور نہیں کہ تم اس جنت نظیر مٹی کے لیے خون کے آنسو روؤگے، کچھ نہ سہی مگر پھر بھی تم نے یہاں آنکھ کھولی ہے۔ یہ مٹی خون بن کر تمھاری رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ تم جیسے ضمیر فروشوں کے لیے اپنے ضمیر کے کچھوکے ہی کافی ہیں، مگر مجھے افسوس ان پھول سے بچوں پر ہوتا ہے جن کی بلی تم نے اپنی شہرت کی خاطر چڑھادی۔
دوسری خبر روزنامہ آزادی میں دو کالمی کچھ یوں چھپی ہے کہ ’’نائجیریا کی صورت حال سوات جیسی ہے،ملالہ یوسف زء۔‘‘ (ملالہ کی نائجیریا میں مغوی طالبات کے والدین سے ملاقات)
ملالہ، انھی سطور میں بار بار آپ سے اور آپ کے مہان باپ سے منتیں کر چکا ہوں کہ آپ اپنا مشن جاری رکھیں، لیکن خدا کے لیے میری جنت نظیر وادئ سوات اور اس کے معصوم عوام کو مزید بدنام نہ کریں۔ آپ اپنی اور اپنے والد کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کریں مگر خدارا سوات کے عوام کے سروں پر مزید سودا بازی نہ کریں۔ مال تو میری وادی کا نام استعمال کرکے کمارہے ہیں آپ لوگ، مگر جب فائدے کی بات ہوتی ہے تو یا تو خوشحال پبلک اسکول یاد آجاتا ہے یا پھر ضیاء صاحب کا آبائی گاؤں۔
ملالہ، میری دودھ پیتی بچی، نائجیریا اور سوات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ چند شرپسندوں نے تعلیم پر پابندی لگائی تھی۔ آپ تو اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ آپ کو تو یاد ہوگا جب ہم ٹی وی کے لیے آپ سے ایک ایک جملہ رٹواتے تھے۔ اپنے ضمیر فروش باپ سے پوچھ لو کہ جب طالبان کی جانب سے پندرہ جنوری کی ڈیڈلائن دی گئی کہ بچیوں کو اسکول نہیں جانے دیں گے، تو ان دنوں اسکولوں میں عام تعطیل تھی، لیکن اس کے باوجود، تم اور تمھارے والد اپنے اسکول کے سیکڑوں بچیوں کو اپنی حالت پر چھوڑ کر ایبٹ آباد فرار ہوگئے تھے اور وہی پر ایبٹ آباد کے بازاروں میں گھوم رہے تھے۔ آج آپ کس منھ سے نائجیریا کا موازنہ سوات سے کر رہی ہیں۔ آپ اگر مالی فوائد اپنے والد کے آبائی گاؤں کو دینا پسند کرتی ہیں، توسوات کو بدنام کرنے کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں۔ اگر سوات کا نام استعمال کرکے آپ کا والد آج مست ہے اور آپ بھی غیر مسلموں کے ساتھ مصافحے میں شرم محسوس نہیں کرتی، تو کم از کم ہماری وادی کا نام تو بدنام نہ کریں، نائجیریا کے ساتھ ہمیں ایک تو شمار نہ کریں۔
بھئی، مجھ پر تو ویسے بھی انگلیاں اٹھتی ہیں کہ آپ ملالہ اورمہان ضیاء ’’صاحب‘‘ کے خلاف ہیں۔ بھئی، کیوں نہ ہوں گا کہ نادانستہ طور پر ان کرداروں کو تراشنے میں میرا بھی حصہ رہا ہے۔ اور تو اور اب تو بی بی سی (وہ چینل جس نے ملالہ کے کردار کو بام عروج پر پہنچایا) بھی شائد اپنے کیے پر نادم ہے۔ تبھی تو 14 جولائی کے انور شاہ کے لکھی گئی فیچر اسٹوری میں جلی حروف سے درج ہے کہ ’’سوات کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کا نعرہ لگا کر فنڈ بھی اکھٹا کر رہی ہے، مگر آج تک اس نے کسی سرکاری تعلیمی ادارے کی بحالی یا ان میں پڑھنے والے بچیوں کے لیے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔‘‘
انور شاہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’بتایا جاتا ہے کہ ملالہ فنڈ سے خوشحال اسکول جو ملالہ کے والد ضیاء الدین کا اسکول ہے، کے چالیس بچیوں میں ماہانہ تین ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے، جو دو سالہ منصوبہ ہے۔ اس حوالے سے مینگورہ شہر کے ایک مقامی شخص حبیب گل نے بتایا کہ ملالہ اور اس کے والد ضیاء الدین پاکستان میں صرف اپنے ذاتی اسکول کو ترقی دے رہے ہیں، اگر اسے سوات کی غریب بچیوں کا خیال ہوتا، تو وہ ملالہ فنڈ سے یہ وظیفہ سرکاری اسکول میں غریب بچیوں کے لیے مختص کرتی نہ کہ پرائیوٹ اسکول میں پڑھنے والے امیر لوگوں کی بچیوں کے لیے۔‘‘
یہ ہی نہیں آگے پڑھیے: ’’ضلع سوات اور شانگلہ کے سیکڑوں اسکولوں میں ہزاروں بچے اور بچیاں ملالہ کے نام سے بھی ناواقف ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر ملالہ اپنے علاقہ کی بچیوں کے لیے کچھ کرتی، تو یقیناًآج ان کے آبائی علاقے کی ہر بچی نہ صرف اسے جانتی بلکہ اس جیسا بننے کی کوشش بھی کرتی۔ ایک سرکاری اسکول کی استانی نے بتایا کہ سوات کی بچیاں اب ملالہ کے نام سے بھی نفرت کرتی ہیں اور اس کی مثال سوات کے علاقے سیدو شریف میں گرلز کالج کی وہ طالبات ہیں، جنھوں نے کالج کا نام ملالہ کے نام پر رکھنے پر شدید احتجاج کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ملالہ ڈے کے حوالے سے کسی کو کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔‘‘
ملالہ، یہ اسی بی بی سی کی رپورٹ ہے جس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کے ایک رپورٹر نے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھی، اور بعد میں سے تمھارے سر تھوپ دیا۔ اسے اس کام کا کتنا معاوضہ ملا، واللہ اعلم مگر جو تمھیں اور تمھارے والد کو ملا، وہ اہل سوات اور باقی ماندہ دنیا دیکھ رہی ہے۔
قارئین کرام! بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ایک روز دو فیچر اسٹوریز اگر کسی نے ملاحظہ کی ہوں (جنھیں روزنامہ چاند کے چودہ جولائی کے ادارتی صفحہ پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے شکریہ کے ساتھ بھی شائع کیا گیا ہے)، تو شک سا گزرتا ہے کہ وہاں بھی ان کرداروں کو تراشنے والوں کے ضمیر پر ایک قسم کا بوجھ ہے اور اب وہ بھی اس جرم عظیم کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ ضیاء ’’صاحب‘‘ نے سوات کے بیشتر صحافیوں کو ای میل کے ذریعے ملالہ ڈے کے حوالے سے کچھ لکھنے اور ان کا امیج بحال کرنے کے حوالے سے کہا ہے مگر شکر ہے کہ اب ہماری برادری مزید ان کھیلوں کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔ ضیاء ’’صاحب‘‘ کا اک آدھ بہی خواہ اگر کچھ مہم چلائے بھی تو وہ پشتو کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’پہ یو ہندو بٹ خیلہ نہ ورانیگی۔‘‘
جاتے جاتے ملالہ اور اس کے مہان والد بزرگوار سے گزارش ہے کہ کچھ بھی کہتے پھریں مگر جس علاقہ سے آپ لوگوں کا دہندہ چل نکلا ہے اس کا موازنہ تو نائجیریا جیسے بدنام ترین علاقہ سے نہ کریں۔ جس تالی میں کھاتے ہیں اس میں چھید نہیں کیا کرتے۔ کاش مہان ضیاء ’’صاحب‘‘ کا ضمیر (اگر زندہ ہو، تو) اسے یہ کہنے پر مجبور کرے کہ بس بہت کمائی کی اب غیروں کے ایجنڈے کو طاق نسیاں کا حصہ بناتے ہیں۔ اے کاش! ایسا ہو۔
1,123 total views, no views today


