زبان، خیالات اور جذبات کے اظہار کامؤثر ذریعہ ہوتا ہے۔ ہم زبان کے ذریعے ب�آسانی تبادلہ خیال کرسکتے ہیں، بہ شرط یہ کہ ادا کیے گئے الفاظ یا جملوں کو سمجھ جائیں۔ زبان ہی کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اس قربت کے لیے زبان سمجھنا یا بولنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ زبان کی شیرینی، مناسب الفاظ کا استعمال اور خلوص دل کا ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔
زبان ہی کی بہ دولت باہم رشتے اور ناطے پروان چڑھتے ہیں اور کاروباری لین دین استوار ہوتے ہیں۔ زبان کے درست استعمال ہی کی وجہ سے ایک دوسرے پہ اعتماد بہ حال رہتا ہے۔
ایک زبان کے ہونے کی وجہ سے قبائل وجود میں آتے ہیں۔ قبیلے کے لوگ ایک دوسرے سے مشترکہ زبان کی ڈور میں بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کے عادات و اطوار اور رہن سہن بھی تقریباً ایک جیساہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ قبیلہ ایک ہی آبا و اجداد سے تعلق رکھتا ہے۔ جب مختلف قبائل زبان ثقافت اور دینی مناسبت سے ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں اور ان کے مراسم آپس میں بڑھنے لگتے ہیں، تو وہ ایک قوم کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ قبائل کے اس طرح یک جا ہونے کے بعد قوم کی شکل میں انھیں ایک مشترکہ قومی زبان کی بھی ضرورت پڑتی ہے، جو ان کی شناخت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومی زبان تو اُسی دن سے جنم لے لیتی جب قبائل ایک دوسرے میں ضم ہوکر ایک قوم کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں مگر با ضابطہ طور پر کاغذی اور دفتری کارروائی کے ذریعے کسی زبان کو کسی قوم کی قومی زبان قرار دینا بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے، جس پر عوام و خواص دونوں متفق ہوں۔
قومی زبان کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انکار کرنا ممکن ہے۔ ہم ایک پاکستانی اور بلا شبہ مسلمان قوم ہیں۔ مذہب اور تہذیب کے تناظر میں مسلمان قوم کا نہ تو کوئی مد مقابل کبھی تھا نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے دین اسلام پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کی تقلید بلکہ نقالی کرکے کچھ قومیں بام عروج پر ہمیں پہنچی ہوئی نظر آنے لگی ہیں۔ درحقیقت ایسا ہے نہیں۔ یہ تو دنیاوی چمک دمک ہے، جس کا حصول ایک مسلمان کا مقصود ہے اور نہ ہی اس کی منزل۔ اگر ایسی اقوام کو ہم مہذب یا تہذیب یافتہ سمجھ کر اُن کی قدم بوسی کی کوشش کریں گے، تو یہ ہماری نادانی ہی ہوگی۔ مسلمان ایک سادہ دل اور مخلص قوم ہیں۔ یہی سادگی اور اخلاص بعض اوقات اسے نقصان سے ہم کنار کردیتی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہماری ترقی انگریزی زبان میں پوشیدہ ہے، جب تک ہم انگریزی نہیں سیکھیں گے، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم ترقی کے حصول میں کامیاب ہوسکیں۔ یہ نظریہ یا خیال کسی حد تک تو درست نظر آتا ہے، مگر یہ کسی پتھر پہ لکیر بھی نہیں ہے کہ اسی لکیر کو پیٹنے بیٹھ جائیں اور زبان کی حد تک تو درست ہے کہ ہم انگریزی سیکھ لیں مگر یہ ترقی کی ضمانت ہر گز نہیں ہے۔
علوم کا سرچشمہ تو عربی ہے، ہم کیوں نہ عربی سیکھ لیں جس میں دینی اور دنیوی دونوں ترقیاں مضمر ہیں۔ اگر نیت ترقی کا حصول ہی ہے تو۔ لیکن اگر دیکھا جائے، تو اہل عرب میں بھی غریب لوگ موجود ہیں اور معاشرتی بے راہ روی بھی موجود ہوگی، کیوں کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں۔ کوتاہیاں ہوہی جاتی ہیں کہ انسان، انسان ہوتا ہے (عام انسان) اور فرشتہ فرشتہ۔ تو اس سے ظاہر یہ ہوا کہ ترقی کسی بھی زبان کی مرہون منت نہیں ہوسکتی، جب تک کہ ارادہ ترقی نہ ہو۔
کیا انگریز معاشرے میں غربت نہیں ہے؟ کیا وہ سب کے سب دودھ کے دھلے ہوئے تہذیب یافتہ لوگ ہیں؟ انسانیت، تہذیب اور ترقی یہ انسان کے اندرونی احساسات و جذبات ہیں۔ جہاں تک زبانیں سیکھنے یا سمجھنے کا تعلق ہے، تو یہ ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ زبانیں سیکھنے پہ کوئی پابندی یا قدغن نہیں، مگر اپنی قومی زبان کو پس پشت ڈال کر اغیار کی زبان کو فوقیت دینا لسانی غلامی قبول کرنے کے مترادف ہے۔
تہذیب کا ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ قومی زبان بھی کسی قوم کی تہذیب کا حصہ ہی ہوتی ہے۔ دوسری زبانوں کے ساتھ ساتھ اپنی قومی زبان اُردو کو بھی اُتنی اہمیت دینا چاہیے۔ اگر ہم اپنی قومی زبان کو قدر کی نگاہ سے نہ دیکھیں، تو کون آکر اسے زندہ رکھے گا؟ آخر ہم کب اپنی قومی زبان کو دوسری زبانوں پہ فوقیت دینا شروع کریں گے؟
کسی زمانے میں فارسی کا بول بالا تھا۔ وہ بھی مسلمانوں کی زبان تھی، وہ کیا ہوئی؟ اُسی کی اہمیت کیوں ختم ہوکر رہ گئی؟ کیا اس پر کبھی سوچا؟ وہ تو اس وقت چھائی ہوئی زبان تھی جب کہ اُردو تو ایک نوزائیدہ زبان ہے۔ اگر یہی رویہ اُردو کے ساتھ روا رکھا گیا، تو شاید یہ بھی اپنی موت خود ہی مرجائے۔ فارسی کو تو اُردو کی ماں کہا جاتا ہے جب وہ نہ رہی، تو بے چاری اُردو۔۔۔
وقت کا تقاضا ہے کہ انگریزی پہ توجہ دو، ارے یہ تقاضا آخر کیسے پیدا ہوگیا؟ ہم اتنے مجبور کیوں کر ہوگئے؟ ٹھیک ہے، وقت کے ساتھ دوڑنے کے لیے اُس کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر اُردو، جی ہاں اُردو بھی۔ ہم سادگی کی وجہ سے بہت جلد بھول جاتے ہیں، بہ حیثیت مسلمان در گزر ہمارے خمیر میں موجود ہے، لیکن عقل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہمیں کم از کم یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اُردو اور مسلمان کو کس کس طرح نفرت اور نا انصافی کا نشانہ بنا کر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تاریخ گواہ ہے کہ اُردو کو منوانے کے لیے ہمارے ادباء، مصنفین اور شعراء نے شبانہ روز بڑی محنت کر کرکے اسے پروان چڑھایا۔ انھوں نے اُردو کے خلاف اُٹھنے والی ہرسازش کو اُٹھنے سے پہلے زمین چٹوانے کی کوشش کی۔ اُردو ایک ایسی زبان تھی جسے اُس وقت دیگر زبانیں بولنے والوں میں سے کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ اسے کوئی بھی در خورِ اعتنا نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے مسلمانوں کی زبان جان کر نفرت کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور یہ درست ہے کہ اُردو دراصل مسلمانوں ہی کی زبان ہے۔
یقین کیجیے کہ ہم بہت خوش نصیب لوگ ہیں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ہمیں تو اُردو اور پاکستان گویا پلیٹ میں سجا کر بخشے گئے ہیں۔ ہم نے اُردو کی آب یاری اور نشوونما میں خون جگر پیش کیا ہے اور نہ پاکستان بنانے میں اپنی جانوں کا نذرانہ ہی پیش کیا ہے۔
(جاری ہے)
882 total views, no views today


