مینگورہ(سوات نیوزڈاٹ کام )سوات میں مزدور یونین نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں جلسے جلوس ،دھرنے اور چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بچوں کو احتجاجاََ سکول نہ بھیجنے کا اعلان کردیا ،حکومت مزدوروں کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے حالانکہ مزدور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتے ہیں،حکومت ہمارے حال پر ترس کھا کر مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے،اس حوالے سے متحدہ اتفاق لیبریونین کے جنرل سیکرٹری زین العابدین،صدر عبدالودود،فضل اکبر اوردیگر عہدیداروں نے سوات پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا اور خصوصاً ضلع سوات کے صنعتی ملازمین اس جدید دور میں بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، سابقہ وفاقی حکومت وسابقہ وزارت خزانہ اور ورکرویلفیئر فند اسلام آباد نے کے پی کے کے مزدوروں کا ستحصال کیا ہے ، کرپشن کے نام پر کنٹریکٹ اور ریگولر کے نام پراساتذہ کو تنگ کیا ، الٹا ورکنگ فورکس گرائمر سکولز کے معصوم طلبہ کو پڑھائی سے محروم رکھا گیا کیونکہ کئی سالوں سے کنٹریکٹ ملازمین اساتذہ مسلسل تنخواہیں لینے کے باوجود ہڑتال پر تھے ، ورکرویلفیئر فنڈ اسلام آباد نے ٹھیکیداری نظام کو ختم کرکے بچوں کے ولدین کو اپنے بچوں کیلئے کتب ، یونیفارم خریدنے اور بچوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کو کہا گیا ، یونیفارم کی مد میں ادائیگی نہیں کی گئی اور عرصہ15/16 ماہ سے بچوں کے والدین کا ورکر ویلفیئر فنڈ اسلام آباد اور ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کیساتھ ٹرانسپورٹ کی مد میں ہزاروں روپے بقایا ہیں ، انہوں نے کہا کہ ورکنگ فوکس گرائمر سکول میں صنعتی ملازمین کے بچوں کی تمام سہولیات مفت فراہم کیجاتی ہیں ، 5سال کا عرصہ گرز گیا مگر ورکر ویلفیئر فنڈ اسلام آباد اور ورکر ویلفیئربورڈ خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام ان ادائیگیوں میں ٹال مٹول کررہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ سوات کے صنعتی ملازمین بے روزگاری ، مہنگائی اور غربت کیوجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہیں اور دوسری جانب قرض خواہ انہیں تنگ کرتے ہیں ،اس سلسلے میں حکام کو آگاہ کیا مگر کوئی شنوانہیں ہوئی،انہوں نے کہاکہ یکم اگست سے سکولوں کی چھٹیاں ختم ہورہی ہیں مگرہمارے پاس وسائل نہیں لہٰذہ ہم مجبوراََ بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے جس سے چائلڈ لیبر کا مسئلہ سنگین ہوسکتا ہے ، مزدوروں کے کئی سالوں سے جہیز فنڈ ، فوتگی گرانٹ اور سکالر شپ کے ہزاروں کیسیز التواء میں ہیں جس کی وجہ سے صنعتی ملازمین شدید مشکلات سے دوچار ہیں ، ہمارے مسائل حل کئے جائیں ،انہوں نے کہاکہ عرصہ دس سال سے وزارت خزانہ پاس صنعتی ملازمین کے دو سو ارب روپے پڑے ہیں جن کے ہڑ پ ہونے کا خطرہ انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے تمام مطالبات فوری طور پر حل نہ ہوئے توضلع بھر کے مزدور احتجاج کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع کریں گے۔
1,460 total views, no views today



