کہتے ہیں پرانے زمانے میں ایک پیرہواکرتاتھا جوہفتے میں صرف منگل کے روز جنگل سے نکل کر آبادی کارخ کرتااورلوگوں کے مسائل سنتا،مسائل حل ہوتے تھے یا نہیں اس بارے میں تاریخ خاموش ہے البتہ لوگوں نے موقع کی مناسبت سے اس شخص کا نام، منگل کا پیر، رکھ دیاتھاجس کے بعدمحاورہ منگل کا پیروجود میں آیا،اسی طرح چور مچائے شور،جنگل میں منگل،منگل کا پیر،چورکی داڑھی میں تنکاااور دیگربہت سے محاورے تو کافی پرانے ہیں جن کاکوئی نہ کوئی تاریخی پس منظر موجود ہے مگر,اگست میں مارچ ,کا محاورہ ابھی نیانیامارکیٹ میں آیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس محاورے کا بہت چرچاہورہا ہے اورمزے کی بات یہ ہے کہ یہ نیامحاورہ کسی دانابزرگ نے نہیں بلکہ ایک سابق کرکٹراورسیاست کے میدان میں نوواردعمران خان نامی شخص کی کوششوں سے وجود میں آیا ہے تاہم کشمکش اس وقت پیداہوگی جب اگست کا مہینہ گزرجائے گا اورستمبرکا مہینہ شروع ہوگا،مبصرین اورتجزیہ نگار ابھی سے سرجوڑے بیٹھے ہیں کہ اگست کے بعداس مارچ کو کیا نام دیا جائے گا ,ستمبرمارچ,؟ یا کہ اگست مارچ کانام ہی ٹھیک رہے گا ،اگر ہر ماہ اس مارچ کا نام تبدیل ہوتا رہاتو سال کے بارہ مہینوں کے ہرمہینے میں اس کاایک نیا نام رکھناپڑے گاجس سے اس محاروے کی افادیت اوراہمیت تو ختم ہوکر رہ جائے گی۔
ان سطورمیں شائد کسی عمران نامی شخص کا تذکرہ کیاگیا ہے ،یہ وہی شخص ہے کہ جس نے کچھ عرصہ قبل ہونے والے عام انتخابات میں وہ سبزباغ دکھائے وہ باغ دکھائے کہ الیکشن کے دوران ہمارے صوبے کے سادہ لوح عوام نے آنکھیں بند کرکے اپنا ووٹ ان کے بکسوں کی نذر کرکے مستقبل کی تمام تر امیدیں ان سے وابستہ کردیں ،الیکشن ہوا،نتائج سامنے آگئے ،خیبرپختونخوامیں پی ٹی آئی فتح یاب ہوئی ،حکومت بھی بنائی ،ممبران صاحبان اسمبلی میں بھی بیٹھ گئے اورعوام بے چینی سے منتظر رہیں کہ اب ان کی امیدیں بر آئیں گی مگر ماضی کی طرح اس حکومت نے بھی عوامی امیدوں کا قتل عام کردیا ،اس پارٹی کا لیڈرتوپڑگیا دھرنوں ،مارچوں اوراحتجاجوں کے پیچھے اورساتھ ساتھ اپنے زندہ بادمردہ بادکے نعروں میں ہم نوائی کرانے کیلئے ایک ایمورٹڈشخص سمیت کئی پارٹیوں کو بھی اپنے پیچھے لگالیاانہی نعروں کے دوران پختونخواکے عوام کو پتہ چلا کہ یہ صاحب تونہ صرف کے پی کے میں اپنی ناکام حکومت کوقائم رکھنے اور پورے ملک پر حکمرانی کرنے کا خواب بھی دیکھ رہے ہیں جسے شرمندۂ تعبیرکرنے کیلئے وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگارہے ہیں،لگتاہے یہی وہ تبدیلی ہے جو عمران خان لانا چاہتے تھے کہ ایک طرف خیبرپختونخوا کے عوام مسائل اورمصائب کی چکیوں میں پس رہے ہیں اوردوسری جانب صاحب بہادروزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں بلکہ انہیں حکم دے رہے ہیں۔
اورتو اور پچھلے ہفتے پشاور میں تباہ کن طوفان اوربارش نے کئی افرادکی جانیں لے لیں جہا ں پر لوگ اپنے پیاروں کی میتوں کے پاس بیٹھ کررورہے تھے اورہمارے وزیراعلیٰ صاحب سٹیج پر ڈانس کرکے دادوصول کررہے تھے ،قوم کو پتہ نہیں تھا کہ پی ٹی آئی ایسی تبدیلی لائے گی کہ ایک طرف لوگ مردوں کیلئے کفن سی رہے ہوں گے اوردوسری طرف ان کا وزیراعلیٰ ناچ گانے میں مصروف ہوں گے ،کے پی کے کے عوام سمیت پی ٹی آئی کے کارکن بھی سمجھ چکے ہیں کہ عمران خان کے مقاصد کیا ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں ووٹ دینے پرپچھتارہے ہیں اورکارکن ان کا ساتھ دینے پر نادم ہورہے ہیں،تبدیلی کا نعرہ لے کرعمران خان تو جیسے کشتیاں جلاکروفاقی حکومت کے پیچھے پڑچکے ہیں روزانہ نئی نئی تقریریں اورجذباتی اندازاپناکر وہ قوم کوگمراہ کرنے کی ناکام کوششو ں میں لگے ہوئے ہیں مگرانہیں اب ہوش کے ناخن لینے چاہئے اگر یہ مارچ مزید طول پکڑگیاتووہ اس میدان میں اکیلے رہ جائیں گے کیونکہ انصاف اورتبدیلی کے نام پر آنے والی پارٹی کی مرکزی قیادت تو خودانصاف کا گلہ کھونٹے میں مصروف نظر آرہی ہے ،اس وقت بے جادھرنوں اورلاحاصل مارچو ں پر قومی وسائل بڑی بے دردی کے ساتھ خرچ ہورہے ہیں جوایک طرح سے قوم کا معاشی قتل ہے مگر جو لوگ اس کے مرتکب ورہے ہیں انہیں اس کا احساس تک نہیں۔
ہماری مسلم لیگ کی حکومت سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ ہمیں تو قومی وسائل کے ضیاع اوربڑھتی ہوئی عوامی مشکلات کی فکرلاحق ہے کہ کئی دنوں سے جاری دھرنوں کی وجہ سے لوگ شدیدذہنی تناؤ کا شکار ہیں،ان دھرنوں سے صرف ملاکنڈڈویژن کو روزانہ بار ہ ارب روپے کا نقصان پہنچ رہاہے تو پورے ملک کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہوگایہ حساب لگانے سے سینکڑوں صفحات توسیاہ ہوسکتے ہیں مگر ان نقصانات کا اعادہ نہیں کیا جاسکتا اوریہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کی ضدی قیادت کواس کی کوئی فکرنہیں کیونکہ اسے توصرف کرسی اورپورے ملک پر حکمرانی کرنے کی فکرہے،عمران خان صاحب دوسروں کے گریباں سے ہاتھ نکال کرذرااپنے گریباں میں بھی جھانک کردیکھئے کیاآپ کو خیبرپختوخوااورخصوصاََ ملاکنڈڈیژن کے عوام کا حال نظر نہیں آرہا،مصائب ،مشکلات ،پریشانیاں،مہنگائی ،بے روزگاری،لوڈشیڈنگ ،بحران،ہسپتالوں اورتعلیمی اداروں میں سہولیات کا فقدان،ممبران اسمبلی کی ناقص اورمایوس کن کارکردگی اوردیگرمسائل کی بہتات سے آپ بے خبرہیں؟؟اگر آپ کو علم نہیں تو پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کو تو اس بارے میں علم ہے،پھرکیا وجہ ہے کہ صوبائی حکومت ان مسائل سے چشم پوشی کررہی ہے۔۔ ؟
کیا واقعی پی ٹی آئی کامقصد صرف اقتدارکا حصول تھا ،جو وسائل اورصلاحیتیں پی ٹی آئی آج دھرنوں اوربے جا مارچوں پر خرچ کررہی ہے اگر وہ ملاکنڈڈویژن میں کی تعمیروترقی پر خرچ کئے جائیں تو یہ علاقہ ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہوسکتا ہے مگرذہے نصیب کہ ہم اس بات کاصرف خواب دیکھ سکتے ہیں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس کا تصورنہیں کرسکتے،کچھ بھی ہوعمران خان نے ان دھرنوں سے اپنا اعتماد کھودیا اس بات کا زندہ ثبوت سوات آکر دیکھاجاسکتا ہے،بازاروں،مارکیٹوں ،دفاتر،گھروں حجروں اوریہ دیگر مقامات پر یہی دھرنے زیرموضوع بنے ہوئے ہیں اوراس پر گرما گرم بحث ہورہی ہے جس کا اختتام اسی ایک بات پرہوتا ہے کہ عمران خان نے اپنا اعتمادکھودیا ہے آئندہ کیلئے عوام اپناووٹ کچرے کے ڈھیرپرتو پھینکناگوارہ کریں گے مگر پی ٹی آئی کے امیدوارکے بکس میں نہیں ڈالنے کی حماقت ہرگز نہیں کریں گے،اب بھی وقت ہے کہ عمران خان راہ راست پر آجائیں اورعوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے باقی ماندہ صلاحیتیں خرچ کریں تو شائد عوام میں اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرسکیں۔
722 total views, no views today


