سوات، خیبر پختونخوا میں یوتھ پالیسی بنا کر نوجوانوں کے مسائل حل کئے جائیں تاکہ وہ اپنا مستقبل بہتر بنا سکے، نوجوان اس ملک کے مستقبل ہیں اور انہی نے اگے جاکر ملک وقو م کیلئے کچھ کام کرنا ہے، دوسرے صوبوں نے یوتھ پالیسیاں بنارکھی ہیں لیکنموجودہ صوبائی حکومت میں ابھی تک اس پر کام نہیں ہوا ، ان خیالات کااظہار او وائی این کے
شان الہیٰ ،فضلمولا ، ڈاکٹر خالد محمود خالدسمیت دیگر مقررین نے ایک روزہ یوتھ پالیسی کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں کیا، یوتھ پالیسی کے حوالے سے پروگرام او وائی این اور سی وائی اے اے ڈی نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا، جس میں سیاسی ، سماجی شخصیات،سول سوسائیٹی ، اساتذہ کرام اور نوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے صوبے میں اکثریت نوجوانوں کی ہے لیکن ابھی تک ان نوجوانوں کیلئے یوتھ پالیس نہیں بنائی گئی،انہوں نے کہا کہ پنجاب میں یوتھ پالیسی بنائی گئی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے صوبے میں یوتھ پالیسی ابھی تک نہیں بنائی گئی، نوجوانوں نے یوتھ پالیسی کا ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے ، جس کو صوبائی اسمبلی کے فلور پرپیش کرنے اور اس کو منظور کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، مقررین نے کہا کہ یوتھ پالیسی کے حوالے تفصیلی بات کی ، اس سے قبل بھی او وائی این اور سے وائی اے اے ڈی نے یوتھ پالیسی پر سیمنار منعقد کئے ہیں۔
384 total views, no views today


