سوات (سوات نیوزڈاٹ کام) سوات پاسپورٹ آفس ٹاون شپ میں بے چارے لوگوں کو لوٹ مارنے کا سلسلہ جاری ہے ،پاسپورٹ بنانے کے لئے آنے والے فی کس سے صحیح فیس سے 300سے 500روپے تک زیادہ لے جاتے ہیں، لوگوں کے جانب سے یہ بتایا جارہا ہے کہ مبینہ طور پر ٹھیکدار کے لوگ یہ زیادہ روپے لیتے ہیں ،جس سے عوام نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان ، ڈی سی سوات ،اے سی کبل اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے ،
پاسپورٹ بنانے کے لئے آئے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگ 3000کے بجائے 3300روپے لیتے ہیں ، انہوں نے کہا غریب بندے اگر 300روپے زیادہ لیا جائے تو کہا کا انصاف ہے ۔
اس حوالے سے جب ٹاون شپ میں ٹھیکہ دینے والے ادارے ایس ڈی ڈی اے کے سپریڈنٹ وقار احمد سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایس ڈی ڈی اے والوں نے ٹیکسی اسٹنڈ کا ٹھیکہ ٹھیکدار کو دیا ہے جس میں سوزوکی اور رکشہ کا ٹیکس ہے ،اگر ٹھیکدار اس طرح غیر قانونی کام کرتے ہیں تو اس سے ایس ڈی ڈی اے کا کوئی کام نہیں ہے ، انہوں نے یہ بات بھی واضح کیا کہ اگر پاسپورٹ اآٖفس میں نیشنل بینک کاونٹر کھولا جائے اس سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔
اس سنگین مسئلے کے حوالے سے جب میڈیا نے تحصیل ناظم کبل حاجی رحمت سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کے حوالے سے شکایت ملی ہے جس کو میں اسسٹنٹ کمشنر کبل کوبھیجا ہے اگر اسسٹنٹ کمشنر نے ایکشن نہیں لیا تو پھر ڈپٹی کمشنر کو اگاہ کریں گے۔
ادھر اسسٹنٹ کمشنر کبل اسرار احمد نے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حوالے سے شکایات ملی ہے جس پر جلد ہی کاروائی ہوجائیگی ۔
ٹاون شپ سوسائٹی کے صدر امجد کمال زئی نے اس حوالے سے کہا کہ پاسپورٹ فیس سے زیادہ رقم کی وصولی بے چارے عوام کے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے اس کے روک تھام کے لئے متعلقہ حکام کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔
سوات میں پاسپورٹ کا دفتر ٹاون شپ کانجو میں واقع ہے اور پاسپورٹ بنانا عوام کا حق ہے جس سے عوام کسی دوسرے ملک میں جاکر ادھر مزدوری کررہے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں پر کھلی عام لوگوں سے 300روپے کے رقم زیادہ لی جارہے ہیں جو کہ متعلقہ حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے ؟
1,694 total views, no views today



