حکومت کے خلاف جاری دھرنوں سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور مزید ہو رہی ہے، حکومت نے بڑی محنت سے عالمی اعتماد حاصل کیا تھا لیکن سازش کے تحت حکومت کی 14 مہینوں کی محنت محض چند ہفتوں میں ہوا میں اڑائی گئی، آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6.6 ارب ڈالر قرض دینے کی منظوری دی تھی لیکن موجودہ دھرنوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے وفد کا دورہ منسوخ ہوگیا، اس کے علاوہ چین جو کہ پاکستان میں ایک بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے جسے روکنے کے لئے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے، دوسری طرف مون سون بارشوں کے بعد پنجاب میں دریائے چناب ،جہلم اور راوی میں آنے والے سیلاب سے جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ مشکل ہے، جانی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی پریشان کن حد تک ہو چکا ہے،صرف چار دنوں میں ایک سو تین ہلاکتیں ہوئی ہیں اور مزید سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے، ایسی صورت حال میں بھارت کا دریاؤ ں میں پانی چھوڑنا ایک مجرمانہ فعل ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان جو سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا وہ ویسے بھی پاکستان کے مفادات کے منافی تھا لیکن بھارت نے ہماری غفلت کی وجہ سے پاکستان کے حصے کا پانی بھی اپنے مفاد میں استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
پانی چور بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل ہمارے دریاوٗ ں کا پانی چوری کرنے میں مصروف ہے۔ اس ناپاک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دھڑا دھڑ دریائے چناب ، جہلم اور سند ھ پر ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں 62 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور مزید 106 ابی پراجکٹ کی منظوری کی جا چکی ہے۔1950 میں لیاقت علی خان نے بھارت سے کہا تھا کہ ان دریاوٗ ں جہلم ، چناب، بیاس، ستلج اور سندھ کے موجودہ نظام کو جوں کا توں رہنے دیا جائے ۔ بین القوامی اخلاقی اور قانون کی روح سے بھارت ایسی کاروائی کا اختیار نہیں رکھتا۔ انہوں نے ایسی پیش کش کی تھی کہ اگر بھارت کو واقعی ابپاشی کے پانی کی ضرورت ہے تو نریدہ اور تاپتی دریاوٗ ں کا پانی استعمال کے لئے منصوبے تعمیر کرے اور پاکستان رضاکارانہ طور پر تعمیرات کی مد میں نصف رقم ادا کرنے کو تیار ہے لیکن بھارت نے اس منصوبے کو رد کرتے ہوئے چوری سے بھاکرہ نانگال ڈیم کی تعمیر شروع کی جو کہ اب مکمل ہو چکا ہے اور اس کے اوپر بیراج بھی تعمیر ہوچکے ہیں۔
بھارت کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے ئے اور بھی دریا ہیں لیکن ان کا اصل مقصد اپنی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے سر سبز لہلہاتی سر زمیں کو ویران کرنا چاہتا ہے، بھارت سندھ کو صحرا اور پاکستانی سر زمیں کو بنجر بنانے کے لئے 65 سالوں سے سرگرم عمل ہے، بھارت پاکستان کو مذاکرات کے جال میں پھنسا کر پاکستانی دریاؤ ں کے پانی پر مکمل قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیراہے، بھارت میگا واٹر پراجکٹ پاکستانی دریاؤں پر قبضے کا پنجسالہ منصوبہ ہے جس کے تحت بھارت نے پاکستانی دریاؤں کو شمال سے جنوب کی طرف موڑ دیا ہے جبکہ بھارت دریائے چناب اور جہلم کو اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کی صلاحیت پہلے سے ہی حاصل کر چکا ہے اب وہ دونوں دریاؤ ں کا سو فیصد پانی اپنے زیر استعمال لا سکتا ہے اور اس وقت چناب و جہلم کا ستر فیصد پانی بھارت کے کنٹرول میں ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 2018 تک بھارت اپنا یہ میگا واٹر پراجیکٹ مکمل کر ے گا ،بھارت اس آبی دہشتگردی پر سالانہ 38 ارب ڈالر خرچ کر رہاہے لیکن کبھی بھی اس معاملے کی تحقیق نہیں کی گئی،بھارتی آبی دہشت گردی کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ پاکستانی دریاؤ ں پر بھارتی ڈیموں پر چینل سسٹم کے گیٹ لگائے گئے ہیںیہ سسٹم تین کلومیٹر کے فاصلے پر لگائے گئے ہیں اور اس کے تحت یہ گیٹ کبھی بھی کھولے اور بند کئے جا سکتے ہیں اگر بھارت ان گیٹوں کو بیک وقت کھول دے تو 72 گھنٹوں کے اندر پاکستان ڈوب جائے گا یہ ایک تجرباتی عمل ہے جو آپ نے ابھی دیکھا ہے کہ کس طرح بھارت پاکستانی دریاؤ ں میں پانی چھوڑ کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
امریکی رپورٹ کے مطابق” جنوبی ایشیاء میں پانی کی جنگ” پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ پاکستان کے خدشات کو تقویت دیتی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں مغربی دریاؤ ں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے، امریکی سینیٹر جان کیری کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ڈیم کی تعمیر سے اسے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مل گئی ہے جس سے پاکستان کے لئے پانی کی دستیابی محدود ہوتی جا رہی ہے، پاکستان کسان بورڈ کے صدرکا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کا آغاز 1948 سے ہوا اور تاحال جاری ہے، قومی سطح پر جتنے بھی ایشو ہیں سب سے بڑا ایشو بھارتی آبی جارحیت ہے اور یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ ایک سازش کا ہی نتیجہ ہے کہ 1950 میں یہاں پانی کی فی کس مقدار 5830 کیوبک میٹر تھی اور اب ایک ہزار کیوسک میٹر ہے، 2025 تک یہ صرف 550 کیوبک میٹر رہ جائے گی اور اگر یہ مقدار پانچ سو کیوبک فٹ پر پہنچ گئی تو انسان تو انسان کوئی جانور بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔
ہمارے حکمرانوں نے پانی کا مسئلہ آئندہ حکومتوں پر چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں قوم ایک بڑی کربلا کی طرف گامزن ہے جس سے بچنے کے لئے آنکھیں کھول کر مخلصانہ طریقے سے اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
842 total views, no views today


