لاہور: پی سی بی کے سابق سربراہان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی عدم دلچسپی کے سبب بگ تھری کے معاملے پر پاکستان کا موقف انتہائی کمزور رہ گیا۔ آئی سی سی پر اجارہ داری کے خواہشمندوں کو اپنا منصوبہ مکمل کرنے کا آسان راستہ مل گیا۔
وزیراعظم سے رہنمائی نہ مل سکنے کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اجلاس میں درست حکمت عملی نہ اپنا سکا اور مخالفت کے باوجود آئی سی سی بگ تھری کا مسودہ منظور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ چیئرمین پی سی بی بھر پور کوششوں کے باوجود وزیراعظم سے ملاقات نہ کر سکے۔ ذکاء اشرف نے2بار وزیراعظم کو خط لکھا جب بات نہ بنی تو میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام وزیراعظم کو پہنچانے کی کوشش کی۔ ذکاء اشرف کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم سے ملاقات ہو جاتی تو اچھا ہی تھا کیونکہ اس اہم ایشو پر بورڈ ان سے رہنمائی لے سکتا تھا۔ بگ تھری کی منظوری اور بھارتی کرکٹ بورڈکی کھلم کھلا’’ تڑی‘‘ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہان کو رنجیدہ کر دیا ہے اور انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار پی سی بی کیساتھ حکومت کو قرار دیا ہے۔
سابق چیئرمین جنرل (ر ) توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جو پی سی بی کے پیٹرن انچیف بھی ہیں نے ذکاء اشرف سے ملاقات نہ کر کے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس نے بگ تھری کو پاکستان کا موقف ختم کرنے کا حوصلہ دیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نواز شریف کو ذکاء اشرف سے ملکر ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایات دینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو جذباتی موقف اختیار کرنے کی بجائے اب سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔ پی سی بی کے ایک اور سابق سربراہ خالد محمود نے کہا کہ انتہائی نازک صورتحال میں پیٹرن انچیف کو اہم فیصلے میں خود کردار ادا کرنا چاہیے تھا اور ذکاء اشرف کو ملاقات کا وقت دیکر آئی سی سی اجلاس میں بہتر انداز میں موقف پیش کرنے کی ہدایت کرنی چاہئے تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ٹیسٹ کرکٹر سلیم الطاف نے کہا کہ بورڈ کا چیئرمین مستقل نہ ہونے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا، عبوری انتظامات کے تحت کرکٹ معاملات چلائے جانے کی وجہ سے ٹھوس موقف اختیار کرنے میں دشواری رہی، اہم مسئلے پر حکومت نے بھی کوئی توجہ نہ دی، تمام مسائل کے باوجود پاکستان کو عالمی کرکٹ سے دور کئے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تاہم ان حالات میں بورڈ عہدیداروں اور حکومت کو مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے تاکہ پاکستان کی حق تلفی نہ ہو۔ سابق کپتان راشد لطیف کے مطابق میرے خیال میں معاملہ میچ فکسنگ سے بھی زیادہ کرکٹ کیلئے نقصان دہ ہے، اہم فیصلے کرنے کے تمام اختیارات ’’تین ڈان ‘‘ کو سونپنے سے کرکٹ برباد ہو جائے گی۔
1,109 total views, no views today


