اسلام آباد میں شورشرابا ہے۔ ایک ہنگامہ برپا ہے۔ ایوانوں کے اندر کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ باہر بھی روزانہ تین چار دفعہ جوش خطابت کے جوہر دکھائے جا رہے ہیں۔ روزانہ نئی نئی باتیں، نئے نئے انداز، نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ پھر بھی مسئلہ جوں کا توں ہے۔ مجال ہے جو ایک قدم آگے بڑھا جائے۔ کیوں کہ اصل بات اور حقیقی بات کہنے کے لیے سب گونگے اور سننے کے لیے سب بہرے ہیں۔ بہ قول شاعر
اس شہر کے انداز عجب ہیں میرے یارو
گونگوں سے کہا جاتا ہے بہروں کو پکارو
اپنے اپنے انا کے خول میں سب بند ہیں۔ ہر ایک اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھتا ہے۔ ایک صاحب تو تمام دنیا کو جھوٹا قرار دینے پر تل گئے ہیں۔ جب کہ اپنے آپ کو سچا، پاک باز اورایمان دار ثابت کرنے کے لیے کئی دنوں سے چیخ چیخ کر تھک چکا ہے۔ لیکن لوگ ہیں کہ ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے اڑا دیتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اُس کی بات سننے کے لیے ساری دنیا بہری ہوچکی ہے اور جواب دینے کے لیے گونگی۔ تو صاحب جب ایسی صورت حال ہو، توپھر آپ بس کریں۔ عوام کو معاف کریں اور چلتے بنیں۔
ایک دوسرے صاحب خطیب شہر بن چکے ہیں اور امیر شہر کے خلاف طبل جنگ بجا چکے ہیں، بہ قول شاعر
خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے
سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے
بات دراصل یہ ہے کہ سیاست میں ہر عمل، ہر تحریک اور تبدیلی کے پیچھے ایک پس منظر ہوتا ہے، آج ملکی سیاست کی بحرانی کیفیت میں زیادہ تر اندرونی تضادات اور وجوہات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکم ران اور یہ ریاست ان سڑسٹھ سالوں میں 1956ء، 1962ء اور 1979 ء کے تین آئینی معاہدوں کے باوجود نہ اپنے آپس کے تضادات حل کرسکے اور نہ عوام کے ساتھ اپنے تضادات کم کرسکے۔ اس ساری بحرانی کیفیت کے تجزیوں میں جو مسنگ لنک ہے، وہ افغانستان ہے۔ جو ہماری سیاست، معاشرت اور معیشت پر پینتیس سال سے اثر انداز ہورہا ہے۔ اس عرصہ میں ملک میں جو بھی سیٹ آپ آیا ہے۔ اُس میں افغان حالات ہی بنیاد رہے ہیں۔ آج بھی 2014ء میں امریکی انخلاء کی صورت میں اس ریاست کو ایک ایسے سیاسی سیٹ اَپ کی ضرورت ہے جو بدلتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کرکے ریاست کی توقعات پر پورا اُتر سکے (اگر چہ 11مئی کے الیکشن کا یہ سیٹ اَپ اُسی تناظر میں لیا گیا تھا، جو چودہ مہینے کے بعد توقعات پر پورا نہ اُتر سکا) اس سارے تناظر میں آپریشن ضرب عضب کا بھی بہ غور تجزیہ اور جائزہ لینا چاہیے کہ کیا پیش منظر بنوایا جارہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دیوالیہ ایوانی سیاست کو ایک بار پھر شکست ہوچکی ہے۔ لعنت ہے نام نہاد دیوالیہ روایتی سیاست پر، کہاں ہیں سیاست، سیاسی پارٹیاں اور پارلیمنٹ؟ کہاں ہے جمہوریت اور سیاست کی بالادستی جس میں آرمی چیف سے کہا جاتا ہے کہ بحران ختم کرنے میں ہماری مدد کر۔ یہ کیسی سیاست ہے جس میں تھرڈ ایمپائر سے کردار اور اقتدار مانگا جاتا ہے۔ حکم رانوں کی طاقت اور دولت کی لڑائی میں عوام آخر کیوں کچلے جائیں اور متاثر ہوں؟
طاہر القادری کے انقلابی دھرنے دراصل انقلاب کا مذاق اُڑانا ہے۔ انقلابی تاریخ، انقلابی فلسفے اور انقلابی عمل کے خوب صورت اور دمکتے ہوئے چہروں کو مسخ کرنا ہے۔ انقلاب اور انقلابی ایسے نہیں ہوتے، یہ تو جب ریاست بانجھ ہوجائے اور کچھ ڈلیور کرنے کے قابل نہ رہے اور باشعور، منظم محنت کش طبقے کا وجود بھی موجود نہ ہو، تب حکم ران طبقے کی اندرونی لڑائیاں بھی ایک فرضی انقلابی وجود بنادیتی ہیں، اوریہی کچھ آج یہی ہم دیکھ رہے ہیں۔
محترم نواز شریف کا المیہ اس تاریخی جملے کے مصداق ہے کہ ’’کم فہم اور نادان افراد کو سبق سکھانے کے لیے تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے۔‘‘ وہ تاریخ جانتا ہی نہیں، تو تاریخ سے سبق خاک سیکھے گا؟
ہم دائروں میں چلتے ہیں
دائروں میں چلنے سے
دائرے تو بڑھتے ہیں، فاصلے نہیں گھٹتے
آرزوئیں چلتی ہیں
جس طرف کو جاتے ہیں
منزلیں تمنا کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں
گر داُڑتی رہتی ہے
درد بڑھتا جاتا ہے
راستے نہیں گھٹتے
صبح دم ستاروں کی تیز جھلملاہٹ کو
روشنی کی آمد کا پیش باب کہتے ہیں
اک کرن جو ملتی ہے، آفتاب کہتے ہیں
دائرے بدلنے کو انقلاب کہتے ہیں
قارئین کرام! جب تک حقائق بولنے کی خاطر گونگا پن ختم نہ ہوگا اور حقائق سننے کی خاطر بہرا پن، تو انقلاب نہیں آئے گا۔ اگر جمہوریت اور پارلیمنٹ جعلی ہیں، تو یہ آزادی اور انقلاب کے دھرنے کون سے اصلی ہیں۔
1,136 total views, no views today


