ضلع شانگلہ کے موضع جات کوز کانا اور بر کانا کے بیچ ایک گاؤں ہے شاہ پور، ریاستی دور میں یہاں تحصیل دار کانا کی عدالت اور رہائش گاہ تھی۔ پہلے اس گاؤں کا نام ’’دلئی‘‘ تھا۔ والئی سوات نے اسے شاہ پور کا نام دیا۔ یہاں پر کسی زمانے میں سیدوشریف کے مضافات سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تحصیل دار تھے۔ وہ بہت اچھے خاندان کے فرد تھے۔ عبادت گزار بھی بہت تھے۔ ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہونا اُس کی کم زوری تھی۔ وہ ہر رات رباب کی محفل سجاتے اور دیر تک جاگنے کی وجہ سے اکثر ایسے وقت خواب سے بیدار ہوتے کہ عدالت کا وقت ختم ہوچکا ہوتا۔ سائیلین اور انصاف کے متلاشی تھک ہار کر جا چکے ہوتے یا قریبی خوانین کے حجروں میں روایتی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے لگتے۔ اُن کی شکایت والئی سوات کے کانوں تک پہنچی، تو انھوں نے موصوف کو بلاکر باز پرس کی۔ تحصیل دار نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور! رباب کی لہروں پر میں اڑتا ہوں اور عرش کی سیر کرتا ہوں (نعوذ بااللہ)۔ اس پر والی صاحب نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے، تم واپس کانا مت جانا۔ یہیں اپنے گھر میں بیٹھ کر اُڑتے رہنا۔‘‘
بعض لوگوں پر ایک خاص کیفیت میں نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے دو مشہور صحافیوں پر جو ایک بڑے میڈیا ہاؤس سے وابستہ ہیں، انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان ’’ولی‘‘ ہیں۔ ان دو حضرات میں سے ایک وہ ہیں جو ایک مخصوص حالت میں بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں، نسیم حجازی کے انداز میں لکھ کر دولت کمانے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان وہ نہیں جو نظر آرہے ہیں، وہ ایک خاص قسم کے انسان ہیں، جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
دوسرے صاحب جو خود کو بڑا “Arrogant” سمجھتے ہیں اور اُن کی گفت گو کا انداز اور الفاظ کا چناؤ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنے نفاست پسند اور خود پرست آدمی ہیں۔ انھوں نے فرمایاہے کہ انھوں نے عمران کو اپنے ملازمین کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا ہے جب کہ وہ خود اپنے نوکر کے ہاتھ سے پانی بھی نہیں پیا کرتے۔
عمران خان کے ’’ولی‘‘ ہونے میں اگر کوئی شبہ کسی کے دل میں تھا، تو وہ اب دور ہوجانا چاہیے کہ اس دور کے سب سے بڑے ولی اور گزشتہ ہزار سال کے سب سے بڑے مجتہد (خود ساختہ) ڈاکٹر حضرت علامہ شیخ الاسلام طاہر القادری نے اُن کو گلے سے لگا کر ان کی ولایت کی تصدیق کی۔ آخر ولی ہی ولی کو پہچانتا ہے۔ کیا یہ کرامت نہیں کہ دو ستمبر کو مولوی صاحب کے دھرنے کا ساؤنڈ سسٹم خراب ہوجاتا ہے یا خراب کیا جاتا ہے، پھر قریبی کنٹرینر سے ’’عمو بھائی‘‘ کی آواز آتی ہے کہ حضور یہاں تشریف لائیں اور اپنی ارشادات عالیہ سے ’’پیٹ‘‘ اور ’’پٹائی‘‘ کے جنونیوں کے ہوش اُڑادیں۔ اور پھر دنیا بھر نے دیکھا کہ مولوی جی اُدھر تشریف لے گئے اور خاں صاحب سے بغل گیر ہوگئے، دونوں دھرنے ایک ہوگئے اور
آملے ہیں سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
کے مصداق شاداں و فرحاں ہوگئے۔ اُدھر کنٹینر کی چھت پر ’’من تو شدم، تو من شدی‘‘ کا نظارا ہر طرف لشکارے مارنے لگا۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے اپنے مخصوص طرز خطابت کے جوہر دکھانے شروع کیے، تو انصاف والوں کی بولتی بند کردی۔ مولوی صاحب کی آئین شناسی اور آئینی موشگافیاں ایسی مدلل اور مبنی برحقیقت تھیں کہ پی ٹی آئی والوں کو حیرت و استعجاب سے خاموش اور مؤدب کھڑا ہونا پڑا۔ ڈاکٹر صاحب جو بھی بات کرتے ہیں، مخالفین کو لا جواب ہی کرتے ہیں۔
اُن کے مقابلے میں خاں صاحب سادہ اور عام فہم طریقے سے لوگوں کو کچھ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، مگر اُن کے بعض فرمودات سے وہ تمام شکوک و شبہات قوت پکڑتے ہیں کہ اس پردۂ زنگاری کے پیچھے ضرور کوئی ہے۔
جاوید ہاشمی کے بعض انکشافات اگر واقعی سچے ہیں، تو یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ آج (دو ستمبر کو) خاں صاحب نے پھر اپنی خطاب میں پارٹی راہ نماؤں سے التجا کی کہ وہ مزید لوگ لے کر اسلام آباد آئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’پیٹ‘‘ والوں کی تعداد بہت زیادہ اور مؤثر ہے اور خدشہ ہے کہ اس سارے گیم کا کریڈٹ بھی ڈاکٹر صاحب ہی لے اُڑیں اور جن قوتوں نے ان کو لانچ کیا ہے، وہ اپنا وزن عوامی تحریک ہی کے پلڑے میں ڈالیں۔
’’اور کپتان صاحب دیکھتے رہ جائیں۔ ‘‘
1,124 total views, no views today


