یہ جو اسلام آباد میں دھرنے کا موسم عروج پر ہے، اس دھرنے کا ایک ایک دن حکم رانوں پر کتنا بھاری ہوگا، اس کا اندازہ پہلے ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اترے ہوئے چہرے سے لگاتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ آزاد کشمیر اور پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچانی شروع کی، تو میاں محمد نواز شریف نے اپنا غم دور کرنے اور اپنی فکروں سے نجات پانے کے لیے سیلاب زدہ عوام کی دل جوئی کی کوشش کی۔ اُدھر پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے بھی اس موقع کو غنیمت جانا اور وہ بھی پنجاب کے سیلابی پانی میں اُترنے لگا۔ وہاں پر ان دونوں بھائیوں کو عوامی غصے کا جو سامنا ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے۔
اس دوران میں علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے ایک خطا سرزد ہوئی اور اُن کی خطا یہ تھی کہ کرنسی نوٹوں پر ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لکھے جائیں، لیکن بھلا ہوا کہ اسٹیٹ بنک نے فوری نوٹس لیا کہ کرنسی نوٹوں پر نعرے لکھنے سے کرنسی نوٹ نا قابل قبول تصور کیے جائیں گے۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انھوں نے اس سے توبہ کرلی، لیکن یہ نعرہ سیلاب زدگان کو اچھا لگا اورانہوں نے اس نعرے کو صحیح جگہ اور مقام پر استعمال کرنا شروع کیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نوا زاور شہباز کو خیر مقدمی الفاظ سے یاد کیا جاتا۔ اُلٹا انھوں نے ’’گو نواز گو‘‘ اور ’’گو شہباز گو‘‘ کے نعرے لگانے شروع کیے۔ اس کے دیکھا دیکھی کراچی ائیر پورٹ پر ڈھائی گھنٹے پرواز لیٹ ہونے پر طیارے میں سوار مسافروں نے رحمان ملک اور ن لیگ کے ایک ممبرپارلیمنٹ کو ائیر پورٹ سے بھگا دیا، یوں’’گور رحمان ملک کو‘‘ اور ’’گو رمیش گو‘‘ کے نعروں میں وی وی آئی پی کلچر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی گئی۔ بعد میں رحمان ملک صاحب نے اسمبلی میں تقریر کی کہ میں جہاز پر چڑھا ہی نہیں تھا لیکن ٹی وی کے چینلوں نے اس واقعہ کو ساری دنیا کو پہلے ہی دکھادیا تھا۔
رحمان ملک کے کہنے سے کیا ہوتا ہے؟ ویسے عمران اور قادری کے یہ اسلام آباد دھرنے جلد از جلد کامیابی کے چہرہ دیکھ لیتے اگر یہ چوہدری نثار علی خان اور چوہدری اعتزااز احسن کی لڑائی سچ مچ ہوجاتی لیکن چوہدری نثار علی خان صاحب کو میاں نواز شریف نے سنبھال لیا تھا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے بڑا شور مچایا کہ یہ اب بھی مجھے گالی دے رہا ہے اور مجھے گھور گھور کے دیکھ رہا ہے۔
اعتزاز حسن نے اسمبلی میں ن لیگ والوں کو خوب رگڑا دیا کہ عمران اور قادری کے دھرنوں سے تم شکست خوردہ ہوگئے تھے۔ تم چلتے پھرتے لاش بن گئے تھے۔ یہ تو ہم تھے کہ تمھیں دلاسہ دیا اور تمھاری جان میں جان ڈالی۔
اعتزاز احسن ٹھیک کہہ رہے تھے۔ ورنہ ن لیگ والے تو حوصلہ ہار بیٹھے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کبھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا یوں اکٹھا ہونا کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن یہ پی پی پی کے چیئرمین آصف علی زرداری صاحب کی کرشماتی شخصیت ہے کہ وہ پانی اور آگ کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ ورنہ نواز شریف کے دن گنے جاچکے تھے۔
شیخ رشید صاحب ’’لال حویلی والے‘‘ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے حزب اختلاف کوپیسوں سے خریدلیا ہے۔ وہ یہ بات جرنیلوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کا کیا پتہ؟ نہ ہم شیخ رشید صاحب کی باتوں پر اعتبارکرسکتے ہیں کہ وہ تو زبان دراز ایم این اے ہیں۔ یہ سارے ٹی وی چینل اُن کی گل پاشی کو بغیر کسی کاٹ کرید کے دنیا کو دکھاتے ہیں اور اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔
اسلام آباد دھرنے کے بارے میں مولانا فضل الرحمان صاحب نے کہا ہے کہ ملک کو گزشتہ تیس سالوں میں اتنا بڑا نقصان نہیں ہوا جتنا ان تیس دن کے دھرنوں سے ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب نے اس کا موازنہ پاکستان کے گزشتہ تیس سالوں سے کیا ہے۔ یعنی اُن کے خیال میں دھرنے کا ایک دن اُن کی نظروں میں ایک سال کے برابر ہے۔ اور گزشتہ تین سالوں میں اتنا نقصان پاکستان میں نہیں ہوا ہے جتنا تیس دن کے دھرنوں سے ہوا ہے۔ نقصان سے یاد آیا کہ یہ تو حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام رکاؤٹیں ہٹادے۔ سڑکوں کو کھلا رکھے کہ اس سے آزاد تجارت ہوتی رہے اور لوگوں کے آنے جانے میں بھی رکاوٹ نہ ہو۔ ان دھرنوں سے تجارت پیشہ لوگوں کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ اربوں اور کھربوں روپوں کا ہے اور یہ نقصان حکومت کی بے جا رکاؤٹوں سے ہو رہا ہے، دھرنوں سے نہیں۔
ہاں یہ ہے کہ دھرنوں سے دنیا بھر میں حکومت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے جو کہ براہ راست حکومت کے کھاتے میں جارہا ہے کہ ’’وہ ہر وقت فیصلہ کرنے سے قاصر جو نظر آرہی ہے۔‘‘
672 total views, no views today


