ننگولئی، مُفت کتابوں کی اڑ میں بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب رہاہے۔ سکولوں کے سیشن شروع ہونے میں آدھا سال گزر گیا ہے ۔ محکمہ ایجوکیشن اور صوبائی حکومت بچوں کو کتابیں بروقت فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ہر کلاس میں تقریباً آدھے سے زیادہ بچّوں کی نِصابی کتب میں کمی ہے ۔ جسکی وجہ سے تعلیم کے لیے کئے گئے وعدے ایفانہ ہوسکے ۔ خیبر پختونخواہ حکومت اور خاص کرمحکمہ ایجوکیشن وٹیکسٹ بک کے اہلکار جماعت ادنیٰ سے لے کر میٹرک تک کے طلباء اکثر نِصابی کتب سے محروم ہیں ۔ بعض اساتذہ کرام اور والدین کا خیال ہے کہ کتابیں مُفت نہ سہی لیکن مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے ۔ کیو نکہ بغیر کتابوں کے پڑھائی غیر مؤ ثر ہے ۔ اور اس طرح وہ اس مسئلہ کو حکومت کی نا اہلی گردانتے ہیں ۔ اور مفت تعلیم اور مفت کتابوں کے دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے ہیں ۔ یہ سیشن تو اس طرح ختم ہونے کو ہے لیکن آئیندہ کے لئے کچھ ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔
983 total views, no views today


