بریکوٹ،محکمہ واپڈا کی طرف سے عوام پر زائد بلوں پر جماعت اسلامی کے ایم این اے عائشہ سید نے ایکشن لیتے ہوئے قومی اسمبلی فلور پر آواز اٹھائی ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ سوات کے عوام پر بھاری بھر کم بلز ارسال کرنا ڈرون حملے کے مترادف ہے یاد رہے کہ سوات کے عوام نے مخدوش صورت حال کے دوران اسی فیصد لوگوں نے بلز جمع کیے ہوئے تھے جو کہ ایک ریکارڈ ہے اور اب بھی یہاں پر کوئی بجلی کی چوری اور کنڈا مافیا نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ یہا ں پر ٹرانسفامرز کی خرابی کے دوران عوام خود اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کرتے ہیں اور گرمیو ں کے موسم میں وولٹیج کے کمی کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سوات کے عوام فریج اور دیگر الیکٹرانکس سامان کو بطور شو پیس استعمال کرتے ہیں ۔قومی اسمبلی کے سوالو ں کے نشست کے دوران واپڈا کے وزیر نے کہا کہ سوات میں بجلی سے متعلق جو بھی مشکلات اور مسائل ہیں ہمیں اس بارے میں بتایا جائے تاکہ بجلی کے مسائل پر قابو پا سکیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد سے بریکوٹ پریس کلب کے نمائندوں سے ٹیلی فونک بات چیت کے دوران کیا ۔انہوں نے محکمہ واپڈا کی طرف سے سوات کے عوام پر بھاری بھرکم بلز پر سخت افسوس اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سوات کے عوام کے حقوق کے لئے ہر فورم پر لڑوں گی کیونکہ موجودہ بجلی کے بلز جن میں فیول ایڈجسمنٹ شامل ہیں سوات کے غریب اور سفید پوش طبقے کے ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اگر یہ صورت حال رہی تو عوام بجلی کے استعمال سے محروم ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سوات کے عوام سے بجلی کے بلز کی ادائیگی سب سے زیادہ ہے اور پھر بھی محکمہ واپڈا اور حکومت سواتی عوام کے ساتھ ظلم و ناانصافی کررہے ہیں جوکہ اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے ۔مذید براں انہوں نے کہا کہ موجودہ بلز واپڈا کے حکام بلز کی تصحیح کا طریقہ کار آسان بنائیں اور فوری طور پر بلز کی درستگی کی جائے کیونکہ مزدوراور غریب بچوں کے لئے رزق تلاش کریں گے یا واپڈا کے دفتروں کے چکرلگائیں گے اور ائندہ کے لئے بجلی کے زائد بلز ارسال کرنے سے گریز کیا جائے ورنہ عوامی سیلاب امڈ آئے گا۔جس کی ساری ذمہ داری وفاقی حکومت اور محکمہ واپڈا پر عائد ہوگی ۔
391 total views, no views today


