لاہور: بورڈ کے بعد کینگروز پر غصہ نکال کر یونس خان ہشاش بشاش ہو گئے۔
دبئی ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے بعد دل میں ورلڈ کپ کھیلنے کا ارمان جاگ گیا، تجربہ کار بیٹسمین کا کہنا ہے کہ دونوں اننگز میں سنچریوں کے بعد ملک کیلیے کچھ کردکھانے کا جذبہ مزید جوان ہوگیا، میگا ایونٹ میں انضمام الحق کی طرح چند یادگار اننگز کھیلنا چاہتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ کے مین آف دی میچ یونس خان کو آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز سے ڈراپ کیے جانے پر خاصا طوفان کھڑا ہوا تھا،چیف سلیکٹر معین خان کا کہنا تھا کہ میگا ایونٹ کیلیے نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی کے تحت سینئر بیٹسمین کو منتخب نہیں کیا، دلبرداشتہ یونس خان نے اس فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ بے شک ٹیسٹ سیریز کیلیے بھی زیر غور نہ لایا جائے، بہرحال معاملہ ٹھنڈا ہونے پر انھوں نے اسکواڈ کو جوائن کیا اور شاندار کارکردگی سے کئی ریکارڈز بھی اپنے نام کے آگے درج کرالیے۔
ایک انٹرویو میں یونس خان نے کہاکہ آسٹریلیا کیخلاف2سنچریوں نے میری ورلڈ کپ کھیلنے کی امیدوں کو جلا بخشی، ملک کیلیے کچھ کردکھانے کا جذبہ مزید جوان ہوگیا ہے، سلیکٹرز نے ضرورت محسوس کی تو خدمات حاضر ہوں گی، ورلڈ کپ1992میں انضمام الحق جیسی چند یادگار اننگز بھی کھیلنے میں کامیاب ہوگیا تو بڑی خوشی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ دبئی میں ٹیم کو جوائن کیا تو خود سے کہا کہ جو ہوچکا اسے ماضی سمجھ کر اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنا ہے، خوش ہوں کہ میری دونوں اننگز ٹیم کے کام آئیں اور ہم ٹیسٹ جیت گئے،ٹوئنٹی 20 اور ون ڈے میچز میں شکستوں کے بعد اس فتح کی خاص اہمیت تھی، انھوں نے کہاکہ نوجوانوں کو مواقع دینے میں کوئی برائی نہیں لیکن کسی بھی کھلاڑی کے انتخاب میں عمر رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
اگر کوئی پلیئر فٹ اور کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے ورلڈ کپ کیلیے زیر غور لایا جائے، سلیکٹرز کو صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میگا ایونٹ میں کون سے کھلاڑی ٹیم اور ملک کیلیے زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ یونس نے کہا کہ دبئی میں سنچریوں کے بعد اعتماد میں اضافہ ہوا اور مزید بہترکارکردگی دکھانے کی تحریک ملی،میگا ایونٹ سے قبل مزید4ٹیسٹ بھی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے مواقع فراہم کرینگے۔
836 total views, no views today


