مینگورہ ،سوات کے سرکاری سکولوں کے سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے ائی ہے کہ سکولوں کی حالت زار تعلیم کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے اس وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں میں داخل کروایا ہے ۔ جبکہ غریب طبقہ کے بچے جو سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ استاد کی راہ دیکھ کر تھک جاتے ہیں ۔ لیکن پڑھنے پڑھانے سے بے خبر گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے سکولوں کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ کم ڈیوٹی پر جاتے ہیں ۔ زیادہ تر غیر حاضر رہتے ہیں ۔
بالائی علاقوں میں کچھ سکول ایسے دیکھے گئے جہاں استاد تھاہی نہیں بس بچے کچھ اور چوکیدار ، بیشتر سکولوں میں اسامیوں کا مسئلہ سامنے آیا جہاں اساتذہ کی ضرورت ہے کچھ سکولوں میں تو حاضری لگائے اساتذہ غیر حاضر پائے گئے جو قوم کے مستقبل سے دھوکہ سمیت خیانت ہے ۔ اس حوالے سے معلومات کی گئی تو پتہ چلا کہ غیر حاضر اساتذہ تنظیمی امور نمٹانے گئے ہیں ، اب بلا استاد جو قوم کے ہماران ہوتے ہیں ۔ سے تنظیمیں اور سیاست کیاچاہتی ہے لیکن یہاں گنگا الٹا بہتا ہے ۔ یہ حالت زار دیکھ کر نو نہالا ن قوم پر رحم آتا ہے ۔ حکومت تو خواب خرگوش میں سویا ہو ا کیونکہ تعلیم سے کسی بھی قوم کی ترقی ممکن ہے لیکن حکمرانوں نے اس اہم مسئلہ سے چشم پوشی کرتی ہے ۔ لہذا تو جہ دیکر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے ۔
528 total views, no views today


