تحریر : شہزاد نوید
وادی سوات اپنے قدرتی حسن ،رنگارنگ موسمی حالات سے سیاحوں کیلئے بے پناہ مواقع مہیا کر تی ہیں لہذا سیاحت تمام وادیوں کی معاشی سر گرمیوں کیلئے بے انتہا اہم ہے ۔ سوات میں بہت ساری ہوٹلز ،ٹورسٹ سروسز ، ہنڈی کرافٹس اور قیمتی پتھر کے دکانیں سیا حوں کے دلچسپی کا باعث بنتا آرہا ہیں۔ سوات میں سمگل شدہ اشیاء جو دیگر شہروں سے لے جانا ممنوع ہے ۔لہذا وہ سیاحوں کا نظر اپنے طرف متو جہ کرتے ہے۔

مینگورہ سیدوشریف کے مقام پر ایک میوزیم واقع ہے ۔جس میں مقا می طورپر دریافت شدہ گندھارا آرٹ کے نمونے رکھے گئے ہیں اور میوزیم میں گندھارا تہذیب کے دوران استعمال ہونے والے اشیاء ،موتیاں، قیمتی پتھر ،اسلحہ اوردوسری طرف سوات ، بونیر کے محنت کش کاریگروں کے ہاتھوں سے بنتی ہوئی تاریخی اشیاء، برتن وغیرہ سارے چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

اور اس کے علاوہ بہت سے تا ریخی مقامات ہے مثلا : بت کڑہ ، سیدو ، پنجگرام سٹوپے اورزمردکان دیکھنے کیلئے دوسروں ملکوں سے سیاح یہاںآتی ہیں ۔

زمردکان سیاحوں کیلئے حسین اور پر کشش مقام ہے اور اب اس کے کھدائی اور حفاظت حکو مت کے کنٹرول میں ہے ،پالش شدہ پتھروں کیفروخت جم سٹون کا اپوزشن آف پاکستان کے تحت کی جاتی ہے اور پورانا ریاست کی کیا بات کرو،ریاست سوات کے دور میں زمرد کان سے حاصل شدہ منافع میں کچھ رقم مینگورہ شہر کے مختلف ترقیاتی سر گرمیوں پر خرچ کیا جاتا تھا ۔البتہ ادعام کے بعد یہ کہا جاتا کہ زمرد کان کی کھدائی نقصان میں جارہی ہے۔ تو اسی پر پا بندی عائد کردی گئی ،اور یہ زمرد کان اب 2014میں بھی بند پڑی ہے جسکے کھولنی کی کوئی امیدباقی نہیں رہے۔

سر دیوں کے موسم میں سیاح وادی کالام ، ملم جبہ ، مدین اور بحرین کے برف پوش وادیو ں کا روخ کر تے ہیں ۔لیکن بد قسمتی سے سیاحتی مقاموں کا سیلا ب سے تبا ہ شدہ سڑکی ابھی تک تعمیر نہ ہوسکا،سیاحو ں کو آنے جانے میں شدید مشکلات کا سا منا کرنا پڑتا ہے ۔

ملم جبہ 1990 میں آسٹریا کی حکومت سے ابتداء میں موسم کے مختلف کھیل ، چیرلفٹ اور فور سٹارہوٹل کی فراہمی کا کام شروع کیا تو اسی وقت سے سیاح سوات آنے کا خوائش رکھتی تھے ۔جبکہ 1998میں سوات گلی باغ کے مقام پر آسٹرین انسیوٹیوٹ برائے سیا حت ہو ٹل(Paithom Mangment)کا قیام کیا ۔

دریائے سوات کی کنارے پر نظر ڈالے تو نتیجہتا خوبصورت علاقوں میں عمارات کھڑی کر نے سے اسکی خوبصورت با قی نہیں رہی ۔ما حول کے تحفظ کیلئے کوئی قوانین لاگو نہیں ۔بائی پاس پر بہت سارے ہوٹلز ، ریسٹورنٹ براہ راست دریائے سوات میں ڈالتے ہیں ۔ایک خرید دار کے دریاکنارے پر تھوڑی سی زمین خریدتا ہے اور باقی زمین میں دریا سے قبضہ لیتا ہے اسطرح کے عمارتیں ، سڑکے اور ریسٹورنٹ ماحول کی تباہی کے با عث بن رہی ہیں ۔

1,924 total views, no views today



