سوات،سوات میں جماعت اسلامی کے رہنما اور معروف قانون دان پروانت خان ایڈوکیٹ اوراس کے والدپر قاتلانہ حملے کے خلاف دارالقضاء اور سوات بار کے وکلا ء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ ،تحصیل مٹہ،خوازہ خیلہ،کبل اور بحرین کے تحصیل بارز کے وکلا نے بھی مکمل بائیکاٹ کیا ،وکلاء نے مقدمات کی پیروی نہیں کی جس کے باعث عدالتوں میں صرف تاریخ پیشی تبدیل کی گئی ،
جمعرات کے روز مینگورہ شہر کے علاقے نویکلے میں جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما اور ممتاز قانون دان پروانت خان ایڈوکیٹ اور اس کے والد حاجی غوری کے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے خلاف خیبر پختونخوا بارکونسل کی اپیل پر سوات میں بھی وکلا ء عدالتی کارروائی سے بائیکاٹ کیا ،ہائی کورٹ بارمینگورہ بینچ،سوات بار اور تمام تحصیل بارز کے وکلاء نے عدالتی کارروائی سے بائیکاٹ کرکے کسی بھی مقدمے کی پیروی نہیں کی جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کاسامنا کرناپڑااور عدالتوں میں صرف تاریخ پیشی تبدیل کی گئی ،وکلاء نے پروانت خان ایڈوکیٹ پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور وکلاکے تحفظ کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا ۔
سوات میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے جماعت اسلامی کے رہنمااورقانون دان پروانت خان ایڈوکیٹ بے ہوشی کی حالت میں پشاورکے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کے والد حاجی غوری کی حالت خطرے سے باہر ہیں اور وہ سیدوشریف اسپتال میں زیرعلاج ہیں ،جماعت اسلامی سوات کے ذرائع کے مطابق پروانت خان ایڈوکیٹ کو سرپر گولی لگنے کی وجہ سے تاحال بے ہوش ہیں اور دوسرے روز بھی انہوں نے کسی قسم کی بات نہیں کی ہے تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت بہتر ہورہی ہے اور توقع ہے کہ ان کی زندگی بچ جائے گی ،دوسری جانب ان کے والد حاجی ۱۲۱ غوری کی حالت خطرے سے باہر ہیں اور وہ سیدوشریف اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔
463 total views, no views today


