سوات (سوات نیوز) سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو مزید طبی سہولیات نہیں دے سکتی تو پہلے سے سوات میں موجود ڈی ایچ کیو ہسپتال کی حیثیت کے خاتمے سے باز رہے ، صوبے کے دوسرے اضلاع میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال بھی موجود ہیں لیکن سوات کے وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے یہ سہولت ختم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، سیدو ٹیچنگ ہسپتال پر مریضوں کا دباؤ زیادہ ہے اور پورے ملاکنڈ ڈویژن کے مریض یہاں علاج معالجے کی غرض سے آتے ہیں اس وجہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا برقرار رہنا ناگزیر ہے، حکومت اس سلسلے میں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے بصور ت دیگر ہم عوام کے ہمراہ احتجاج پر مجبور ہونگے ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سواتی عوام پہلے سے کشیدہ حالات، قدرتی آفات اور ملٹری آپریشنز سے متاثر ہ ہیں حکومت ان مظلوم عوام کو مزید سہولیات نہیں دے سکتی تو ان سے موجود سہولیات واپس نہ لینے سے گریز کریں کیونکہ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے اور وہ مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخو اکے آبائی ضلع سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی حیثیت ختم کرنا اُن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور سمجھ سے بالاتر ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال بھی موجود ہیں،سوات میں مزید ہسپتالوں کی ضرورت ہے کیونکہ مینگورہ شہر کے ہسپتالوں پو پورے ڈویژن کے مریضوں کا بوجھ ہے لہذا حکومت اس سلسلے میں ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے بصور ت دیگر ہم عوام کے ہمراہ احتجاج پر مجبور ہونگے۔
886 total views, no views today



