اغلباً 1962ء کا سال تھا۔ میں چکیسر کے اسٹیٹ سول اسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں وہاں پر مقیم تھا۔ میں اپنے مہربان عقلموت خان کے حجرے میں بیٹھا حسب عادت مطالعہ میں مصروف تھا۔ اتنے میں ایک لڑکا آیا اور خاموشی سے میرے قریب ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں کتاب رکھ کر اُس کی طرف متوجہ ہوا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس کی اور میری عمر میں پانچ سال کا فرق ہوسکتا ہے۔ میری ججمنٹ صحیح تھی۔ اُس نے مجھ سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے اور اس کا تعلق بھی غورہ خیل سے ہے۔ اس نے مجھے اشارے سے اپنا حجرہ بھی بتایا عقلموت خان کے حجرے سے ملا ہوا حجرہ محمد سعید خان کا تھا اور اس کے بعد والا اس لڑکے کا تھا۔
یہ تھی ’’سید طہار خان‘‘ سے میری پہلی ملاقات! اس کے بعد تو ہمارا ایک ٹرائیکا سا بن گیا۔ عقلموت خان کے بیٹے شیر محمد خان، میں اور سید طہار خان اکثر اکٹھے گھومتے پھرتے تھے۔ ان دونوں کی معیت میں، مَیں نے چکیسر کے قرب و جوار کا سارا علاقہ دیکھ لیا۔ ان ہی کی ہم راہی میں ہم پہلی بار دریائے سندھ کے کنارے آباد گاؤں گئے اور وہاں پر مقامی امام مسجد کے ہاں تندور میں بھنی ہوئی مچھلی کھائی، جس پر صرف نمک ہی لگا ہوا تھا۔
دس بارہ دن کے بعد میں اپنے گھر سیدوشریف آیا۔ کچھ دن دفتر میں ڈیوٹی دی اور پھر واپس چکیسر چلا گیا۔ سید طہار خان مجھ سے دیوانہ وار لپٹ گئے اور میری آمد پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ مجھے اپنے گھر پر کھانے کے لیے روک دیا۔ ان کے والد صاحب ’’ہادی یونس خان‘‘ سے ملاقات ہوئی۔ وہ ریاستی فوج میں جمع دار تھے۔ ان کے بڑے بھائی اور سید طہار کے چچا ’’قدوس خان‘‘ سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ ان کا ایک بیٹا غالباً سید طہار خان کا ہم عمر تھا۔ سید طہار خان کے چھوٹے بھائی کا نام شاید بخت افسر تھا۔ جتنے سال میں چکیسر میں رہا، مجھے علقموت خان اور اُن کے صاحبزادوں حیات الحق خان اور شیر محمد خان کی مسلسل عنایات کے علاوہ سید طہار ہی وہ واحد شخص تھے، جنھوں نے میرے قیام کو خوش گوار بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
ریاست سوات کے عدالتی نظام میں لاء کی ڈگری کسی اہمیت کی حامل نہ تھی۔ کیوں کہ یہاں کا عدالتی نظام جرگوں کے مرتب کردہ رواج، حکم ران کے فرامین اور شریعت پر قائم تھا۔ پھر بھی چکیسر کے طلبہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ تھا۔ اولین قانون پڑھنے والوں میں شاہ پور کے محمود خان اور چکیسر کے سلطان احمد خان کا شمار صف اول میں آتا ہے۔ محمود خان تو ریاستی ملازمت میں آگئے، مگر سلطان احمد خان کو بہ وجوہ سرکاری ملازمت نہ مل سکی۔ جن پوسٹوں کی اُن کو پیشکش کی گئی تھی، وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ نتیجتاً وہ ادغام ریاست تک بے کار رہے۔ ادغام کے بعد ڈسٹرکٹ کورٹس میں پہلے سرکاری وکیل کے فرائض انجام دیئے اور بعد میں پریکٹس شروع کی۔ ان نامساعد حالات کے باوجود سید طہار خان، شیر محمد خان اور مدائم خان وغیرہ نے پشاور یونی ورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ ادغام ریاست کے بعد ان حضرات سے کبھی کبھار ڈسٹرکٹ کورٹس میں ملاقات ہوتی تھی، جہاں پر ہمارا دفتر تھا۔ شیر محمد خان وکیلِ سرکار بنے اور کئی اضلاع میں ڈسٹرکٹ اٹارنی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ مدائم خان پولیس کے سرکاری وکیل بن گئے، سید طہار خان نے مختصر مدت کے لیے سول جج کے فرائض انجام دیئے اور بعد میں اپنی پریکٹس جاری رکھی۔ مسلسل محنت اور لگن سے آگے بڑھتے گئے اور اپنے پیشے کی آخری منزل یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ انرول ہوگئے۔ میرا کئی سال سے اُن سے رابطہ نہ ہوسکا لیکن اُن کی قانونی سرگرمیوں کے بارے میں جانتے رہنے کا سلسلہ جاری رہا۔ کچھ عرصہ پہلے ایک پرائیویٹ چینل کے ایک پروگرام میں ’’ہادی یونس خان‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے دیکھا، تو ان کی صحت دیکھ کر حیرت ہوئی کہ میں اُسے کوئی چالیس پینتالیس سال بعد اُسی طرح صحت مند اور توانا دیکھ رہا ہوں۔ اس کے برعکس سید طہار خان اتنے زیادہ مضبوط جسم کے نہیں لگتے تھے اور آج 16نومبر کو اخبار میں سید طہار خان کی وفات کی خبر پڑھ کر دل کو ایک دھچکا سا لگا اور اس کے ساتھ ہی یہ ساری باتیں یاد آگئیں۔ وہ دبلا پتلا زرد اور نازک نقش و نگار والا لڑکا اچانک اڑسٹھ سال کا بوڑھا ہوگیا (یہی عمر اخبار میں لکھی تھی)۔ ان کے جنازے کی تصاویر پر بھی دی گئی تھیں اور آخری دیدار کی تصویر بھی۔ اپنے آپ پر غصہ بھی آیا اور افسوس بھی۔ حالات اور عمر کے تقاضے نے مجھے اتنا بے بس کردیا کہ میں ایک نہایت پیارے دوست کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے بھی نہیں جاسکتا۔ اب ذوالجلال سے دعا ہے کہ مرحوم کو بلند درجات سے سرفراز فرمائیں اور پس ماندگان کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔
ان سطور کے ذریعے میں مرحوم کے ورثاء اور متعلقین سے ہم دردی کااظہار کرتا ہوں۔
پرانی صحبتیں یاد آرہی ہیں
چراغوں کا دُھواں دیکھا نہ جائے
780 total views, no views today


