یہ نامعلو م افراد کون ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے مشران کو چن چن کر بڑی دلیری سے مارتے ہیں اور اپنے ’’نامعلوم ٹھکانہ‘‘ کو بہ آسانی واپس بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اگلے روز وہ ہمارے ایک اور مشر کو ٹارگٹ کرکے پھر کسی جن بھوت کی طرح ’’غائب‘‘ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے اپنے جو ہمارے سامنے ٹارگٹ ہوتے ہیں، خون میں لت پت مرغ بسمل کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتے ہیں اور اگلے روز ہم اس کی چار پائی کو کاندھا دے کر اسے پیوند خاک کر دیتے ہیں اور اسے ’’شہید‘‘ گردان کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔
ہم کتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ ٹارگٹ کلر سیکڑوں افراد کے سامنے بھرے بازار میں ہمارے مشران کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور ہم اپنی جان بچانے کی غرض سے شتر مرغ کی طرح ریت میں سر ڈال دیتے ہیں۔ ٹارگٹ کلر کے زندہ سلامت گزر جانے کے بعد ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ’’جان بچی لاکھوں پائے۔‘‘ کیا واقعی ہم اتنے بزدل ہیں کہ سیکڑوں کی تعداد میں وہاں موجود ایک عدد ٹارگٹ کلر کو قابو نہیں کرسکتے؟ اس کے پستول میں کتنی گولیاں ہوں گی؟ چار، پانچ ،چھے یا پھر زیادہ سے زیادہ سات؟ دو تین گولیاں، تو وہ اپنے ٹارگٹ پر ضائع کر دیتا ہے۔باقی کتنی بچتی ہیں؟ زیادہ سے زیادہ تین یا چار۔ اس سے وہ مزید کتنوں کو ٹھنڈا کرسکتا ہے؟ دو، تین یا پھر چار۔ باقی جی کھڑا کر کے اگر ایک عدد ٹارگٹ کلر کی تواضع کریں اور ایسی تواضع کہ رہتی دنیا تک دیگر قاتلوں کے لیے یہ ایک سبق ہو، تو کیا پھر کوئی مائی کا لال اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ بھرے بازار میں کسی کو ٹارگٹ کر سکے گا؟ یقیناًنہیں۔
قارئین کرام! ویسے بھی ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ اگر غیرت کی موت مریں گے، تو اک آدھ دعا دینے والا تو مل جائے گا۔ کوئی غیر جانب دار مؤرخ تو بھلے الفاظ میں یاد کرلے گا۔ بس سب کو موت کی پڑی ہے، وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
برحق ہے موت اگر تو برحق حیات بھی
یوں جیتے جی تو موت کی ہیبت سے نہ مرجا
ہمیں فیصلہ خود کرنا ہو گا۔ ہرحال میں بس ایک ’’نامعلوم فرد‘‘ کو قابوکر نا ہوگا اور اسے سبق سکھانا ہوگا۔ ورنہ اسی طرح ایک ایک کرکے سب آواز اٹھانے والوں کو مار دیا جائے گا اور ہر غیرت مند کے مرنے کے بعدہم بے حس اسی طرح ’’سرچ آپریشنوں‘‘ کے نام پر ذلیل ہوتے رہیں گے۔ اگر ہم لوگوں میں تھوڑی سی بھی غیرت ہے، تو بس ایک نامعلوم فرد کو قابو میں کرنا ہوگا، صرف ایک کی تکا بوٹی کرنا ہوگی اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے، تو باقیوں کے لیے یہ ایک سبق ہوگا۔
ہم میں سے کئی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جنھیں ہم نے ووٹ دیا ہے، وہ ہمارے حق میں آواز اٹھائیں، لیکن یہ ہم سب کی غلط فہمی ہے۔ ان میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ انھیں اپنے اقتدار کے مزے لوٹنے دیں۔ اسلام آباد کی شاہ راہوں پر انھیں ناچ گانے کے پروگرام کرنے دیں، مرد و زن کو بھنگڑے ڈالنے دیں، اور خٹک اور عمران خان صاحب جیسے لیڈران کو اس تمام تر صورت حال سے محظوظ ہونے دیں۔ وہ جب مدت اقتدار پورا ہونے کے بعد ہمارا دروازہ کھٹکھٹانے آئیں گے، تو ان سے اس وقت حساب بے باق کریں گے۔ فی الوقت
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
کے مصداق ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی ہمت ہم کریں گے، تو برکت اللہ ڈالے گا۔ اس ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھیں گے، اتنی زیادہ قربانی درکار ہوگی۔ ہم چوپائے تھوڑی ہیں کہ اپنے ساتھ جاری اس کھلواڑ کو نہ سمجھ سکیں۔ ویسے بھی یہاں جاری کھیل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، تو کیوں نہ اسے ختم کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا شروع ہی کردیں۔ یہ کیا بے حسوں اور بے غیرتوں کی طرح ٹارگٹ ہونے والے کسی مشر کی موت کے بعد کان لگا کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ’’اب کس کی باری ہے؟‘‘
798 total views, no views today


