مینگورہ،سوات میں این جی اوز کی بھر مار ،کسی نے بچوں کے توکسی نے عورتوں کے حقوق کے نام پر گھروں اور پلازوں میں دفاتر کھول رکھے ہیں ،زیادہ تر نے تو ایک ہی چھت کے نیچے تین تین این جی اوز کھول رکھے ہیں جس میں عورتوں کے حقوق،تعلیم کی اہمیت سے اگاہی سمیت دیگر برائے نام پراجیکٹس پر کا م کا ڈھنڈورا کرکے بیرونی امداد حاصل کرلیتے ہیں جس کا کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ فنڈ کس طریقے سے ایا اور کس طرح استعمال ہوا،
ضلعی انتظامیہ کے ہٹ دھرمی کیوجہ سے سوات این جی اوز سٹیٹ میں تبدیل ہوچکا ہے،سیکڑوں این جی اوز کے دفاتر میں جعلی اور اصلی کا پہچان مشکل ہوگیا ہے،جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کبھی برائے این جی اوز کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرور ت محسوس نہیں کی،سوات میں این جی اوز کے بھر مار کیوجہ سے علاقہ میں فحاشی کو فروغ بھی حاصل ہورہا ہے،کئی ایک این جی اوز نے سوات کے بڑے ہوٹلوں میں کبھی حقوق اور کبھی اگاہی کے نام پر ورکشاپس منعقد کئے جس میں حقوق اور اگاہی کم جبکہ فحاشی کو زیادہ فروغ حاصل ہوئی جبکہ عرصہ پہلے خواتین کے حقوق پر کام کرنے والے غیر قانونی این جی او نے پریس کانفرنس کے ذریعے انتظامیہ اور پولیس پر سنگین الزامات بھی لگائے تھے جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئے مگر انتظامیہ نے غیر قانونی این جی او کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جس سے ضلعی انتظامیہ کے کارکردگی کا پتہ چلتاہے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے سوات کو این جی اوز کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے بجائے ان کی بیخ کنی کرے تاکہ علاقہ ساکھ نقصان نہ پہنچے۔
442 total views, no views today


