سوات (سوات نیوز) محکمہ معدنیات کے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور پی کے 4کے ایم پی اے عزیز اللہ گران کادریائے سوات ادنیٰ معدنیات کے حوالے سے سیاسی و غیر ذمہ دارانہ جھوٹ پر مبنی بیان آفسوسناک اور ناقابل منظور ہے جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں،سوات ادنیٰ معدنیات کے لیز ہولڈرز کا مذمتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فضل، یوسف،علی شوکت،غنی اور امجد اسحاق نے کہا کہ عزیز اللہ گران کا بحیثیت چیئرمین اور حکومتی نمائندہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے جس کی وجہ سے حکومت ،عوام اور لیز ہولڈرز کے مابین بد اعتمادی کی فضاء قائم ہوچکی ہے لیز کی رائیلٹی کی رقم کوٹیکس کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے،اور ڈی سی سوات کو الجھا کر ان کے حکم سےقانونی کام کو بند کروا رکھا ہے،یاد رہے کہ مذکورہ لیزوں کا آفیشل طریقے سے قومی اخباروں میں اشتہار دیا گیا اور اس کے بعد ڈی سی سوات کے آفس میں بولی ہوئی جس میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے موجود تھے اور کامیاب بولی دہندگان کوعزیز اللہ گران نے اپنے ہاتھوں سے ورک آرڈر کیلئے آفر لیٹر پیش کیئے جس کی تصاویر اور بیانات ریکارڈپر موجود ہیں جبکہ پریس بیانیہ میں انہوں نے لیزدینے سے لا علمی کا اظہار کیا ہے جوکہ حقیقت کے منافی ہے،ایسے بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ سوات میں غیر قانونی کان کنی مافیا اور کرش پلانٹس والوں کی پشت پناہی کی جارہی ہے، جس سے سوات کے عوام اور صوبائی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے،اگر عزیز اللہ گران اسی طرح غیر قانونی مافیہ کی حوصلہ افزائی پر قائم رہتے ہیں تو ایسی صورت میں صوبائی حکومت دریائے سوات کے تمام لیزوں کو کینسل کراکے ٹھیکداروں کو جمع شدہ رقم واپس کرکے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے،عزیز اللہ گران کا اپنا بھی ایک کرش پلانٹ ھے جس کو بھی دریاۓ سوات سےغیر قانونی مواد کی سپلائ جاری ھے شاھد یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ رائیلٹی کی رقم کو ٹیکس کا نام دے کر عوام کو مشتعل کرکے قانونی لیزوں پر کام کو رکوایا گیا ھے تاکہ غیر قانونی کام جاری رہ سکے،ایم پی اے گران صاحب ذاتی مفاد کے خاطر صوبائی خزانے کو نقصان نہ پہنچائے،آپ کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہئے جس سے عوام اور سرکار کے درمیان تصادم پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو۔ ہم محکمہ معدنیات کے ڈی جی سے مطالبہ کرتے ھیں کہ ان تمام کرش پلانٹس بشمول عزیز اللہ گران کرش پلانٹ کے خلاف قانونی کاروائی کر کے اسسمنٹ کراکے رقم قانونی خزانے میں جمع کرائی جاۓ۔ہم وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان اور وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ چئرمین قائیمہ کمیٹی جیسے ذمہ دارانہ منصب پر اہل اور سنجیدہ شخص کی تعیناتی کرکے سوات کے عوام اور محکمہ معدنیات کے ساتھ انصاف کیا جائے، ہم چیئرمین نیب سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کرکے سوات کے عوام کےحقوق کی تحفظ اور سرکاری خزانے کو نقصان سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
1,102 total views, no views today



