مینگورہ،قمبربائی پاس پر جنرل بس سٹینڈکے قیام سے متاثرہ ہونے والے اراضی مالکان نے حکومت کو فیصلہ پر نظرثانی کرنے کیلئے آٹھ دسمبرکی ڈیڈلائن دے دی،مطالبہ منظورنہ ہونے کی صور ت میں اہلخانہ سمیت احتجاجی تحریک چلائیں گے،اس حوالے سے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فضل اعظیم،فیصل ،محیب اللہ خان نے دیگر متاثرین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ہمیں اعتماد میں لئے بغیر جی ٹی روڈ مینگورہ پر موجود جنرل بس سٹینڈ کو قمبربائی پاس منتقل کرنے کا فیصلہ کیاجو ہمیں کسی بھی صورت منظورنہیں کیونکہ اس سے اگر ایک طرف درجنوں خاندان متاثرہوں گے تودوسری جانب اس اقدام سے اس بائی پاس کی اہمیت اورحیثیت بھی ختم ہوجائے گی،انہوں نے کہاکہ حکومت نے بائی پاس پرموجود اربوں روپے اراضی کاریٹ اونے پونے داموں میں لگایا ہے جس سے متاثرین کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگاجبکہ ساتھ ساتھ اس اقدام سے عوام کیلئے بھی مختلف قسم کے مسائل پیداہوں گے جس میں ٹریفک مسئلہ سرفرصت ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت نے جنرل بس سٹینڈ کی منتقلی کا فیصلہ کرتے وقت یہاں پر موجود اراضی مالکان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی اورنہ ہی انہیں اعتماد میں لیاگیا لہٰذہ یہ یکطرفہ فیصلہ ہمیں قبول نہیں ،جنرل بس سٹینڈکیلئے یہاں پر بہت سے موزون مقامات موجود ہیں حکومت ان میں کوئی جگہ منتخب کرکے جنرل بس سٹینڈقائم کرے اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،انہوں نے حکومت کو فیصلہ پر نظرثانی کرنے کیلئے آٹھ دسمبرکی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہاکہ اگر مقررہ مدت میں مطالبہ منظورنہ ہوا تواہلخانہ سمیت احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے جس کے نتیجے میں جو بھی نقصان ہوااس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی،اس موقع پرظاہر شاہ،محمدنعیم،شوکت علی اوردیگرمتاثر ین بھی موجود تھے۔
1,032 total views, no views today


