محترم جناب انچارج سوات آپریشن میجر جنرل جاوید شاہ بخاری صاحب!
امید ہے آپ صاحبان بہ خیریت ہوں گے۔ جناب عالی! کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ سوات کے عوام کی کچھ مشکلات اور مسائل آپ صاحبان کے حضور پیش کروں لیکن کام سے فراغت ملی ہی نہیں، لیکن آج قلم اٹھانے کی جسارت کر رہاہوں۔
جناب عالی! آپ تو اپریشن کے دوران میں سوات کے سب سے خطرناک ترین ایریا میں بہ حیثیت کمانڈر کام کر چکے ہیں۔ اس دوران میں آپ نے جو کامیاب آپریشن کیے، اس پر سوات کے عوام پہلے سے ہی آپ کو مبارک باد دے چکے ہیں اور تادم تحریر آپ کے ممنون احسان ہیں۔ عسکریت پسندی میں ملوث اہم کمانڈرفرضی نام ’’فوجی‘‘ سے لے کر ڈڈھرہ میں خطرناک غار کی دریافت تک آپ کے کامیاب آپریشن تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ جس طرح آپ نے خطرناک ترین علاقے کبل میں ایک بارود والے گھر کو دریافت کیا تھا، جس میں دروازے سے لے کر نلکے کی ٹوٹنی تک میں جدید طریقے سے بارود نصب کیا گیا تھا۔ اس کو ناکارہ کرنا اور پورے کبل کو تباہی سے بچانے جیسا معرکہ بھی آپ کے کریڈٹ پر ہے۔
جناب عالیٰ! آپ نہ صرف سوات کی روایات سے بہ خوبی آگاہ ہیں بلکہ یہاں کے رسم و رواج سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ میری دانست میں یہاں کے عوام کے کچھ مسائل ہیں اور آج انھیں میں اپنی اس ٹوٹی پھوٹی تحریر میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں۔ساتھ ساتھ یہ توقع بھی کرتا ہوں کہ آپ اس کے حل میں خصوصی دل چسپی لیں گے۔ جس طرح گل کدہ روڈ کو سات سال بعد آپ نے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول کر گل کدہ کے چالیس ہزار اور سوات کے بیس لاکھ عوام کے دل جیت لیے۔ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ یہاں کے عوام کا دیرینہ مسئلہ یہاں کے چیک پوسٹ ہے۔ ان چیک پوسٹوں پر ایسے اہل کاروں کو کھڑا کیا جاتا ہے جو یہاں کے روایات سے بالکل ناآشنا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دانست میں اپنا فرض انجام دے رہے ہوتے ہیں، مگر یہاں کے غیورعوام اسے اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں۔ اب یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ چیک پوسٹ پر کھڑے اہل کار کو کوئی اطلاع ملی ہوتی ہے کہ یا تو دہشت گرد آرہے ہیں یا پھر دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ اب یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہاں کے محب وطن عوام پاک فوج سے محبت کرتے ہیں اور اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سوات کے عوام کی محب الوطنی کا اور ثبوت کیا ہوگا کہ یہاں کے عوام رمضان اور عید بھی مرکز کے ساتھ مناتے ہیں اور اس وجہ سے ہمارے صوبے میں دو عیدیں بھی ہوتی ہیں۔ ایک عید اہل پشاور کی اور دوسری ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی اور وہ بھی اسلام آبادکے ساتھ۔ اس میں کوئی کیا شک کرسکتا ہے یہاں کے عوام کی محب الوطنی پر۔ چیک پوسٹوں پر لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں اور بے جا چیکنگ میں تنگ کرنے سے پاک فوج کی دی ہوئی قربانیاں رائیگاں جانے کا خدشہ ہے۔ اس سے فوج کی بدنامی ہورہی ہے۔
جناب عالیٰ! سوات میں آپریشن کی کامیابی کے بعد ضلع بھر میں دو سو پانچ چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔ آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں کمی لاتے ہوئے اب ضلع بھر میں تقریبا تیس چیک پوسٹیں باقی ہیں، جن میں قمبر،فضا گھٹ،کانجو،کبل، مٹہ، سیر تیلیگرام، چارباغ، خوازہ خیلہ اور دیگر شامل ہیں۔سیر تیلیگرام اور مٹہ کے بالائی علاقوں کے چیک پوسٹوں میں آنے جانے والے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو گاڑیوں سے اتار کر، ان چیک پوسٹوں سے پیدل گزار کر ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے، جس کی وجہ سے سوات میں سیاحت کے فروغ کو خطرات لاحق ہیں۔
جناب والا! اس میں دو رائے نہیں کہ پاک فوج نے یہاں کے عوام کو عسکریت پسندوں کی غلامی سے نجات دلائی۔ آج بھی مجھے یاد ہے چودہ اگست دو ہزار نو کی وہ رات جب یہاں کے عوام اپنے زخموں کو بھلا کر یوم آزادئ پاکستان کے ساتھ ساتھ سوات کے عوام عسکریت پسندوں سے غلامی کی نجات کا دن بھی منا رہے تھے۔ کس طرح نوجوان بھنگڑے ڈال ڈال کر اپنی خوشی اور آزادی کا اظہار کر رہے تھے۔ آج بھی وہ دن امر ہے۔
جناب والا! سوات جو کہ ایک سیاحتی علاقہ ہے اور سالانہ یہاں پر لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں، ان چیک پوسٹوں پر ان سیاحوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ پچھلی عید کے موقع پر سوات میں صرف تین دنوں میں پانچ لاکھ گاڑیوں میں تیرہ لاکھ سیاح سوات آئے تھے۔ ان لوگوں وجہ سے سوات کے عوام کے مرجھا ئے ہوئے چہرے ایک بار پھر کھل اٹھے تھے اور یہاں کے عوام کو روزگار بھی مہیا ہوا تھا۔
جناب والا! اب یہاں کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوات میں قائم چیک پوسٹوں کو مقامی پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور ان کی پشت پر پاک فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ کیوں کہ ہماری پولیس اب تمام تر جدید سہولیات سے آراستہ اور ہر قسم کی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گزشتہ ماہ سے کئی اہم واقعات اور وارداتوں میں ملزمان کی چند گھنٹوں میں گرفتاری میرے اس دعوے کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ پاک فوج بھی سوات پولیس کی جدید طرز پر تربیت کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کی ہدایات بھی جاری کیے جائیں۔ بعد میں ضرورت پڑنے پر حساس علاقوں میں چیک پوسٹ قائم کرنے کی ہدایت جاری کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک عمل جو آپ صاحبان پہلے ہی سے شروع کر چکے ہیں یعنی چیک پوسٹوں پر تعینات آرمی جوانوں کی اخلاقی تربیت۔ اس عمل کو مزید وسیع کیا جائے اور جلد از جلد ان اہل کاروں کی تربیت کو مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ تاکہ جو اہل کار چیکنگ کرے، وہ مقامی روایات اور رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھا کرے۔
جناب والا! اس کے علاوہ کچھ اور گزارشات ہیں جن کے لیے پاک فوج پہلے ہی سے کوششیں کر رہی ہے جیسا کہ سوات میں تعینات میجرل جنرل غلام قمر نے سوات ائیر پورٹ کھولنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی اور اس پر ٹیسٹ لینڈنگ بھی کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود سیدو شریف ائیرپورٹ کھلنے کا مسئلہ سرد خانے کی نذر ہے۔اس کے لیے خصوصی اقدام کیے جائیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے پاک فوج پہلے سے برسر پیکار ہے۔ ملم جبہ،کالام، کلیل کنڈو روڈ سمیت مینگورہ شہر کی سڑکوں پر کام شروع کرنے کے لیے حکومت سے رابطہ کیا جائے، تاکہ یہاں پر سیاحت کو مزید فروغ مل سکے۔
مینگورہ شہر کو ماڈل شہر بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کا ر لاکر یہاں کے عوام کی مشکلات میں آپ صاحبان کمی لاسکتے ہیں۔
مینگورہ شہر کے نو یونین کو نسلوں میں امن کی بہ حالی کے بعد اپنے خصوصی پیکیج میں پاک فوج نے کروڑوں روپے کی لاگت سے مینگورہ شہر کے ساڑھے چار لاکھ عوام کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا۔ اس مقصد کے لیے ٹیوب ویل تعمیر کیے گئے تھے، لیکن ان ٹیوب ویلز کے پمپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بند پڑے ناکارہ ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے صرف پندرہ سے بیس لاکھ روپے درکار ہیں۔ رقم کا انتظام کرکے ان کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
مینگورہ شہر کے لیے پہلے ہی سے انتظامیہ کام کر رہی ہے، اس کو تیز کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور ٹریفک کے لوڈ کو کم کرنے کے لیے غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کارروائی، رکشوں کو شفٹوں میں کرنے، ٹریفک کے لیے خصوصی پلان، کار پارکنگ کے لیے جگہ اور ہتھ ریڑیوں کے لیے خاص جگہ کا انتظام کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔
جناب جنرل صاحب! اور بھی ڈھیر سارے مسائل ہیں لیکن ابتدائی طور پر یہاں کے عوام آپ سے ان مسائل کے حل کی توقع رکھتے ہیں۔ امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔ اللہ حافظ و ناصر۔
830 total views, no views today


