مینگورہ خوڑ کی عجب صفائی مہم ہے۔ اخباروں میں خبریں لگتی ہیں۔ فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ خاک روب بے چارے خوڑ کو صاف کرنے میں لگے ہوتے ہیں اور انسپکٹر ہدایات دینے کے پوز میں کھڑا ہوتا ہے، لیکن خوڑ ہے کہ صاف ہی نہیں ہوتا اور صاف کیسے ہوگا کہ یہ تو محض دکھاوا ہوتا ہے۔ اخبارات کا پیٹ بھرنے کے لیے ڈرامہ کیا جا رہا ہے۔ بھلا صفائی اس طرح ہوتی ہے؟ یہ تو لیپاپوتی ہوتی ہے۔ صحیح صفائی کا عمل فضل رحمان نونو کے دور میں جب وہ ناظم تھے، کیا گیا تھا۔ انھوں نے صفائی کے لیے عملے کے ساتھ ساتھ بھاری مشینری کا انتظام بھی کیا تھا، جس سے خوڑ کے گند کو کنارے لگایا گیا تھا۔ خوڑمیں دونوں جانب ملبے کی اونچی اونچی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں۔ اس طرح خوڑ میں گند دیکھنے میں کمی آئی تھی۔ در اصل خوڑ میں جب بارشوں کا سیلابی پانی آتا ہے، تواپنے ساتھ مٹی بھی لاتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال خوڑ کی سطح زمین میں خود بہ خود بھرائی آجاتی ہے۔ اس وجہ سے سیلابی پانی خوڑ کے کناروں سے باہر نکل آتا ہے اور ارد گرد کے مکانوں، گلی کوچوں میں نا قابل تلافی نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ اس کا سدباب ہرحال میں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ بارشیں تو ہوتی رہتی ہیں اور ان کا ہونا زندگی کے لیے ضروری بھی ہوتا ہے۔ بارش ہی سے یہ زمین زندہ ہے۔ خدانخواستہ اگر زمین مرگئی، تو سمجھ لیں کہ زمین پر رہنے والے تمام نباتات، حیوانات، چرند پرند کانام و نشان بھی نہیں رہے گا۔
قارئین کرام! صفائی نصف ایمان ہے۔ ہمیں درس دیا جاتا ہے کہ بہتے پانی میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ پانی کو گندہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سبق دنیا میں مہذب قوموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ صاف پانی ہی ہماری خوراک کا حصہ ہے۔ اب اگر پانی گندہ ہو، ناپاک ہو اور اُسے خوراک کا حصہ بنایا جائے، تو ظاہر ہے کہ اس سے بیماریاں اور تعفن پھیلے گا اور پھر روئے زمین پر زندگی کا نام و نشان مٹنا شروع ہو جائے گا۔ سوات کی بدقسمتی ہے کہ دریائے سوات بھی گندہ ہو رہا ہے اور آج جو حال اہل مینگورہ و سیدوشریف کے باسیوں نے مرغزار اور جامبیل خوڑ کا کیا ہے۔ وہ جلد یا بہ دیر دریائے سوات کا ہوجائے گا۔ ابھی سے دریائے سوات اور سوات میں بہتے خوڑوں، نالوں کو صاف اور پاک رکھنا از حد ضروری ہے۔
گندے پانی کے نکاس کا مکمل نظام ہونا چاہیے اور پاک و صاف بہتے پانی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح شجر کاری کو اولیت دینی چاہیے جہاں بھی خوڑ، نالے اور دریا ہوں، وہاں شجر کاری سرکاری طور پر ہونی چاہیے۔ سوات کے تمام پہاڑوں پر ہرے بھرے جنگل لگانا چاہئیں کہ صاف پانی اور ہوا سے بیماریاں دور بھاگتی ہیں۔ جب پانی صاف نہ ہو، ہوا صاف نہ ہو، تو بیماریاں پاؤں جمادیتی ہیں۔
قارئین کرام! ہم خوشحالی لاسکتے ہیں۔ ہم بیماریاں بھگا سکتے ہیں۔ ہم وافر مقدار میں اناج اُگا سکتے ہیں۔ بہ شرط یہ کہ اہل سوات کو سرکار صاف پانی اور ہوا کی ضمانت دے۔ یہ بلدہ مینگورہ خوڑ کی جو صفائی کررہی ہے۔ یہ سست روی کی شکار ہے۔ اس کے لیے خوڑ میں جگہ جگہ بھاری مشینری سے کام لینا چاہیے۔ خاک روب بے چارہ خوڑ کو کب تک صاف کرتا پھرے گا؟
780 total views, no views today


