سوات قدرتی نظاروں کی سرزمین ہے۔ یہ قدیم تہذیبوں، ثقافتوں اور تاریخ کا گہوارہ رہی ہے۔ آج بھی سوات کے کونے کونے میں قدیم تاریخی آثار اس کے شان دار ماضی کی درخشندہ تاریخ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ سوات میں کئی تہذیبیں پھلی پھولیں اور عروج کے بعد زوال کی تاریکیوں میں گم ہوئیں لیکن بدھ مت کے قدیم تہذیبی اور مذہبی آثار سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں سال قبل بدھ مذہب کے ماننے والوں نے اس سرزمین کو ایک نئی شناخت دی تھی اور اسی شناخت کے آثار آج بھی سوات میں آثارِ قدیمہ کی شکل میں اپنی تاریخی عظمت کی کہانیاں سناتے ہیں۔ بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے آج بھی سوات ایک متبرک اور غیرمعمولی طور پر اہم خطہ ہے۔ یہاں کی سماجی زندگی میں آج بھی بدھ مت کے بطن سے جنم لینے والی گندھارا تہذیب کے آثار ہمارے گھروں، مساجد اور بازاروں میں چوبی ستونوں، دروازوں اور الماریوں پر کندہ کاری اور گل کاری کی شکل میں فروزاں نظر آتے ہیں۔
فضل خالق کی انگریزی زبان میں شائع ہونے والی زیر نظر کتاب The Forgotten Holy Land of Swat The Uddiyana Kingdom: ان ہی تاریخی اور تہذیبی اقدار کی کہانیاں سناتی ہے۔ فضل نے ان تاریخی کہانیوں کو سوات بھر میں پھیلے ہوئے آثارِ قدیمہ میں کھوجنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ قدیم سلطنت اودیانہ ایک فراموش شدہ متبرک سرزمین ہے، جس کے قدیم آثار سوات میں کہاں کہاں ہیں، کس حالت میں ہیں اور عالمی ورثہ کی حیثیت سے ان آثارکے تحفظ کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟ اس نے ہمیں یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم ان قیمتی آثار کی حفاظت اور تزئین خود تو نہیں کرسکتے لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اس قیمتی تاریخی اثاثہ کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ہم اس کی حوصلہ افزائی تو ایک طرف اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ سوات میں پہلی دفعہ آثارِ قدیمہ پر عملی کام کا آغاز اٹلی کی حکومت نے پروفیسر ٹوچی کی رہنمائی میں 1955ء میں کیا تھا لیکن ہم نے اس تاریخی ورثہ کو ضائع کرنے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
سوات کے قدیم آثار پر اب تک بہت سی کتابیں شائع ہوئی ہیں لیکن پہلی دفعہ سوات سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان صحافی ان قدیم تاریخی آثار کو انگریزی زبان میں ایک منظم کتاب کی شکل میں پیش کر رہا ہے۔ اس نے خود سوات بھر میں پھیلے ہوئے آثارِ قدیمہ کا وزٹ کیا ہے، ان کے ہر پہلو کا جائزہ لیا ہے، سوات میں موجود اٹالین آرکیالوجیکل مشن کے تحت نئے دریافت ہونے والے آثار اور سوات میں چٹانوں پر موجود کندہ کاری اور پینٹنگ پر اَن تھک تحقیق کی ہے۔ اس کے علاوہ سوات میں گندھارا تہذیب نے کیسے جنم لیا، اس پر مختلف ادوار میں مختلف قوموں اور تہذیبوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور اس قدیم فن کے آثار آج سوات میں جدید شکل میں کیسے نظر آتے ہیں، یہ اور کئی دوسرے اہم موضوعات پر بھی فضل نے سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس نے ہمیں بتایا ہے کہ سوات کے قیمتی اور نادر تاریخی نوادرات کس طرح اسمگلروں کے ذریعے باہر کے ممالک میں منتقل کیے گئے۔ اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ سوات میں مذہبی انتہاپسندی نے ان قدیم تاریخی آثار پر کیسے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ فضل خالق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہم سوات میں کلچرل اور آرکیالوجیکل ٹوور ازم کو کیسے پروموٹ کرسکتے ہیں اور اس سے کیا فواید حاصل کرسکتے ہیں۔ غرض The Forgotten Holy Land of Swat The Uddiyana Kingdom: سوات کے آثارِ قدیمہ پر ایک ایسی تحقیقی کتاب ہے جس کے ذریعے فضل نے اہل سوات کو سوات کی قدیم تاریخی حیثیت سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے اور انھیں یہ بتایا ہے کہ سوات ایک نہایت اہم تاریخی سرزمین ہے اور اس میں بدھ مت کے قدیم آثار ایک عالمی تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں ان کی حفاظت اور انھیں سیاحوں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے عوامی اور حکومتی سطح پر ہمہ وقت کوشش کرنی چاہیے۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں آثارِ قدیمہ کی شکل میں سوات کی ایک تدریجی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے اور اس کے ذریعے سوات کی تاریخی عظمت کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ سوات سے محبت کرنے والے فضل خالق کی اس کوشش کو میں تحسین کی نظر سے دیکھتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اپنی تحریروں کے ذریعے عالمی سطح پر سوات کا ایک خوش نما اور سافٹ چہرہ پیش کرنے کے لیے کوشاں رہتاہے۔
زیر تبصرہ کتاب اسّی گرام آرٹ پیپر پر نہایت خوب صورت گِٹ اَپ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس مجلد کتاب میں سو سے زائد کلر اور سادہ تاریخی تصاویر شامل کرلی گئی ہیں جس سے کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ اس کی اشاعت کا اہتمام سوات کے مشہور اشاعتی ادارہ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز (جی ٹی روڈ مینگورہ فون: 0946-729448) نے کیا ہے۔ سوات کے ہر تعلیم یافتہ شخص کو یہ کتاب خریدنی چاہیے، تاکہ اسے معلوم ہوسکے کہ سوات کی سرزمین کس قدر قدیم تاریخی عظمت رکھتی ہے اور قدرت نے ہمیں حسین و جمیل فطری مناظر کے ساتھ ساتھ تاریخی اور تہذیبی آثار سے مملو وطن کس قدر فیاضی سے عطا فرمایا ہے۔ لیکن کیا ہم قدرت کے اس ان مول عطیہ کی کوئی قدر کرسکے ہیں؟ ہمیں اس بارے میں غور و فکر ضرور کرنا چاہیے۔
744 total views, no views today


