یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ شاہراہیں کسی بھی ملک یاعلاقے کی ترقی میں اہم کرداراداکرتی ہیں کیونکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے اورخصوصاََ سیاحت کے فروغ کیلئے یہی شاہراہیں استعمال ہوتی ہیں مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ اس وقت سوات جیسی خوبصورت اورقدرتی حسن سے مال وادی میں اس اہم ضرورت یعنی شاہراہوں کی حالت اس قدر ابترہے کہ انہیں شاہراہیں کہنا شاہراہوں کی توہین سے محسوس ہوتی ہے اوراوپرسے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل بڑ ی آسانی کے ساتھ رہی سہی کسرپوری کررہے ہیں۔
ایک عرصہ سے سوات کے مرکزی شہرمینگورہ سمیت ضلع بھر کی بدحال سڑکوں پر کھلے عام ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ،یہاں پر گاڑیوں کی بہتات،ہراہم شاہراہ پر ہتھ ریڑھیوں کا قبضہ،شہر کے وسط میں بھاری گاڑیوں کی لوڈنگ ان لوڈنگ اورٹریفک قواعدوضوابط سے ناواقف ڈرائیوروں کی غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک مسائل اورعوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ روزانہ ٹریفک کے جان لیواحادثات بھی رونما ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ شہر بھر میں ڈرائیوروں نے غیرقانونی پارکنگ قائم کررکھے ہیں جہاں پر دن بھر گاڑیاں کھڑی نظر آتی ہیں اورخصوصاََ مین بازار،نشاط چوک،گرین چوک،حاجی باباچوک کو تو مستقل طورپرغیرقانونی پارکنگ میں تبدیل کردیا گیا ،شہر کی غیرکشادہ اوربدحال سڑکوں پر ہزاروں کی تعدادمیں گاڑیاں نظرآرہی ہیں جبکہ ہروقت یہاں پربھاری گاڑیوں کی لوڈنگ ان لوڈنگ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جس سے ٹریفک نظام میں خلل پڑرہا ہے اس کے علاوہ ہتھ ریڑھیوں اوررکشوں کی وجہ سے ہر اہم شاہراہ پر گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے جس کے سبب پیدل چلنے والوں سمیت دکاندارو ں کو بھی شدید پریشانی کا سامنارہتا ہے جبکہ اس صورتحا ل کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل اورمشکلات بھی جنم لے رہے ہیں۔
ریاستی دور میں صرف چند گاڑیوں کیلئے بنائی گئیں سڑکوں پر آج لاتعداد گاڑیاں نظر آتی ہیں جن میں چوری اورغیررجسٹرڈ گاڑیاں بھی شامل ہیں،گاڑیوں کی اس بہتات کی وجہ سے شاہراہوں اورچوراہوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں جس کے سبب چندمنٹ کا راستہ گھنٹو ں میں طے کرنا پڑتاہے جس سے لوگوں کو پریشانیاں درپیش رہتی ہیں،ہروقت ٹریفک جام کی وجہ سے بیشترڈرائیوروں نے گاڑیوں کا رخ گلی کوچوں کی طرف موڑ دیا اورچینہ مارکیٹ،محلہ لنڈیکس کو رکشہ ڈرائیور بائی پاس کے طورپر استعمال کرنے لگے ہیں جس سے ان محلوں کے مکینوں کے دن کا چین اورراتوں کی بیندیں حرام ہوگئی ہیں۔
یہاں پر ٹریفک مسئلہ روزبروزسنگین صورت اختیار کررہا ہے مگرحکومت یا دیگر ذمہ دارحکام کی جانب سے اس سلسلے میں کسی قسم کا اقدام سامنے نہیں آرہا ہے اس کے علاوہ بدحال سڑکوں کی ازسرنو تعمیرومرمت کیلئے بھی حکومت کوئی لائحہ عمل وضع نہیں کررہی ہے بلہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلارہی ہے جو ایک قابل افسوس امر ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت خاموشی کا روزہ توڑتے ہوئے سوات بھر کی بدحال سڑکوں کی ازسرنو تعمیرومرمت سمیت یہاں پر سنگین ہوتا ہوا ٹریفک کا مسئلہ حل کرانے کیلئے ایک موثر حکمت عملی وضع کرے اورایک جامع منصوبہ بندی کے تحت ان مسائل کو دور کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے،اس سے اگر ایک طر ف سڑکوں کی بدحالی دور ہونے سمیت ٹریفک کا پہیہ رواں دواں ہوگا تو دوسری طرف عوامی مشکلات میں بھی کمی واقع ہوسکے گی۔
700 total views, no views today


