سنا ہے زمانہ قدم میں لوگ اونٹوں اورگھوڑوں پر سواری کیا کرتے تھے اوران کا یہ سفربعض اوقات دنوں پر محیط ہوتاتھامگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ارتقاء کرتارہا تو یہ سواری بھی ترقی کی دوڑمیں کسی سے پیچھے نہیں رہی بلکہ آگے جاکر اس کے پھیروں اورٹانگوں نے ٹائرو ں کی جگہ لے لی جیسے لاری ،سوزوکی،کار،ڈاٹسن وغیرہ مگر یہ چیزیں انفرادی طورپر استعمال ہوتی تھیں کیونکہ انہیں استعمال کرنے والے زیادہ ترصاحب ثروت لوگ ہوتے تھے لہٰذہ غریب لوگ اس سے استعفادہ نہیں کرسکتے تھے اوروہ سفر کیلئے پھر بھی وہی اونٹ اورگھوڑے استعمال کرتے تھے مگربعدمیں سفرکی دنیا میں ایک ایسی سوار ی متعارف کرائی گئی جسے ہرکوئی شخص کسی بھی وقت استعمال کرسکتاتھا اورآج بھی استعمال کرسکتے ہیںیہی وجہ ہے کہ اس سواری کی تعدادمسلسل بڑھتی جارہی ہے یہاں تک کہ اب یہ سواری لوگوں کیلئے سوہان روح بن چکی ہے،یہ سواری جس پر اندراورباہرلکھے گئے اشعار پر اگر ایک طرف کسی دل جلے شاعر کے دیوان کا گمان گزرتاہے تو دوسری طرف اس پر بنائے گئے فلموں کے پوسٹر اورایکٹروں کی بڑی بڑی تصویریں دیکھ کرکسی تھیٹریعنی چلتے پھرتے سنیما کا گمان ہوتا ہے ، ہمار ااشارہ اس سواری کی طرف ہے جو سڑکوں کے ساتھ ساتھ آج کل گلی کوچوں میں بھی گھومتی پھرتی نظرآرہی ہے جس کے چلانے والوں میں زیادہ تر یاتوکم عمر بچے اوریاٹریفک قواعدوضوابط سے یکسرناواقف غیرلائسنس یافتہ افرادشامل ہیںیہی وجہ ہے کہ زیادہ تر یہی سواری روڈحادثات کا شکارہوجاتی ہے،شروع شروع میں جب تین ٹائروں والی یہ سواری مینگورہ شہر میںآگئی تو اس کا اسٹیئرنگ کار کے اسٹیئرنگ کی طرح گول تھا مگر بعدمیں اس گول اسٹیئرنگ کی جگہ لمبوترے اسٹیئرنگ لے لی اوراس سواری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی دیکھا دیکھی مینگورہ شہرمیں اس کی فیکٹریاں کھل گئیں جہاں پر دھڑادھڑتین پہیوں اورلمبوترے اسٹیئرنگ والی یہ سواریاں بنناشروع ہوگئیں جنہیں بے روزگارلوگ خریدکرذریعہ معاش بنانے لگے ،حکومت اورانتظامیہ کی جانب سے اس طرف پر سے خاموشی کی وجہ سے اس سواری جسے حرف عام میں رکشہ کہا جاتا ہے کی تعداداس قدربڑھ گئی کہ ریاستی دورمیں صرف چند گاڑیوں کیلئے بنائی گئیں سڑکوں پر زیادہ تر بلکہ ہزاروں کی تعدادمیں یہی رکشے چلتے پھرتے نظر آنے لگے یہی وجہ ہے کہ اب تو مینگورہ شہر کو رکشوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے جہاں پر رجسٹرڈرکشوں کی تعدادتین ہزارکے لگ بھگ ہے مگرشومئی قسمت اس وقت یہاں پر ٹھارہ ہزارسے زائد رکشے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں جس میں زیادہ تر نان کسٹم پیڈاورغیررجسٹرڈ رکشوں کے ساتھ ساتھ چوری کے رکشے بھی شامل ہیں جوٹریفک مسائل میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہے ہیں، اب تو ڈرائیوروں نے اپنی سہولت کی خاطر سڑکوں کے ساتھ ساتھ رکشوں کا رخ گلی کوچوں کی طرف موڑدیا ہے جس کے سبب پیدل چلنے والوں کوشدیدمشکلات اورپریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،رکشہ ڈرائیور سواریوں کواپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے پریشرہارن اورسائزن کابھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں اسی طرح ان رکشوں میں پلیئربھی نصب ہیں جس پر وقت بے وقت انڈیا کے ہنگامہ خیزگانے چلائے جاتے ہیں اورمساجد اورمقبروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے بھی ان رکشوں سے گانوں کی آوازیں آتی ہیں،اس کے علاوہ ان رکشوں کے اندر غیر ضروری شیشے بھی نظر آتے ہیں جن میں ڈرائیوروں پیچھے بیٹھی سواروں سے تانک جھانک کرتے ہیں اوربعض اوقات ڈرائیوراس تانک جھانک میں اس قدر مگن ہوجاتا ہے کہ انہیں سامنے سے آنے والی گاڑی کی طرف دھیان ہی نہیں رہتا اورنتیجے میں ایساالمناک حادثہ رونما ہوجاتا ہے جو کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جاتا ہے ، تین پہیوں کی غیرمتوازن اس سواری میں بیٹھ کر ویسے بھی لوگوں کو خوف محسوس ہوتا ہے مگر یہ خوف شدیدڈرمیں اس وقت تبدیل ہوجا تا ہے جس وقت ڈرائیورتیزرفتاری کامظاہرہ شروع کرنے لگتا ہے ،سواری کی جانب سے آہستہ چلو کالفظ سن کر ڈرائیورسپیڈاس قدربڑھادیتا ہے جیسے ابھی یہ رکشہ زمین سے اڑکر ہوامیں تحلیل ہوجائے گااوردیگر کے علاوہ کوئی مریض اس رکشے میں بیٹھاتو اس کا تو خداہی حافظ،،ہچکولے کھاتے رکشے میں بیٹھے بہت سے مریضوں کے اپریشن کے ٹانکے بھی کھل جاتے ہیں جنہیں گھر گھر لے جانے کی بجائے دوبارہ ہسپتال لے جانا پڑتاہے،مینگورہ شہرمیں جگہ جگہ رکشوں کے سٹینڈقائم ہیں جہاں سے رکشے میں بیٹھ کرآس پاس کے تمام تر علاقوں تک پہنچاجاسکتا ہے یہ الگ بات کہ سواری کو مجبوراََ راستے بھرڈرائیورکی مرضی کے مطابق ہنگامہ خیزگانے سنناپڑتے ہیں،اسی طرح ان رکشوں پرخان بیا نشہ دے،ھلہ مورھغہ لیونے بیا راغے،پہ سترگوڑوند شے لاڑے ورتہ توکہ،باباتہ ایزی لوڈوکہ،گل مرجان سے نہ منی اوراسی طرح کے دیگر بے ہودہ اوربے مقصد فقرے ،جملے اوراشعارلکھے نظر آتے ہیں، ٹریفک قوانین اورقواعدوضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ رکشہ ڈرائیور کرایہ بھی من پسند لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ڈرائیوروں اورسواریوں کے مابین کرایہ کے معاملہ پر توتومیں میں ہوتی ہے اوربعض اوقات یہ معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتا ہے ،ایک رکشہ ڈرائیور نے پوچھنے پر بتایا کہ وہ میٹر ک پاس ہے کافی تگ ودوکے باوجود کو ئی کام نہیں ملاتو رکشہ چلانا شروع کردیا ،ایک اورڈرائیور نے بتایا کہ اس نے گریجویٹ کیا ہے بہت سے سرکاری محکموں میں درخواستیں دیں مگر کہیں بھی نوکری نہیں ملی تو رکشہ کو ذریعہ معاش بنا لیا ،اسی طرح ایک ڈرائیور نے کہاکہ دن کورکشہ چلاکر گزارہ کرتا ہے مگر اس کے برعکس ایک ڈرائیور نے بتایاکہ وہ دن کو آرام کرتاہے اوررات کو رکشہ چلاتا ہے کیونکہ رات کو سواریاں منزل مقصودپر پہنچنے کیلئے بآسانی ڈبل کرایہ بھی دیتی ہیں جس سے اسے اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے ،بعض ڈرائیورٹریفک اہلکاروں کے نامناسب روئے سے نالاں نظر آئے تاہم ٹریفک کے ایک ذمہ دار اہلکار نے پوچھنے پر بتایا کہ قانون سب کیلئے ہے ،غلطی چاہئے رکشہ ڈرائیور کرے یا کوئی کار والا کارروائی سب کے خلاف ہوتی ہے اس میں کسی کے ساتھ رورعایت نہیں کی جاتی،
جی ہاں رکشہ ہی وہ سواری ہے جس نے اونٹوں اورگھوڑوں کی جگہ لے لی ہے مگریہ گھاس کی بجائے پیٹرول اوراب گیس سے چلتی ہے اوریہی رکشہ اگرایک طرف عوام کیلئے بیک وقت سہولت اورمصیبت تو ڈرائیوروں کیلئے سونے کی چڑیابن گئی ہے تودوسری جانب سیاسی لوگ اس پراپنی بڑی بڑی تصوریں اوراپنی متعلقہ پارٹی کے جھنڈے لگاکر ایڈورڈٹائزمنٹ کا ذریعہ بنارہے ہیں۔
632 total views, no views today


