بریکوٹ ، بریکوٹ بازار اور گرد نواح میں چوروں کی وارداتوں میں اضافے کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔لوگ شام ہوتے ہی اپنے گھروں میں محصور ہوجاتے ہیں ۔ابھی تک درجنوں چوری کے وادات واقعات ہو چکے ہیں تاہم تادم تحریر پولیس چوروں کا کوئی سراغ لگانے تا حال کامیاب نہ ہوسکی ۔باخبر ذرائع کے مطابق علاقے کے تھانوں اور چوکیوں میں پولیس نفری نہ ہونے کے برابر ہے ۔تفصیلات کے مطابق تحصیل بریکوٹ کے مختلف علاقوں اور بازاروں میں کئی ماہ سے چوری کے کئی دلیرانہ وارداتیں ہوچکی ہیں ۔یہ چوری کے وارداتیں بریکوٹ بازار اور اردگرد کے مضافاتی علاقوں میں ہوئی ہیں ۔ان چوری کی وارداتوں میں ایک واردات گذشتہ ہفتے ہوئی جس میں چوروں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بریکوٹ کے مشہور کاروباری شخصیت عبدالوہاب کے گھر میں نصف شب کو چور داخل ہوگئے جنہوں نے پورے گھرانے کو یرغمال بنانے کی کوشش کی مگرمذاحمت کرکے ایک چور کو پکڑ لیا اور اس سے اسلحہ بھی چھین لیا مگر ان کی تعداد تین ہو نے کی وجہ سے وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور اسی دوران چور کی فائرنگ سے عبدالوہاب زخمی بھی ہوگیا ۔اسی طرح دیگر بھی درجنوں کی تعداد میں بریکوٹ بازاراور علاقے میں چوریاں ہوچکی ہیں مگر ابھی تک پولیس کو اصل مجرم کو پکڑنے میں کامیابی نصیب نہ ہوسکی ۔علاقے کے سماجی حلقوں نے پولیس کے اعلیٰ احکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چوری کے وارداتوں کے روک تھام میں غالیگے پولیس اسٹیشن ،بریکوٹ چوکی کے علاوہ دیگر چوکیوں میں پولیس کی نفری میں اضافہ کرے کیونکہ یہاں سے پولیس اہلکاروں کے تبادلوں کی وجہ سے پولیس نفری کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔پولیس نفری کو فوری طور پر بڑھایاجائے ورنہ بصورت دیگر احتجاج سے دریغ نہیں کریں گے ۔
870 total views, no views today


