سوات (سوات نیوز) سوات پولیس کا سینئر صحافیوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج، ڈویژن بھر کے صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئے، ڈی آئی جی ملاکنڈ نے انکوائری کا حکم دے دیا، ایس پی انوسٹی گیشن کو غیر جانبدار تحقیقات کرنے کی ہدایت، تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات دلاور بنگش کی ایما پر جرائم پیشہ شخص قوت عرف پراڈو کے مدعیت میں سوات پریس کلب کے تین سینئر صحافیوں سوات پریس کلب کے جنرل سیکرٹری اور 24نیوز کے سبحان اللہ، سوات الیکٹرانک میڈیا ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور ایکسپریس نیوز کے شیراز خان اور سینئر نائب صدر جیونیوز کے کیمرہ مین محمد زبیر کے خلاف 25Dٹیلیگرام ایکٹ,500,506کے مقدمہ درج کرلیا، اس سلسلے میں سوات پریس کلب، یونین آف جرنلسٹ اور الیکٹرانک میڈیاایسو سی ایشن کے عہدیداروں کا اجلاس ہوا جس میں چیف آرگنائزر غلام فاروق، پریس کلب کے چیئرمین محبوب علی، یونین آف جرنلسٹس کے صدر فضل رحیم خان، الیکٹرانک میڈیا ایسو سی ایشن کے صدر شہزاد عالم اور سابق چیئرمین پریس کلب رشید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے سوات پولیس کی جانب سے جھوٹا مقدمہ آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ او چھے ہتھکنڈوں سے صحافیوں کو زدکوب یا دبایا نہیں کیا جاسکتا،یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا اس طرح کے واقعات صحافیوں کے لئے نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی جھوٹے ایف آئی آر سے صحافیوں کو جھکایا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ سوات کے صحافیوں نے کشیدہ صورتحال میں بھی سرینڈر نہیں کیا اور 5صحافیوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے، اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اس سلسلے میں اپنا کرادار ادا کریں اور ضلعی پولیس آفیسر کے خلاف کاروائی کریں، بعد ازاں سوات کے سینئر صحافیوں نے ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن عبدالغفور افریدی سے ملاقات کرکے صورتحال سے اگاہ کیا، جس پر انہوں نے ایس پی انوسٹی گیشن کو غیر جانبدارنہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پر سوات کے صحافیوں نے ڈی آئی جی عبدالغفور افریدی کا شکریہ ادا کیا، سوات پریس کلب کے سینئر صحافیوں کے خلاف مقدمے پر ملاکنڈ ڈویژن کے صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
1,029 total views, no views today



