مینگورہ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری واجد علی خان نے کہا ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت نے 40 سال بعد بر صغیر پاک و ہند کے عظیم رہنما خان عبدالغفار خان کے فلسفہ عدم تشدد کو اپنا یا اگر 40 سال پہلے اس فلسفے پر عمل درآمد کیا جاتا تو انسانی جانوں کا بے دریغ ضیاع نہیں ہوتا ،مرکزی اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں پختونوں کے مشکلات سے دوچار کردیا ہے ، تبدیلی کے نعرے لگانے والوں نے دوسال میں کوئی تبدیلی نہیں لائی۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے سوات پریس کلب میں خان عبدالغفار خان کی 27 ویں اور خان عبدالولی خان کی آٹھویں برسی کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ،
اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی ضلع سوات کے قائمقام صدر خواجہ محمد خان ، ضلعی جنرل سیکرٹری سابق ایم پی اے رحمت علی خان ، سابق ایم پی اے وقار خان نے بھی خطاب کیا ، مقررین نے کہا کہ ساری پختون قوم باچاخان کے کردار اور افکار پر فخر کر تی ہے ، 40 سال قبل باچاخان نے پشنگوئی کی تھی کہ افغانستان جنگ جہاد نہیں بلکہ امریکہ اور روس کے مفادات کی جنگ ہے ، آ ج اس فلسفے کو دنیا تسلیم کررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے د عویدار حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پہلے سال بجٹ کے85 ارب روپے ضائع ہوئے جبکہ اس سال بھی کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں آرہے ، انہوں نے کہا کہ بجلی و گیس بحران کے بعد پاکستان کے عوام نے پہلی مرتبہ پیٹرول کا بحران دیکھ لیا جو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے لہٰذا دونوں حکومتیں اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے ، انہوں
نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی پانچ سالہ دور اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کرائے ہیں جبکہ ملک و قوم کی بقاء کے لئے بے تحاشہ قربانیاں دئیں ہیں ، آنے والا دور بھی عوامی نیشنل پارٹی اور پختونوں کا ہے ، برسی تقریب کے دوران شاعر ظفر علی ناز نے اپنے شعروں کے ذریعے شرکاء کو گرمایا جبکہ پی ایس ایف اور نیشنل یوتھ کے جوانوں نے شدید نعرہ بازی کی ۔
311 total views, no views today


