تحریر:انجینئر عارف روان
اگر امیر مقام وزیر اعلىٰ ہوتے تو کیا ہوتا؟؟
اگر امیر مقام وزیراعلیٰ ہوتے تو آج یہ نوبت تک نہ آتی کہ منگورہ گریڈ اسطرح آگ کے شعلوں کے نظر ہوجاتا کیونکہ۔
امیر مقام کے شروع کئے گئے بجلی کے مد میں منصوبے آج بغض کا شکار نہ ہوتے اور مٹہ، بانڈئ ، کبل میں گریڈ لگوانے کا منصوبہ مکمل ہوچکا ہوتا۔
لیکن پھر بھی!
اگر کوئ قدرتی آفت کیوجہ سے گریڈ کو آگ لگ جاتی یا کوئ اور ایسا حادثہ ہوتا تو آج امیر مقام وزیراعلىٰ ہاؤس میں بیٹھ کر ہدایات نہ دیتے، آج ہمارے سوات کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اسلام آباد اور پشاور میں محصور نہ ہوتے کیونکہ اصل اور اناڑی میں یہی فرق ہے کہ آج
امیر مقام عوام کے درمیان ہوتے دن رات گریڈ سٹیشن میں نہ صرف عملے کی نگرانی میں مصروف رہتے بلکہ اپنی تمام مشینری کو بروئے کار لاتے ہوئے دن رات ایک کرکے وسائل کی فراہمی ممکن بناتے اور ایمرجنسی بنیادوں پر گھنٹوں میں ہی اس ناممکن کو ممکن بناتے ۔
جسطرح!
جب اس سے پہلے مالاکنڈ ڈویژن مردان گریڈ کیساتھ منسلک تھا اور پورا مالاکنڈ ڈویژن مردان گریڈ میں آگ لگنے کیوجہ سے تاریکی میں ڈوبا تھا تب اس مٹی کا واحد خیر خواہ بغیر کسی مینڈیٹ کے شدید ترین گرمی میں مردان گریڈ سٹیشن پر عملے اور سٹاف کے شانہ بشانہ انکو وسائل کی فراہمی اور نگرانی کیلئے موجود تھے جس نیک نیتی اور خلوص سے انہوں نے دن رات ایک کرکے محدود ترین ٹائم میں بجلی کی بحالی کو ممکن بنایا تھا۔
اور بجلی بحالی کے بعد گھر نہیں گئے بلکہ وہی سے انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن کو مردان گریڈ سے الگ کرنے کیلئے منصوبے پہ کام کا آغاذ کیا اور قلیل ترین مدت میں عملاً چکدرہ کے مقام پر 220 KVA کا الگ گریڈ کا قیام ممکن بنایا۔
کیا اب بھی سوات کے غیور عوام کسی دھوکہ میں آئیگی ؟؟
کیا اگلی دفعہ بھی صحیح اور غلط کا پہچان نہیں کرپائیگی؟؟
نہیں اس دفعہ سوات بلکہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام نہ کسی دھوکے میں آئینگے اور نا ہی اندھی تقلید سے اپنے مستقبل پر ایک اور کاری ضرب لگائنگے انشآءاللہ
1,181 total views, no views today



