احساس اور ذمہ داری دونوں بہت اہم الفاظ ہیں، جن کے عملی مظاہرہ سے ہم بہ حیثیت فرد اور قوم دونوں عاری ہیں۔ یہ دونوں عمل، تعلیم عام کرنے سے بھی انسان میں پیدا ہوتے ہیں لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ فرد اور قوم کی تربیت بھی ضروری ہے۔ اللہ مرحوم خان عبدالغفار خان کو بخشے۔ وہ ہر وقت فرمایا کرتے تھے کہ’’ اے میری قوم! یہ یاد رکھو کہ تعلیم بغیر تربیت کے قوموں کو تباہ کردیتی ہے۔‘‘ اس وقت یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر تھی اور جب بعد میں ہم نے اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگوں کو عجیب اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا، تو ہمیں بابا کی بات سمجھ آگئی۔
ہمارا نظام تعلیم ایک انسان سے پیسے کمانے کی مشین تو بنادیتا ہے لیکن اسے انسانیت سے دور لے جاتا ہے۔ جس انسان کو اپنی ذمہ داری کا پتہ نہ ہو، اپنے اور دوسروں کے حقوق کا علم نہ ہو، جو حساس نہ ہو، جس کا ضمیر اور احساس مر چکا ہو، تو اُس میں احساس ذمہ داری کہاں سے آئے گی؟ ہم بہ حیثیت ایک فرد جتنا زندہ ہیں، اتنا ہی بہ حیثیت قوم مرچکے ہیں۔ ہم جتنا بہ حیثیت ایک فرد کے طاقت ور ہیں، اتنا ہی مجموعی طور پر کم زور ہیں۔ اپنے مفادات کا دھن سر پر سوار اندھا دھند بھاگے جا رہے ہیں، مقصد کا علم نہ منزل کا پتا، ہم برسوں سے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ بہ حیثیت قوم ہم تضادات کے شکار ہیں۔ کنفیوژڈ ہیں۔ ہم آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ ہم کیا ہیں؟ ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہمیں کس راستہ سے اور کہاں جانا ہے؟ ہم مذہبی لحاظ سے کہاں کھڑے ہیں؟ جمہوریت اچھی ہے کہ آمریت؟ ہماری قومی زبان اُردو ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک انگریزی بولنے کی کوشش کرتا ہے۔ سرکاری زبان انگریزی ہے۔ انگریزی بولنے اور لکھنے کو ہر جگہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمارا قومی لباس شلوار قمیص ہے لیکن ہمارا حکم ران طبقہ اور ہماری اشرافیہ کوٹ پتلون پہننے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں پتلون پہننے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکولوں میں بہ طور یونی فارم پتلون اور کوٹ کا استعمال زیادہ ہے۔ ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے لیکن اوڑھنا بچھونا کرکٹ ہے۔ کرکٹ تو اب ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ محل سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والوں تک کرکٹ کے شیدائی ہیں۔ کرکٹ کی ہر گیند پر گھنٹوں تبصرے اور بحث ہوتی رہتی ہے۔ کوئی سڑک، کوئی راستہ، کوئی گلی، کوئی تفریحی مقام ایسا نہیں جہاں دو، تین لڑکے گیند اور بلے کے ساتھ کھڑے نہ ہوں۔
عام اخلاقی اقدار سے ہم کوسوں دور ہیں۔ ہم بس، جہاز اور ریل میں اپنی نشست پر بیٹھ کر جلد سیگریٹ سلگا لیتے ہیں۔ بغیر یہ سوچے سمجھے کہ ہماری ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی سواری کو سیگریٹ کا دھواں کہیں ناگوار تو نہیں۔ ہم اپنی گاڑی کو دیگر گاڑیوں کے بالکل پیچھے اس طرح پارک کریں گے کہ دیگر لوگ اپنی گاڑی نکالنے کے لیے گھنٹوں ہمارا انتظار کریں گے۔ کینو، مالٹا یا کیلا کھاتے وقت راستہ ہی میں اس کے چھلکے پھینک کر ہم گندگی پھیلانے میں ہر وقت مصروف دکھائی دیں گے۔ سڑک اور راستہ کے کنارے رفع حاجت کے لیے بیٹھتے ہیں اور فارغ ہونے کے بعد بعد فوراً کھڑے ہوکر راستہ کی طرف رُخ کرکے شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر عجیب و غریب حرکت کرتے رہتے ہیں۔ یہ عجیب تماشا پوری دنیا میں کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس وقت ہماری بے وقوفی کی انتہا ہوتی ہے جب راستہ سے خواتین گزر رہی ہوتی ہیں اور ہم یہ عمل دہراتے وقت ان کے سراپے کا جایزہ بھی لے رہے ہوتے ہیں۔
ہم گاڑی میں سوار ہونے کے لیے باقاعدہ ایک نشست کا کرایہ ادا کرتے ہیں لیکن پھر گاڑی کی چھت پر بیٹھنے اور پائیدان پر کھڑے ہوکر سفر کرنے کا لطف اُٹھاتے ہیں۔ �آئے دن حادثے ہوتے ہیں۔ تھوک کے حساب سے چھتوں سے گرتے ہیں، بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگ کر کویلہ بن جاتے ہیں، گاڑی کے ذرا سے جھٹکے یا زور سے بریک لگنے کی وجہ سے پائیدان سے گر کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں لیکن مجال ہے کہ عادت میں تبدیلی آئے۔ جس انسان کو اپنی قیمتی زندگی کی پروا نہ ہو اور جس میں گاڑی کے اندر آرام سے بیٹھ کر سفر کرنے کا شعور نہ ہو، تو وہ بھلا دوسروں کی خواہشات اور حقوق کا کیا احساس کرے گا؟
ہم نے روز اول سے اُصولوں، اجتماعی سوچ اور اخلاقی اقدار کو پروان نہیں چھڑایا۔ ہم نے شخصیات کو پروان چڑھایا۔ ہمارے تمام ادارے اقدار، اجتماعی سوچ اور فکر کی بجائے شخصیات کی آب یاری کرتے رہے۔ ادارے، شخصیات کے محتاج رہے اور کسی شخصیت ہی کے لیے استعمال ہوتے رہے۔ ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ کے لیے اجتماعی سوچ کے گلے پر چھری پھیری گئی۔ اخلاقی اقدار کی بلی چڑھائی گئی۔ قومی اور ملکی مفادات پر سودا بازی کی گئی۔ قومی غیرت، حمیت اور خود داری کا قتل عام کیا گیا۔ احترام اور عزت کا جنازہ نکالا گیا۔ صبر، برداشت اور رواداری کا گلہ گھونٹا گیا۔ مذہب، مسلک، نسل، زبان اور قومیت کو اپنے ذاتی اقتدار اور کرسی بچانے کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا۔ نظریوں اور عقیدوں کا کاروبار کیاگیا۔ ایمان اور ضمیر کے سودا کیا گیا۔ جذبات کا خون کیا گیا۔ احساسات کا ذاتیات کی آڑ میں خون کیا گیا۔ وہ احساسات جو معمولی بے انصافی، زیادتی سے برانگیختہ ہوکرمعاشرہ کو جھنجھوڑتے ہیں اپنی معمولی لو سے پورے سماج میں حرارت پیدا کرتے ہیں، ایسی حرارت جو ظلم اور بے انصافی کے سنگلاخ چٹانوں کو موم کی طرح پگھلا دے۔
سمجھ نہیں آتی کہ وہ احساس اب کہاں سے لاؤں، جو انسان اور انسانیت کی روح کو جھنجھوڑ کر بیدار کرسکے اور اپنی حقیقی اور بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہوسکے۔
920 total views, no views today


