خوازہ خیلہ(سوات نیوز) خوازہ خیلہ میں چند روز پہلے اسالہ کے مقام پر محمد مالک نامی شخص نے قومی نہر کے اوپر غیر قانونی پل تعمیر کرنے کوشش کی تھی جس پر علاقہ مشران نے ان کو مہذب طریقے سے سمجھا یا کہ اس نہر پرنئے تجاوزات بنانے پر مکمل پا بندی ہے، اسلئے اپنے ضرورت کیلئے عارضی پل بناکر استعمال کریں، کیونکہ نہر کے صفائی چونکہ ایکسویٹر کے ذریعے ہوتا ہے اسلئے مزید نئے پل بنانے کے وجہ سے صفائی کا عمل متاثر ہوتا ہے، لیکن مذکورہ شخص محمد مالک نے ہٹ دھرمی کا مظاہر کرتے ہوئے راتوں رات غیر قانونی پل تعمیر کیا، جس پر قومی مشران نے مشترکہ طور پر علاقے کے لوگوں کے ذریعے غیر قانونی پل کو ہٹاکر نہر کو واگزار کیا، جس پر محمد مالک نے میڈیا کے ذریعے اپنے اپ کو مظلوم بنا کر مطالبہ کیا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، انہوں نے جھوٹی بیان دے کر یہاں کے مقامی باشندہ جو کہ چارباغ ٹی ایم او ہے پر الزام لگایا کہ انہوں نے میرا پل مسما ر کیا ہے،جو کہ اپنے جھوٹی خبر کو تقویت دینے کا ناکام کوشش کررہاہے، اس ردعمل میں کل چالیار، ڈوپ، نویکلے کے علاقہ مشران محمد علی، محمد زاہد، حسن زیب خان، میاں سید بلال، محمد شیر علی خان، ازاد بخت باچا، خان گلے، عثمان غنی، نوشیری خان ودیگر نے مشترکہ طور میڈیا کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ ”اسالہ ولہ“ ایک واحد قومی نہر ہے جو شین، کھنڈرو، فرحت آباد،گل ڈھیری، کوٹنئی، اسالہ بالا، کوزہ اسالہ، نویکلے، ڈوپ، چالیار سے ہوتے ہوئے ٹیٹا بٹ، ٹھیکداری خوازہ خیلہ تک کے زمینوں اور باغات کو سیراب کرتی ہے، علاقہ مشران نے کہا کہ یہ نہر ہمارے ابا و اجداد نے اپنی محنت اور کوششوں سے بنایا ہے،اور اس کی صفائی اور تعمیر و مرمت اور نگرانی کیلئے ہر گاؤں میں باقاعدہ کمیٹیاں موجود ہے،انہوں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شخص محمد مالک ہمیں یہ بتائے کہ انہوں نے قومی نہر پر کس قانون کے تحت یہ پل بنایا تھا،علاقہ مشران نے کہا کہ نئے تجاوزات بنانے کیلئے کسی کو اجازت نہیں دینگے، جبکہ پرانے تجاوزات ہٹانے کیلئے بھی انتظامیہ اور سیاسی لوگ اپنا کردار ادا کرکے قومی نہر کو تباہی سے بچا کر قوم کی زمینوں کو بنجر ہونے سے بچا یا جائے۔ علاقہ مشران نے اسسٹنٹ کمشنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو سننے کے بغیر فرد واحد کا ساتھ دیکر قوم کی بے عزتی اور حق تلفی کی ہے، انہوں نے کہا کہ اس قومی نہر کے متعلق ہمارے ساتھ محکمہ بندوبست اور ریونیو ریکارڈ کے کاپیاں موجود ہے، اور 1998 ء میں ڈی سی سوات نے ایک فیصلہ دیا تھاکہ اس نہر پر تجاوزات پر پابندی ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزادی جائے گی، جس پر شین سے لیکر خوازہ خیلہ تکہ تمام قوموں کے مشران متفق ہوچکے تھے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ کاغذات اور فیصلے کے مطابق قومی نہر سے تمام تجاوزات ہٹائی جائے، اور قوم کو لڑانے سے بچایا جائے، علاقہ مشران نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے بگاڑنے کی کوشش کی تو تمام قومیں سڑکوں پر آئے گی جس کی ساری ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، قومی مشران نے وزیر اعلی ٰ محمود خان، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان، ایم پی اے سردار خان، کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اور ڈی سی سوات سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اس نہر سے تمام تجاوزات ہٹاکر ریونیو ریکارڈ کے مطابق اصل حالت میں لائی جائے۔
888 total views, no views today



