سانحہ براول میں کے بعد کچھ لوگوں نے سیاسی فوائد کی خاطر ، عنایت اللہ خان اور ان کے خاندان کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے کہ وہ مظلوم لوگوں کے خلاف مجرموں کی حمایت کر رہے ہیں۔
ریکارڈ کو سیدھا کرنے کے خاطر یہ ضروری ہے کہ دیر اور براول کے لوگوں کے لیے عنایت اللہ اور ان کے خاندان کے کردار کو اجاگر کیا جایے
عنایت اللہ خان کا خاندان 1960 سے سیاست میں ہے۔ شاید نوجوان نسل کو انکے والد بزر جمہر جو کہ براول ملا کے نام سے مشہور تھا، کچھ زیادہ علم نہ ہو ، لیکن بڑے اور بزرگ لوگ اس کے سیاسی کردار اور عوامی خدمت سے واقف ہیں جو ہمیشہ غریبوں اور مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ وہ ایک بہادر اور شیر دل رہنما تھے لیکن اس نے کبھی اپنی بہادری کو زمینوں اور دولت پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ جن لوگوں نے براول ملا کے ساتھ سیاسی سفر شروع کیا تھا وہ اب ارب پتی ہیں ، جبکہ انہوں نے صرف اپنی آبائی زمین اپنے بیٹوں کیلیے ورثے میں چھوڑی ہے، اور بیٹوں نے بااثر پوزیشن اور عہدوں پر ہوتے بھی آباؤ اجداد کو جائیداد میں کچھ اضافہ نہں کیا۔

حاجی انور خان کے کردار سے سب واقف ہے ، جو عوامی خدمت کا مجسمہ ہیں، جسکی زندگی کا مقصد دیر اور براول کے لوگوں کی، پارٹی سیاست سے بالاتر اور بے لاگ خدمت ہیں ، جرگہ میں انصاف کرنے میں بے داغ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ابھی بھی اپنی پرانی گاڑی اپنے جیب کے خرچے سے لوگوں کے جرگوں میں شرکت کرتے ہیں اس کا حجرہ بہترین مہمان نوازی کے ساتھ دن اور رات عوام کیلئے کھلا رہتا ہے۔ اپنے غیر جانبدار کردار کی وجہ سے ، وہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہے اور پورے دیر میں انکا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ کبھی بھی کسی کیساتھ ظلم نہیں کیا ہے حتی کہ اپنی دشمنیوں کو پرامن طریقے سے حل کیا ہے ۔ پر امن اور متحمل مزاج کا مالک ہے۔ حاجی صاحب کا وجود امن کا ذریعہ ہے اور علاقے میں امن اور استحکام کا ستون ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=YZRACN1vZgc
ہر کوئی عنایت اللہ خان کی خدمات سے واقف ہے جنہوں نے کم عمری میں سیاست کا انتخاب کیا۔ بہترین تعلیمی پس منظر رکھنے کے وجہ سے 2000 میں CSS کوالیفائی کیا ، وہ CSS افسر بن سکتا تھا یا بیرون ملک جا سکتا تھا ، لیکن اس نے خاندانی روایات کے مطابق دیر کے لوگوں کی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاست کا انتخاب کیا۔ اس کے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسکیلے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔ اپنے نے انتہائی مہذب انداز میں سیاست کی ہے، اپنے سیاسی مخالفین کیساتھ شایستگی سے پش آیے ہیں ہمیشہ امن کی بات کی ہیں اور تعلیم کو فروغ دیا۔ بہت سارے غریب طلباء کی کفالت کی ہے ، وہ ہمیشہ فلاحی سرگرمیوں میں شامل رہےہیں۔
آپ نے اپنے خاندان کو غیر ضروری سیاسی مداخلت اور ٹھیکوں سے دور رکھا ہے۔ ہمشہ علاقے کی ترقی اور اتفاق پر زور دیا۔ اپوزیشن میں رہتے ہوے بھی ہر محاذ پر دیر کا مقدم لڑ رھے ہیں۔

جرائم ہمارے معاشرے کی افسوسناک حقیقت ہے ، تاہم عنایت اللہ خان اور اس کے خاندان کو مورد الزام ٹھہرانا انصاف نہیں ہے کیونکہ خاندان کا کوئی فرد کبھی بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ملا۔ جرائم کی روک تھام کسی ایک فرد یا خاندان کی نہیں بلکہ ریاست ، حکومت اور معاشرے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=xz9DxmyLsHI&t=11s
652 total views, no views today
Comments



